توانائی میں خودکفالت کیلئے بزدار حکومت کے انقلابی اقدامات

بزدار حکومت کی جانب سے بجلی کے منصوبے لگانے کے لئے دن رات کام کا آغاز ہوچکا ہے
پنجاب تھرمل پاور لمیٹڈ اور بنکوں کے کنسورشیم کے درمیان 100 ارب کی فنانسنگ کا معاہدہ

بزدارکی قیادت میں سرکاری یونیورسٹیوں کی سولرائزیشن پر منتقلی کا عملی اقدام
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورمیں 1MW پراجیکٹ کا افتتاح
10 یونیورسٹیوں میں انرجی سروس کمپنی ماڈل کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

1263میگاواٹ کا پنجاب تھرمل پاور پلانٹ اگلے برس مکمل ہو گا، سالانہ 10 ارب سے زائد یونٹ بجلی حاصل ہو گی
تریموں میں پنجاب پاور پلانٹ 80 فیصد مکمل، 93کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن اور 48کلومیٹر طویل ٹرانسٹمشن لائن کے پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں

جاوید یونس
پاکستان کو معرض وجود میں آئے 72سال ہوگئے ہیں مگر بدقسمتی سے اسے معاشی، سیاسی، معاشرتی و سماجی استحکام حاصل نہیں ہوسکا۔جو بھی حکومت برسراقتدار آئی انہوں نے ملک کو مضبوط معاشی ڈھانچہ فراہم کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسیوں پر عمل کیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔آج وطن عزیز کو کرپشن، بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ آج کل کے دور میں توانائی انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت کرچکی ہے۔ ہرقسم کی صنعت و تجارت، زراعت کا دارومدار بجلی پر ہے لیکن لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کارخانے اور فیکٹریاں بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس سے ملکی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور صنعت و حرفت کا پہیہ رُک گیا ہے۔ توانائی کے بحران کی وجہ سے ہر سال مجموعی پیداوار میں 2سے 4فی صد تک نقصان ہو رہا ہے اس کے علاوہ برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی بروقت اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے گردشی قرضہ خطرناک حدود کو چھو رہا ہے۔ چند رینٹل پاور لگائے مگر وہ کرپشن کی نذر ہوگئے۔ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو کئی طاقتور حکومتیں برسراقتدار آئیں مگر انہوں نے نئے آبی ذخائر کی تعمیر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی بلکہ سیاسی مفادات کے پیش نظر کئی پراجیکٹ بند کر دیئے۔ نئے ڈیمز تعمیر نہ ہونے سے پانی کی بڑی مقدار ہر سال سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ موجودہ ڈیموں کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ نئی نہرں اور دریاؤں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم بناکر ضائع ہونے والے پانی سے نہ صرف بجلی پیدا کی جاتی بلکہ زرعی مقاصد کیلئے اسے قابل استعمال لایا جاتا۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے اس نے اپنے ڈیموں کو اس حد تک اپ گریڈ کر لیا ہے کہ وہ گنجائش سے دس گنا زائد بجلی پیدا کر رہے ہیں۔گزشتہ دور حکومت میں میں حکمرانوں نے توانائی کے پراجیکٹ کم لگائے مگر ان پر ذاتی تشہیر کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔گذشتہ دور میں لگائے جانے والے پاور پلانٹس سے 9.29اور 27.12روپے فی یونٹ تک بجلی پیدا کی جاتی رہی۔ بہاولپور میں لگنے والے سولر پاور پراجیکٹ پر بجلی کی پیداوار شروع سے ہی متنازعہ رہی۔کوئلہ سے چلنے والے پاور پراجیکٹ دنیابھر میں متروک ہوچکے ہیں مگر ہٹ دھرمی سے یہ پاور پراجیکٹ شروع کیاگیا۔ایک سٹڈی کے مطابق اس سے ماحول میں آلودگی پیدا ہوتی ہے جو انسانی زندگیوں کیلئے مضر ہے۔
کہتے ہیں کہ جب ارادے پختہ ہوں اور کچھ کر گزرنے کی ٹھان لی جائے تو ہر مشکل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعظم کے ویژن کے مطابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار قوم کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات کر رہے ہیں جن کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے وطن عزیز سے ہمیشہ کیلئے اندھیروں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ملک پر روشنیوں کا راج ہوگا، توانائی کی بحالی سے ہماری زرد رو زراعت پھر سے سرسبز ہوجائے گی، صنعت کا پہیہ زیادہ تیزی سے چلے گا، برآمدات میں اضافہ ہوگا، مزدور خوشحال ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غریب کا چولہا پھر سے چلنے لگے گا۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے خلوص نیت سے کام کر رہے ہیں اور انہوں نے صوبہ بھر میں تھرمل اور سولر کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کیلئے جامع اقدامات اٹھا رہے ہیں۔انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پنجاب نہ صرف بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہوگا بلکہ دوسرے صوبوں کو بجلی فراہم کرے گا۔تحریک انصاف نے عوام سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے ہو رہے ہیں۔ شفافیت اور تیز رفتاری کے ساتھ پراجیکٹس کی تکمیل پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔
وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت سستی بجلی فراہم کرنے کے لئے سرگرم ہے -پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ او ر6 بینکوں کے کنسورشیم کے درمیان 100ارب روپے کی فنانسنگ کا معاہدہ ہوا ہے۔معاہدے کے تحت بینکوں کا کنسورشیم 100ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کرے گااور1263میگا واٹ کے پنجاب تھرمل پاور پلانٹ سے سالانہ10ارب یونٹس پیدا ہوں گے -وزیراعلی عثمان بزدار نے فنانسنگ کے لئے ہونے والے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6بینکوں کے کنسورشیم سے 100ارب روپے کی فنانسنگ کا معاہدہ قابل تحسین ہے اوراسے ملکی تاریخ کی سب سے بڑیSovereign گارنٹی کہا جا سکتا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں تعطل کے باوجود PPA اور GSA جیسے موثر معاہدے کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب تھرمل پاور پلانٹ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے اور اگلے سال کے آخر تک مکمل ہونے والے 1263میگاواٹ کے اس پراجیکٹ سے سالانہ 10ارب سے زائد یونٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ تریموں میں آر ایل این جی سے چلنے والا پنجاب پاور پلانٹ 80فیصد مکمل ہوچکاہے۔ 93کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن اور 48کلومیٹر طویل ٹرانسمشن لائن کے پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ پنجاب پاور پلانٹ میں معروف بین الاقوامی کمپنی سیمنز سے مصدقہ جدیدترین ٹیکنالوجی پر مشتمل سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ ہائی ایفیشینسی کی وجہ سے یہاں بجلی کی پیداواری لاگت انتہائی کم ہو گی اورگھروں اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ روپے میں ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ضیاع کو بچایا جا سکے گا اور اس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی ہو گی- گردشی قرضے کے بوجھ میں نمایاں کمی ہو گی اور اس پراجیکٹ کی بدولت ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔ سولر، ونڈپاور اور ہائیڈروپاور پلانٹ کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے اورپنجاب میں توانائی کے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے- وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو کم لاگت بجلی پیدا کر کے سستے داموں فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ پنجاب تھرمل پاور پلانٹ کے ذریعے 8.95 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ2سال میں پاکپتن اورمرالہ میں دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس مکمل ہوچکے ہیں اوران سے 2کروڑ70 لاکھ سے زائد یونٹ بجلی حاصل کی جاچکی ہے۔7 ہزار سرکاری اداروں کو سولر توانائی پر منتقل کیا جا چکاہے اوران میں 6991پرائمری سکول اورایک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بھی شامل ہے۔ ویسٹ سے 150میگا واٹ بجلی پیداکرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔شفافیت اور تیزرفتاری کے ساتھ پراجیکٹس کی تکمیل پاکستان تحریک انصاف کا طرہ امتیاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کرنے کی بجائے توانائی کے متبادل ذرائع اور ہائیڈرل پاور پلانٹس پر توجہ دی جا رہی ہے۔ توانائی کے بیشتر منصوبے پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک کار سے مکمل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ہم مہنگائی میں پسنے والے عوام کو سستی بجلی فراہم کر سکیں – پنجاب نہ صرف انرجی کی پیداوار میں خودکفیل ہو گا بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی بجلی فراہم کر سکے گا۔صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹراختر ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلی عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب میں حقیقی تبدیلی کا سفر جاری ہے اور آج کامعاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے-صوبہ پنجاب میں ہونے والی تبدیلی جلد پاکستان بھر میں نظر آئے گی-

