پنجاب بھر میں گڈ گورننس کی اعلیٰ ترین مثال قائم

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب بھر میں گڈ گورننس کی اعلیٰ ترین مثال قائم کر دی
سوفٹ ریفارمز میں صوبائی سیکریٹریز کا اہم کردار
پنجاب کو خوبصورت،صحت مند اور ترقی یافتہ سمارٹ شہروں کا صوبہ بنانے کا سفر تکمیل کی جانب
حسیب اعجاز عاشرؔ
گزشتہ چند دہائیوں پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ایک طرف اخلاقی پستی، غیر ذمہ دارنہ رویوں اور احساس کے فقدان کے باعث معاشرہ بے راہروی کا شکار ہوا تو دوسری جانب وہ اصلاحات بھی متعارف نہیں کرائی گئیں جس کے باعث خوبصورت معاشرے کی تشکیل کیلئے انفرادی و اجتماعی سطح پرا حساس ذمہ داری جنم لیتی۔اسے غیر سنجیدگی کہا جائے یا ویژن کا نہ ہونا،خیر یہ بھی ایک طویل موضوع بحث ہے۔فی الوقت اس تناظر میں اخلاقی تبدیلی اورسوفٹ ریفارمز(behavior change and soft reforms)کی بات کی جائے تو،سندھ سمیت دیگر صوبوں میں ایسے منصوبہ جات پر کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آتا اور نہ ہی پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں اس حوالے سے کچھ خاطر خواہ اقدامات سامنے آئے۔اب اِس صوبہ میں ایک محکمہ کی مثال ہمارے سامنے ہے، کہنے کو تواس کے کاندھوں پر ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ذمہ داریاں عائد ہیں لیکن اسے ماضی میں محض محکمہ ہاؤسنگ ہی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ وجہ سادی سی ہے کہ نہ تو کوئی اس محکمہ کا سیاسی سربراہ اورنہ ہی محکمہ خود اپنے خود ساختہ مقرر کردہ محدودذمہ داریوں سے آگے بڑھنے کا کبھی سوچتا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے، چونکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارپنجاب بھر میں گڈ گورننس کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرنے کے تگ و دو میں ہیں تو اس ضمن میں جب سال 2019کے اختتام پر صوبہ کے انتظامی بیوروکریسی میں تبدیلیاں لائیں گئیں اور محکموں کو بہتر کارکردگی دیکھانے کے لئے تمام تر موجود وسائل بھی مہیا کئے گئے اور صوبائی سیکریٹریز کو ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ صوبائی سیکریٹریز آج جس انداز میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لگن،نئے جذبے، خلوص اور پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی نبھانے میں مصروف عمل ہیں ماضی میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی اور اسی انداز میں پہلی بارمحکمہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ویژن کے عین مطابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید انتھک محنت میں صبح شام مصروف عمل ہیں جبکہ اِن کی رہنمائی میں نئے صوبائی سکریٹری ندیم محبوب نے بھی صحت عامہ کے حوالے سے نہ صرف سوفٹ ریفارمز متعارف کروائیں بلکہ اسی عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات بھی اُٹھا رہے ہیں اور حال ہی میں محکمہ ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے ”اوپن ڈیفیکیشن فری پنجاب“ منصوبہ کا آغاز اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
