کرونا کا رونا ۔۔۔۔۔۔

کرونا کا رونا ۔۔۔۔۔۔
شہر خواب ۔۔۔۔۔۔ صفدر علی حیدری
شاید معلوم تاریخ کا سب سے حیرت انگیز واقعہ ہے کہ ایک وبا نے ساری دنیا کا دہشت زدہ کر کے رکھ دیا – زندگی کو مفلوج کر ڈالا اور عالمی معیشت کو ایک جاندار جھٹکا دے ڈالا – ہر انسان کی زبان پر ایک ہی نام ہے
کرونا ۔۔۔۔
کرونا۔۔۔۔
کرونا۔۔۔۔
شاید ہی اتنی شہرت کسی بیماری کو کبھی ملی ہو اور اتنا خوف کسی بیماری کے حصے میں کبھی آیا ہو – شاید مستقبل میں بھی کسی بیماری کو ایسا شہرہ کبھی نصیب نہ ہو –
ایک افراتفری کا عالم پورے عالم پہ چھایا ہے – قیامت سے پہلے قیامت کا سماں ہے – اس سے بڑھ کر قیامت کیا ہو گی کہ مساجد سے نماز کے لیے بلاوا نہیں آتا یہ پیغام آتا ہے کہ اپنے اپنے گھر میں نماز ادا کر لیجیے –
مسجد کلیسا مندر معبد بھائیں بھائیں کرتے ہیں – اس کائنات کو ایک خالق کی تخلیق سمجھنے اور اس کے آگے ماتھا ٹیکنے والے آج عبادت سے ہاتھ اٹھا چکے – سماجی جانور سماج سے الگ تھلگ زندگی گزارنے کو ترجیح دینے لگے ہیں – مصافحہ ترک کر دیا گیا ہے – شہر کے شہر اور ملک کے ملک لاک ڈاؤن کر دیے گئے ہیں – سپر سٹور کے آگے لائنوں میں انتظار کرتے لوگ موقع ہی اشیاء خوردونوش پہ ٹوٹ پڑتے ہیں – زیادہ سے زیادہ اشیاء جمع کرنے کو شوق کا نام دیا جائے جنون کہا جائے خبط کہا جائے یا مجبوری –
غیر مسلموں کا تو ذکر ہی کیا صرف اللہ کی محبت کے دعوے دار حرمین شریفین کو لوگوں سے خالی کرا چکے ہیں – کسی شاعر نے کہا تھا
فِطرت میں آدمی کی ہے مُبہم سا ایک خوف!
اُس خوف کا، کسی نے خُدا نام رکھ دِیا
اللہ کی محبت کا دم بھرنے والوں کی قلعی کھل گئی ہے – انہیں کرونا نے اتنا ڈرا دیا کہ ان کے دل سے خدا کا خوف ہی نکل گیا – اب دلوں میں خوف خدا کی جگہ خوف کرونا نے لے لی ہے –
سیرت النبی سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ وبا کی جگہ کو یوں بند کر دیا جائے کہ مقامی باہر نہ نکلیں اور بیرونی داخل نہ ہونے پائیں –
اپنا ذاتی دکھ آپ سے شئیر کرنا چاہوں گا – اسلام کی حقانیت ‘ بیت اللہ و رسالت مآب سے اپنی عقیدت اور مسجد کو پناہ گاہ اور اللہ تعالیٰ کو اپنا حاجت روا ثابت کرنے کا اس سے بڑا موقع شاید قیامت نہ آئے – ہاں مگر زر پرست عرب ڈر گئے – انہوں نے ان دونوں مقدس مقامات کو عقیدت مندوں سے خالی کرا کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ خوف کو خدا سمجھتے تھے – ایک نیا خوف وجود میں کیا آیا انہیں اپنا خدا ہی بھول گیا – مسلمان تو مقدس مقامات کی حرمت پہ کٹ مرتے – دنیا بھر کے مسلمان حجاز مقدس پہ ٹوٹ پڑتے – آب زم زم کو گھونٹ گھونٹ پی کر کہتے یہ دیکھو آب شفا ‘ جس کی موجودگی میں کسی وبا کا ہمیں کوئی خوف نہیں ریا – تم کہتے ہو زیادہ لوگ جمع نہ ہوں ہم لاکھوں فرزندان اسلام ایک جگہ جمع ہو کر آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ مشیت ایزدی کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا – یہ مسجدیں خدا کا گھر ہیں اور ہماری پہلی و آخری پناہ گاہ – جب تک ہم اس مرکز میں جمع ہیں کوئی وبا ہمارا بال بھی بیکاہ نہیں کر سکتی – مگر افسوس ہم نے یہ سنہری موقع ضائع کر دیا – ہائے افسوس ہم خود کو اچھا مسلمان ثابت نہیں کر پائے –
پورے پاکستان میں اس وبا کے ہاتھوں دو افراد کی ہلاکت نے پورے ملک میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی ہے – کیسی عجیب بات ہے کہ اس دوران ہزاروں افراد اپنی اپنی طبعی موت مر گئے لیکن ہمیں ان کی رخصتی ذرا برابر نہ ڈرا سکی –
نوجوان قلم کار محمد علی رانا کی ایک پوسٹ شئیر کی جو قارئین کو ہدیہ کرتا ہوں –
کرونا سے انسان کے مرنے کے تیس فیصد چانسز ہیں لیکن کسی بھی لمحے اس کے مر جانے کے سو فیصد چانسز ہیں ‘ سو اللہ کو یاد کیجیے اور مرنے سے قبل اچھے اعمال کر جائیے –
بس کیجیے بہت ہو گیا کرونا کا رونا
کرونا کے لیے کچھ نہ کیجیے خدا را اپنے لیے کچھ اچھا کر لیجیے پلیز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com