چین کی آزمائش پاکستان کیلئے سبق آموز

چین کی آزمائش پاکستان کیلئے سبق آموز !
شاہد ندیم احمد
پا کستان میںکچھ عرصہ قبل ڈینگی بخار وبائی صورت اختیار کر گیاتھا، اس اس بیماری کو شروع میں سنجیدگی سے نہ لینے سے ہلاکتوں کاسلسلہ شروع ہوا،جس کے بعد حکومت نے ڈینگی کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے تو جلد قابو پا لیا گیا،حالیہ چین میں پھیلنے والے کروناوائرس نے ساری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، اللہ کرے کہ پاکستان میں اس وائرس کا نام و نشان تک نہ آئے، مگر حفاظتی اقدامات بہرصورت اٹھانے ناگزیر ہیں۔ یہ کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے، عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کوعوالناس کے لیے خطرہ قرار دیاہے ،اس کرونا وائرس کی کوئی دوا نہیں، احتیاطی تدابیر ہی بہترین علاج ہے، ایک تحقیق کے مطابق دن میں 5 بار وضو کرنے سے کرونا وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے، چین کے شہر ووہان میں بھی وضو کی پریکٹس کروائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ نوول کرونا وائرس کے انسداد کی ویکسین ایم آر این اے کی تیاری کے منصوبے کی فوری طور پر منظوری دیدی گئی ہے ،یہ ویکسین ہسپتال اور سٹیرمرنا تھراپیوفکس کمپنی لمیٹڈ مشترکہ طور پر تیار کریں گی۔ کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چین بھر میں مریضوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ چین کے سترہ شہروں میں ٹرین، بس اور فضائی سروس مکمل بند ہے جبکہ ہانگ کانگ کے ریلوے سٹیشن سنسان پڑے ہیں۔ وائرس کے باعث ہانگ کانگ حکومت نے سرکاری ملازمین کو چھٹیوں کے بعد گھروں میں سے ہی کام کرنے کی ہدایت کر دی۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں، لیکن ممکنہ حفاظتی انتظامات کے ساتھ اس کی ویکسین کی تیاری پر توجہ دیناوقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چینی قوم ماضی میں بھی اس طرح کی بیماریوں اور آفات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ چین کی تاریخ بتاتی ہے کہ 30 کے عشرہ میں مائوزے تنگ کی قیادت میں لانگ مارچ کر کے چینی قوم نے غیر ملکی تسلط اور ملکی استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ آزادی کے بعد چین کو کئی دشواریوں اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن چینی قوم نے اپنے عزم اور حوصلے سے آنے والے سارے بحرانوں پر قابو پا یا ہے۔ ایک بار پھر کرونا وائرس نے چینی قوم کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، یہ وائرس جس میں گلا خشک ہو جاتا ہے، جسم میں درد محسوس ہوتا ہے، کھانسی کے دورے پڑتے ہیں اور بخار بھی آجاتا ہے دراصل ایک طرح کا نمونیا جان لیوا ہوتا ہے۔ چین کے صوبہ ووہان سے شروع ہونے والے اس موزی وائرس نے ساری دنیا کو پریشان کر دیا ہے۔یہ وائرس امریکہ، یورپی ملکوں اور چند علاقائی ملکوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ پاکستان چین کا قریبی پڑوسی ملک ہے، دونوں ملکوں میں عوامی سطح پر آمد و رفت بھی بہت بڑھ چکی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے دونوں ملکوں میں تجارت اور اقتصادی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ تجارت کیلئے پاکستان اور چین کے تاجر ایک دوسرے کے ہاں آ جا رہے ہیں۔ اس لئے خدشہ ہے کہ پاکستان بھی اس وائرس کی لپیٹ میں نہ آ جائے، چین کے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہا ہے۔صوبہ ووہان جہاں وائرس نے حملہ کیا تھا، مقامی انتظامیہ نے شہر کو لاک ڈائون کر دیا ہے، تا کہ اس علاقے سے لوگ باہر نہ جا سکیں۔ یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص کے رابطے اور میل جول سے پھیلتا ہے، اس لئے چینی حکام نے متاثرہ علاقے کے لوگوں کو شہر چھوڑنے سے پابند کر دیا ہے، چین سے باہر بھی کچھ ملکوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ چینی حکام کے مطابق وائرس کے روٹ کو بلاک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے حکام بھی چین پہنچ گئے ہیں جو چینی حکومت کی طرف سے وائرس کو روکنے کیلئے کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اس صورت حال کے پیش نظر امکانات محدود ہیں کہ پاکستان کرونا وائرس کے دوران چین سے آنے والے مسافروں پر پابندی عائد کرے گا،ایسا ممکن نہیں ہے ،کیو نکہ ہمارے فیصلے صحت عامہ کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بجائے سیاسی مفادات پر ہی منتج ہوتے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان ہفتے میں بیس کے قریب پروازوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پندرہ سو کے قریب کاروباری حضرات تواتر کیساتھ چین کا سفر کرتے ہیں۔اس وائرس کی خبر کے بعد سے پاکستان نے اپنے ہوائی اڈوں پر تھرمل سکینر نصب کر کے چین سے آنے والے مسافروں کی سکیننگ شروع کر دی ہے ،مگر بدقسمتی سے ہمارا نظام صحت اس قدر ناقص ہو چکا ہے کہ یہ کسی بھی وبائی بیماری کے بروقت تدارک کی صلاحیت نہیں رکھتا ،محکمہ صحت کو چلانے والے سرکاری حکام اپنی لاپرواہی، نااہلی اور من مانیوں کے باعث پہلے ہی بدنام ہے،لیکن انتظامیہ کے نقائص کو دور کرنے کا کبھی کسی نے ترددنہیں کیا ہے۔ہمارے ہاںسب سے بڑا مسئلہ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے غیر سنجیدگی اور ارادوں کا فقدان ہے،زیادہ تر بیوروکریٹ نتائج اور تنقید قبول کرنے کی بجائے ایسی خبروں کو دبا دینے پر فوقیت دیتے ہیں،ایساہی کچھ چین کے صوبے ہوبائی کے شہر وہان میں بھی ہوا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں سے کرونا وائرس پھوٹا تھا، یہاں کی انتظامیہ نے بھی شروع میں اس کے فوری تدارک اور روک تھام کی بجائے اس سے متعلقہ خبروں کو دبانے اور اس بیماری کی وبائی صورت اختیار کرنے سے متعلق خبروں کو منظرعام پر آنے سے روکتے رہے، اگر چین کے صدر شی جن پنگ خود سرکاری ٹی وی پر آکر صحت سے متعلقہ مسائل کو پہلی ترجیح بنانے کے حوالے سے سخت پیغام نہ دیتے تو ممکن ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے دبانے کی ریت مزید طوالت اختیار کر جاتی،اس وقت چینی حکومت موثر حکمت عملی سے کرونا وائرس کے تدارک کیلئے کوشاں ہے۔
دنیا چین کے اس وباء سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر تعریف کر رہی ہے کہ چین جس انداز سے کرونا وائرس پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے ،بہت جلد اس وائرس سے جان چھڑا لے گا، مگر بہت کم لوگ اس پر بات کر رہے ہیں کہ کیسے ایک سخت گیر سیاسی بیانیہ کے باعث بحران بڑھنے کا باعث بنتا ہے ،ہم سہولیات کے معیار اور مسائل کے حل میں اوپر کی سطح سے ہدایات اور احکام کے اجراء کے کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتے،مگر ہنگامی صورت حال میں بھی پردہ ڈالے رکھنے میں عافیت درست عمل نہیں ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ احتساب اور سزا کے مطالبات صرف اسی صورت میں کارگر ہو سکتے ہیں جب محکموں میں شفافیت اور معلومات کے تبادلے کا تیزنظام موجود ہو اور اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی کی روایت بھی مستحکم ہو۔صحت عامہ سے متعلق کسی بحران میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کی مشکوک ساکھ بھی ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے، حکومت کوایسے پلیٹ فارم تیار کرنا ہوں گے جو کسی بھی بحرانی صورتحال میں کم سے کم وقت میں معلومات کی ترسیل ممکن بنا سکیں ۔چین کی آزمائش میں پاکستان کے لیے سبق ہے،ہمیں کرونا وائرس کے مریضو ں کے اعداوشمار چھپانے کی بجائے ہنگامی بنیادوں پر تدارک کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چین میں بہتر علاج کے بہانے اپنے پھنسے پا کسیانیوںسے جان نہیں چھڑانا ہو گی ۔ پاکستان ہمیشہ چین کی کامیابیوں سے سیکھنے کا متمی رہتا ہے ،مگر فی الوقت ہمیں اپنے دوست کی ناکامیوں سے سبق حاصل کر نے کی زیادہ ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com