”اوپن ڈیفیکیشن فری پنجاب“ کے پس پردہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس منصوبہ کا افتتاح اُنہوں نے خود کیا اس 3 سالہ پروگرام کے تحت، حکومت پنجاب یونیسف کے تعاون سے 13 لاکھ آبادی کے لئے قریب 2لاکھ بیت الخلا تعمیر کرے گا۔ بیت الخلا کا معاملہ صرف کنسٹریکشن کا نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں صرف پنجاب میں، 13 فیصد آبادی اب بھی”اوپن ڈیفیکیشن“ پر عمل کرتی ہے،یعنی نہ صرف وہ خود بلکہ وہ دیہات، جس میں وہ رہتے ہیں، ان کا ماحول۔ ہر چیز یکساں طور پر آلودہ اور یکساں طور پر اسہال جیسی بیماریوں کا شکار ہے مگر اس اہم پہلو کو ماضی میں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا۔اگر ڈبلیو ایچ او کی جاری کردہ رپورٹ کا جا ئزہ لیا جائے تو گزشتہ دہائی میں مجموعی طور پر بارہ ممالک میں اوپن ڈیفیکیشن کے دائرہ کار میں تقریبا تین چوتھائی افراد شامل تھے۔ ہندوستان 626 ملین آبادی کے ساتھ سرفہرست ہے۔جبکہ چالیس ملین آبادی کے ساتھ پاکستان او ڈی کے باعث تیسرے نمبر پر ہے۔اس تناظر میں طبی ماہرین کا خیا ل ہے کہ مذکورہ منصوبے کہ ذریعے سے ایک طرف محکمہ صحت پر بوجھ بھی یقینی طور پر کم ہو گا اور دوسری طرف پانچ سال سے کم بچوں میں شرح اموات بھی کم ہونے کے نمایاں امکانات ہیں۔
یہاں اُن افراد کیلئے وہ حقائق جو نظروں سے اوجھل ہیں،کو پیش کرنا بہت اہم ہیں جو بیت الخلاء کی اہمیت سے واقف نہیں،ایک رپورٹ کے مطابق 2017 تک دنیا کی 45 فیصد آبادی صاف ستھرے ماحول میں سانس لیتی رہی جبکہ دو ارب افراد کو بیت الخلا تک رسائی نہیں تھی۔ ان میں سے 673 ملین کا اب بھی کھلے آسمان تلے گلیوں کی نالیوں میں، جھاڑیوں کے پیچھے یا کھلے پانی میں اخراج کرنا مجبوری ہے۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ دنیا کی 10٪ آبادی گندے پانی سے سیراب سبزیوں یا دیگر کھانے پینے کی اشیا خرید رہی ہے،ڈبلیو ایچ او کے مطابق، ”زیادہ تر نا قابل استعمال گندے پانی سے شہری علاقوں میں قابل کاشت رقبہ کا تخمینہ لگ بھگ 36 ملین ایکڑ(جرمنی کی سائز کے برابر) ہے۔اِسی سبب ناقص صفائی ہیضے، اسہال، پیچش، ہیپاٹائٹس اے، ٹائیفائیڈ اور پولیو جیسی بیماریوں اور اسٹنٹنگ کو بڑھاتاکا سبب بن رہی ہے۔دوسری جانب ناقص یا نامناسب صفائی کے نظام سے سالانہ 432000اسہال سے ہونے والی اموات ہوتی ہیں، اور انکی ایک وجہ بہت سی ٹراپیکل بیماریوں کو سراسر نظرانداز کرنا بھی ہے؛، جس میں آنتوں کے کیڑے، اسکائٹوسومیاسس اور ٹریکوما شامل ہیں۔یہاں ہمارے لئے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ حکومت پنجاب کو اس احساسیست کا باخوبی ادراک ہے کہ حفظان صحت کے برعکس ایسے زہریلے پانی سے کاشت کی گئی سبزیاں کتنی خطرنا ک ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب نے اس مسئلے کے مکمل خاتمے کے لئے صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر رکھا ہے۔
صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے حکومت پنجاب وزریراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں مکمل طور پر کمربستہ ہوچکی،اب کسی بھی صورت اُن”پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے سافٹ ریفارمز“پر سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں جسے ماضی میں برُی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور اس خواب کی تعبیردینے میں متعلقہ سیکریٹریز اپنی ذمہ داریاں باخوبی نبھا رہے ہیں۔چونکہ بیت الخلاء کی عدم موجودگی جدید دیہات اور صحت مند طرز زندگی کی تشکیل میں رکاوٹ ہے لہذا”اوپن ڈیفیکیشن فری پنجاب“ منصوبے کی اہمیت اوراِ س کے دیرپا مثبت اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت پنجاب اس منصوبے کو برق رفتاری سے مکمل کرنے کیلئے پرعزم نظر آرہی ہے۔ اپنی مدد آپ کی بنیاد پر کل125000گھریلو ٹوائلٹ تعمیر کیے جائیں گے، حکومت لوگوں کو صفائی کے طریقے اپنانے کے لئے تعلیم دے گی۔ جو لوگ متحمل ہوسکتے ہیں وہ حکومت کے تکنیکی تعاون سے خود بیت الخلا تعمیر کرسکیں گے۔ تاہم، زیادہ سے زیادہ کوریج کو یقینی بنانے اور دیہاتوں کو اوپن ڈیفیکیشن سے مکمل طور پر آزاد کرنے کے لئے یونیسف کے تعاون سے معاشرے کے غریب ترین طبقوں کے لئے 70000بیت الخلاء کی لاگت کا انتظام محکمہ خود کرے گا۔
حکومت نے ملٹی پل انڈیکیٹر کلسٹر سروے 2018کی بنیادوں پر 10 اضلاع کا انتخاب کیا ہے جن میں راجن پور، ڈیرہ غازی خان، بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خان، لودھراں، بھکر، خوشاب، چنیوٹ اور جھنگ شامل ہے جہاں کھلے اخراج کا تناسب 20 فیصد سے 38 فیصد کے درمیان ہے۔ اس پروگرام کے تحت 1775انتہائی کمزور اور غریب دیہاتوں کا احاطہ کیا جارہا ہے۔قوی امکان ہے کہ حکومت کے نشاندہی کردہ دیہاتوں کو اگر ایک بار ”اوپن ڈیفیکیشن فری“ کر دیا گیا گیا تو یہ دیہات بلاشبہ صوبائی ترقی میں اپنا کردار باخوبی احسن ادا کرنے میں پیش پیش نظر آئیں۔

اب اس حقیقت سے انکار قطعی ناممکن ہے کہ ہینڈ واشنگ،دیہاتوں میں بیت الخلاء کے استعمال کے رحجان کو فروغ دینے اور صفائی کا اہتمام کرنے کے علاوہ لیکوڈ اینڈ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر ٹریٹمنٹ سے ہی پنجاب کو صاف ستھرا اور سر سبزشاداب بنایا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کمیونٹی ڈویلمپنٹ یونٹ کی دیہاتوں میں صحت افزا طرز زندگی کیلئے خصوصی آگاہی مہم کا بھی آغاز کیا جاچکا ہے جس کے تحت پنجاب کے36 اضلاع میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیر اہتمام فراہمی و نکاسی آب سکیموں کو مقامی دیہی تنظیموں کے ذریعے کامیابی سے چلانے اور دیکھ بھال کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔جبکہ پنجاب بھر میں 36 ٹیمیں 7 افراد پر مشتمل ضلعی ٹیم مقامی دیہی تنظیم کو خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جس سے پہلی بار پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونا شروع ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب دیہی تنظیموں کے رہنمائی کیلئے پنجاب میں 3353واٹر سپلائی سکیمیں مقامی دیہی تنظیمیں محکمہ کے”کمیونٹی ڈویلپمنٹ یونٹ“ کی رہنمائی میں اپنی مددآپ کے تحت کامیابی سے چلا رہی ہیں۔یہاں یقینا یہ سوال ضرور دماغ میں اٹھے گا کہ ”کمیونٹی ڈویلپمنٹ یونٹ“ کرتا کیا ہے تو یہ واضح کر دیاجائے کہ فراہمی و نکاسی آب کے متعلق شعور پیدا کرنا، پینے کے صاف پانی کیلئے احتیاطی تدابیر کے متعلق آگاہی دینا و پیغامات پہنچانا،اسکیموں کو اپنی مددآپ کے تحت چلانے اور دیکھ بھال کیلئے تربیت فراہم کرنا اورصحت و صفائی کے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے سیشن کرنا اس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق ندیم محبوب سمیت تمام صوبائی سیکریٹریز اپنے اپنے دائرہ کار میں تمام میسر اور مہیا کئے گئے وسائل کا موثر ترین استعمال کرتے ہوئے جس طرح اپنی اہلیت اور صلاحیتوں کا لوہامنوا رہے ہیں تواگر یہ کہا جائے تو ہرگز مبالغہ آرائی نہیں کہ پنجاب میں ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ صوبائی سیکریٹریز کی نمایاں کارکردگی کی اہم وجہ ایک یہ بھی ہے کہ وزیراعلی عثمان بزدار نے صوبائی سیکریٹریز پراپنا بھرپور اعتماد دیتے ہوئے انہیں مکمل بااختیار کیا ہے ماضی میں ایسا نہیں کیا گیا یہی وجہ ہے کہ آج ادارے سافٹ ریفارمز جیسے کئی ایسے منصوبہ جات پر بھی کامیابی سے کام کر رہے ہیں جنہیں گزشتہ چند دہائیوں میں بے قدر جانا جاتا رہا جبکہ یہی تو ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل میں اہم ترین ہیں جس کے مثبت شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم نتائج بھی یقینی ہیں۔