تھرمل کے ذریعے توانائی کے حصول کے ساتھ بزدار حکومت کا سولرلائزیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار ایک خوش آئند امر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں مختلف سرکاری عمارتوں میں 95ہزار 691بجلی کے کنکشن ہیں اور حکومت کو اس مد میں ہر سال 35ارب 70کروڑ روپے ادا کرنا پڑتے ہیں جس سے ایک بہت بڑی رقم بجلی کے بلوں کی مد میں چلی جاتی ہے۔ حکومت نے اس مد میں رقم کو بچانے کیلئے متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کا فیصلہ کیاگیاہے۔ محکمہ توانائی پنجاب نے ”پنجاب انرجی ایفیسنشی اینڈ کنزرویشن ایجنسی“ کے ذریعے سرکاری یونیورسٹیوں کو انرجی سیونگ کمپنی کے ”ایسکو“ ماڈل پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا آغاز کیاگیاہے۔ سولرلائزیشن کے اس پراجیکٹ کا مقصد جہاں بجلی کی مد میں خرچ ہونے والی خطیر رقم کی بچت کرنا ہے وہاں سولرلائزیشن کی کمپنیوں میں اضافہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ حکومت نے پائلٹ پراجیکٹ طور پر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو شمسی توانائی پر مکمل کرنے کا پراجیکٹ کامیابی سے مکمل کرلیاگیا ہے جس سے تقریباً پونے دو کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ایسکو ماڈل پر مزید دس سرکاری یونیورسٹیوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر رہی ہے اس سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت پر کئے گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سولرلائزیشن پر حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔سولرلائزیشن کے عمل سے نہ صرف بجلی کی کمی پوری ہوگی بلکہ بجلی کی مسلسل فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا اور مجموعی طور پر 60میگاواٹ بجلی کی ممکنہ استعداد سے ایک ارب روپے کی سالانہ متوقع ہے۔ معاہدے کی معیاد کی تکمیل تک 25ارب روپے بچائے جائیں گے۔اسی طرح مرحلہ وار ”ایسکو“ ماڈل کے تحت دیگر اداروں کی بھی سولرلائزیشن کی جائے گی اور بتدریج تمام سرکاری اداروں کو قابل تجدید اور گرین انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔ ماضی میں درآمدی کوئلے اور تیل سے چلنے والے پاور پلانٹس لگائے گئے اس کے برعکس بزدار حکومت انرجی کے قابل تجدید ذرائع پر پوری توجہ دے رہی ہے جس سے نہ صرف کوئلے اور تیل وغیرہ کی مد میں خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایاجاسکے گا بلکہ دیگر اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔صوبائی وزیرتوانائی نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں 1 میگاواٹ سے پائلٹ پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت سے حاصل ہونے والی رقم عوامی فلاح، تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں عوام کا پیسہ چوری کرتی رہی ہیں اور اپنے کمیشن کے چکر میں امپورٹڈ فیول سے چلنے والے مہنگے منصوبے لگائے۔
سردار عثمان بزدار کی قیادت میں محکمہ توانائی پنجاب متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں 5.83میگاواٹ کے چیانوالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 4.04میگاواٹ کا ڈیگ آؤٹ فال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔اس کے علاوہ اگلے سال مئی تک جنوبی پنجاب کے 10861پرائمری سکولوں، وسطی پنجاب کے 2ہزار سکولوں اور2425بنیادی مراکز صحت کی شمسی توانائی پر منتقلی مکمل ہوجائے گی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈی جی خان کی شمسی توانائی کے پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ کے 36 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور ٹیچنگ ہسپتالوں کی سولرائزیشن پر منتقلی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 2.5میگاواٹ سولر پاور پلانٹ کی تکمیل کے علاوہ حکومت پنجاب کے زیراہتمام 240خودمختار اداروں کی سولر پر منتقلی کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔اسی طرح وہاڑی اور سمندری میں 550کلوواٹ کے سولر اور بائیوگیس ہائبرڈ پاور پلانٹس لگانے کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔روجھان میں ایک ہزار میگاواٹ کا ونڈ پاور پلانٹ لگایاجا رہا ہے جس میں سے 250میگاواٹ کا ابتدائی منصوبہ تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔ 129میگاواٹ کے 16ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی فزیبلٹی سٹڈی مکمل ہوچکی ہے اور 135میگاواٹ کے تونسہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر تعمیر کا جلد آغاز ہونے والا ہے۔صوبائی وزیرتوانائی اختر ملک کی محکمہ انرجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ ان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com