پی ایچ ای ڈی کی اِس وقت قابل تعریف کارکردگی کی ایک طویل فہرست ہے،جیسے پنجاب کی عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اُن سے صاف پانی کی دستیابی کیلئے بارہا وعدے کئے گئے مگر وہ وفا نہ ہوئے،صاف پانی جو عوام کی اہم بنیادی ضرورت بھی ہے،کی اہمیت کو جانتے ہوئے،پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب آبِ پاک اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ صوبہ میں صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے، جس کے لئے منصوبہ کی فیزیبلٹی تیار ہے جبکہ پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے. 13000 افریڈو ہینڈ پمپ یونیسف کے تعاون سے ڈی جی خان، جھنگ اور راولپنڈی میں لگائے جا رہے ہیں,بہاولپور، بہاولنگر، ٹوبہ ٹیک سنگھ،ڈی جی خان اور میانوالی میں ساتونے رولر واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی کا عمل جاری ہے جو رواں سال مئی کے آخر تک مکمل ہو جائیں گیں,چکوال، ڈی جی خان اور میانوالی کے پینتیس گاؤں میں واٹر سپلائی سکیموں کو سولرائز کیا جا رہا ہے
دوسری جانب وزارت ماحولیات کے تحت کے اوآئی سی اے کیساتھ ایم اویو سائن کیا جاچکا ہے جس کے مطابق واٹر ٹیسٹنگ لیب کو بہتر اور واٹر کوالٹی سروے سسٹم کو متحرک و فعال کیا جائے گا۔اس ضمن میں پینتیس لیبارٹری کیلئے فنڈ مہیا کر دیا گیا ہے۔تین سال کی او اینڈ ایم لاگت کے ساتھ 26ڈسٹرکٹس کے101 کالجوں میں فلٹریشن پلانٹس کی فراہمی کیلئے پی سی ون اپروو ہوچکا ہے،اس کے علاوہ 2020-2022کے لئے10 ڈسٹرکٹس کے 1775گاؤں کیلئے او ڈی ایف منصوبہ یونیسف کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جس کا پہلے ذکر کیا جاچکا۔
واسا بھی اپنی اونچی پروان بڑھ رہاہے۔اکتوبر2019میں ای سی این ای سی سے پی سی ون 21045.7ملین لاگت کے بی آر بی ڈی کنال پر سرفس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے اپروول لی جا چکی ہے۔لارنچ کالونی سے گلشن راوی تک سیوریج لائن کیلئے پی وسی ون، جس کی لاگت 14165ملین ہے، کی سی ڈی ڈبلیو پی سے ستمبر 2019کو اپروول مل چکی ہے۔محمود بوٹی، شاہدرہ، شاد باغ اور بابو صاحبو کیلئے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی فیزیبلٹی تیار ہے۔فیصل آباد سٹی فیز ٹو کیلئے پانی کے وسائل کی توسیع کے پی سی ون جس کی لاگت 14636.9ملین ہے،کی اپروول ای سی این ای سی سے حاصل کی جا چکی ہے۔ایسٹرن ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (44ایم جی ڈی)جس کی مالیت 19ملین ہے پر ہم عملی پیش رفت ہوچکی ہے۔6.9بلین لاگت سے پرانا جھل خانوانہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ(جے آئی سی اے گرانٹ ان ایڈ) اور ڈسٹریبویشن سنٹر کا تعمیراتی کام بھی آغاز کے مراحل میں ہے اور اس کے علاوہ پانچوں واسا میں واٹر میٹرز کی تنصیب کے کام کا آغاز ہوچکاہے۔سب سے قابل ذکر اقدام کہ پانچوں واسا کی جانب سے ”حاضر سر سروس“کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے
پی ایچ اے کے کام کا دائرہ کار بھی غیرروایتی طور پر وسیع ہوچکا ہے اور وزیراعلیٰ پیکج کے تحت تونسہ اور ڈی جی خان کی تزائین و آرائش کیلئے ساتھ اے ڈی پی سکیموں پر 430.1ملین لاگت سے کام جاری ہے،اِدھرپی ایچ اے کی جانب سے واٹر کنورذیشن کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہیں اور وضو کیلئے استعمال شدہ پانی کو ایریگیشن مقاصد کیلئے دوبارہ استعمال میں لانے کیلئے 68مساجد کی نشاندہی کر دی گئی ہے جس میں 50مساجد کا کام مکمل ہوچکا ہے،صاف اور سبز(کلین اینڈ گرین)مہم کے تحت چار لاکھ درخت لگائے جا چکے ہیں
اِدھر ہاؤسنگ کا محکمہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا اور پی ایچ اے ٹی اے کی جانب سے لینڈ کی ڈیجیٹل ائزیشن اور ریکارڈ الاٹمنٹ کیلئے عملی اقدامات بھی ہوئے ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔پی ایچ اے ٹی اے نے پہلی بار اپنی ہاؤسنگ اسکیم کیلئے کمرشلائزیشن فیس کی وصولی کا آغازکیا ہے۔ وہ اہم ترین منصوبہ جو آغاز سے پہلے ہی عام عوام میں بھی موضوع بحث رہا ”نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام“ جس کیلئے پی سی ون کا اپروول ہوچکا ہے جبکہ چھ شہروں کیلئے قرعہ اندازی بھی کی جا چکی ہے جبکہ اِس منصوبہ کیلئے اخوت کے ساتھ ایم او یو بھی سائن ہوچکے ہیں جس کے مطابق تین مرلہ پلاٹ کیلئے مالکان کو قرضہ فراہم کیا جائے گا جو اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت بے گھروں کو چھت مہیا کرنے کیلئے بہت سنجیدہ ہے۔
ڈویلپمنٹ اتھارٹیزبھی اپنی کارکردگی میں غیرمعمولی طور پر نمایاں ہے اور انتہائی قلیل عرصہ میں اب تک پانچ بڑے شہروں کیلئے ماسٹر پلاننگ کا پروسس مکمل ہوچکا ہے۔غیر قانونی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کاروائی کی گئی اور ڈویلپرز کو نوٹس،چالان، ایف آئی آر،گھروں کو سیل سمیت تمام ممکنہ قانونی کاروائیاں عمل میں لائیں گئیں۔عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ون ونڈو آپریشن کا آغاز بھی ہوچکا ہے جبکہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دیگر غیرقانونی تجاوزات کے خلاف سخت سے سخت ترین بلاامتیاز کاروائیاں کی ہیں جس کے باعث آج بازاروں اور سڑکوں کا اصل حسن پھر سے بحال ہوچکا ہے۔ دیگر منصوبہ جات میں راولپنڈی رنگ روڈ کا پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے۔لائی ایکسپریس وے کی فیزیبلٹی تیار کی جا رہی ہے،ایل ڈی اے ایونیو ون ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 2000میں سے 623ایفیکٹیز تیار ہوچکی ہیں۔ایل ڈی اے سٹی فیروزپور روڈ لاہور کیلئے سائیٹ آفس ماؤزا کہنہ پر مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مذکورہ منصوبہ کے تعمیراتی کام کیلئے 3بلین 2019-20میں مختص کئے جا چکے ہیں، علاوہ ازیں جناح سیکٹر میں تعمیراتی کام کا آغاز بھی ہوچکا اورکشمیر انڈرپاس اور فیصل آباس سپورٹس کمپلکس میں تعمیراتی کام کے حوالے سے اہم عملی پیش رفت بھی ہوئی ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے صوبائی سیکریٹرز کو وزیراعلیٰ پنجاب سے ملنے والا اعتماد،ا عتبار اور اختیار کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے محکموں کا باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہ سکے اور یوں پنجاب کو خوبصورت،صحت مند اور ترقی یافتہ سمارٹ شہروں والا صوبہ بنانے کے خواب کو تعبیر مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com