مگر میرا بیٹا نہیں سمجھتا!

مگر میرا بیٹا نہیں سمجھتا!
انعام الحق
ڈیڈی ہم مر کیوں جاتے ہیں! ڈیڈی ہم مرنے کے بعد کہاں چلے جاتے ہیں! ہم لائٹ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا! Fish مر کیوں جاتی ہے! ڈیڈی Spiderman رئیل میں کیوں نہیں ہوتا۔یہ سوالات جب میرا پانچ سال کا بیٹامیرے بازو پر سر رکھ کر بڑی ہی معصومیت سے پوچھتا ہے تو اس وقت میرا دماغ کمرے سے باہر چلا جاتا ہے۔ میرے پاس ان سوالات کا جواب نہیں ہے مگر میر ا بیٹا مجھے دنیا کا سب سے عقل مند انسان سمجھتا ہے اس کو پتا ہے کہ اسکے ڈیڈی دنیا کی ہر چیز جانتے ہیں اور انکو ہر چیز کا پتا ہے۔
میں اپنے بیٹے کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم مر کیوں جاتے ہیں۔ میں اسکو بتا نا چاہتا ہوں کہ پوری دنیا میں روزانہ 1,50,000 لوگ مر جاتے ہیں اور یہ کہ پاکستان سے زیادہ یورپ میں لوگ مرتے ہیں ۱۔ اسکی وجہ دل کی تکالیف ہیں۔مگر میرا بیٹایہ سب نہیں سمجھتا۔اور جو سمجھتے ہیں وہ مرنے سے بچ نہیں سکتے۔
میں اپنے بیٹے کو بتانا چاہتا ہوں کہ کئی لوگ جیتے جی بھی مرے ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی اپنی ماں کو ملنا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے بھائیوں کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں نہایت پرسکون زندگی گزارکر بے نامی کی موت مرنا چاہتے ہیں۔ وہ کوئی risk لینا نہیں چاہتے۔ یاد رکھیں کہ حساس لوگ ہی دنیا بدلتے ہیں جبکہ یہ بے حس لوگ ہوتے ہیں۔یہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنا آپ بدلتے ہیں۔یہ لوگ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو چھوٹا کرتے ہیں۔ اپنے کالے رنگ کو سفید کرتے ہیں۔ اپنے گرتے بالوں کو دوبارہ اگا لیتے ہیں۔مگر یہ لوگ کسی دوسرے کے کام آنا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اپنی بیویوں کے غلام ہوتے ہیں اپنی خواہشوں کے تعبیدار ہوتے ہیں۔ یہ اپنی دنیا میں رہتے ہیں۔ انکی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے جس کی نتیجے میں انکی زندگی بھی چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ مرنا نہیں چاہتے کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔ مگر یہ موت سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے مرگی کا مریض پانی سے ڈرتا ہے۔یہ ٹینشن نہیں لیتے۔
میں اپنے پانچ سال کے بیٹے کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہم مرنے کے بعد کہاں چلے جاتے ہیں۔ میں اُسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد مسلمان جنت میں اور کافر دوزخ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ مرنے کے بعد ابھی قبرکے مراحل طے کرنے ہیں اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔مگر میرا بیٹا یہ نہیں سمجھتا۔اُسکوساری چیزیں اچھی ہی لگتی ہیں۔ اسکواندازہ ہے کہ مرنے کے بعداللہ تعالیٰ اپنے پاس لے جاتے ہیں اور انکو کھلونے دیتے ہیں۔ طرح طرح کے کھلونے۔ رنگ برنگ کے کھلونے۔ نیلے پیلے ہر رنگ اور ہر قسم کے نئے اور نہ ٹوٹنے والے کھلونے۔مگر میرا بیٹانہیں جانتا کہ یہ اچھے کھلونے صرف اچھے لوگوں کو ملتے ہیں۔
میرا بیٹا سائنسی تجربے کرتا رہتا ہے۔وہ بڑا ہو کر سائنٹسٹ بننا چاہتا ہے۔ وہ ہر نئے کھلونے کو کھول کر دیکھتا ہے کہ اندر کیا چیزیں لگی ہوئی ہیں۔ اسکی جستجو نئے تجربے اور نئے سوالوں پر اُکساتی ہے۔ وہ کبھی ایک آنکھ بند کرتا ہے کبھی دوسری۔ وہ لائٹ کو دیکھتا ہے پھر مجھ سے سوال کرتا ہے۔ ڈیڈی ہم لائٹ میں دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا۔میں اُسکے معصومانہ سوالوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سوچوں ہی سوچوں میں کہیں اور نکل جاتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ پوری دنیا میں 3,90,000 لوگوں کہ نظر ہی نہیں آتا۲۔ یعنی وہ نابینا ہیں۔ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بہت سارے لوگ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ان لوگوں کو گلی میں پڑا ہوا گند نظر نہیں آتا۔ انکو بھوکے، ننگے اور لاچارلوگ نظر نہیں آتے۔ انکوغریب لوگوں کی معصوم خواہشیں نظر نہیں آتی۔ فقیر تو مانگ کر لے لیتا ہے مگر انکو سفید پوش افراد نظر نہیں آتے جو نہیں مانگتے۔ انکو غریبوں کی ضروریات نظر نہیں آتی۔ ان لوگوں کو اُس وقت نظر آئے گا جب انکی آنکھ بند ہو جائے گی!
پھر میرا بیٹا کچھ سوالات کا جواب نہ پاکر موبائل پر video دیکھنے لگتا ہے۔ اسکو چور سپاہی والی وڈیوز پسند ہیں اور وہ انکو بہت شوق سے دیکھتا ہے۔ وہ معصومیت سے سوال کرتا ہے۔ ڈیڈی! ہماری پولیس چور کیوں نہیں پکڑتی؟ مجھے یہ سوال سے ذیادہ ایک طعنہ لگتا ہے۔ ہماری گلی سے لے کر پارلیمنٹ تک میں مختلف چور بیٹھے ہیں اور سب کو نظر آنے کے باوجود پکڑے نہیں جاتے۔ہماری پولیس ایک ڈر اور خوف کی علامت ہے۔ اگر یہ تھوڑا سا بھی کام کر لے تو ہماری عوام انکو سر آنکھوں پر بٹھائیں۔ میں اپنے بیٹے کویہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پوری دنیامیں سب سے مضبوط پولیس جرمن فیڈرل پولیس  GSG-9 ہے جس میں بھرتی ہونے کے لیے ایک ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے پھر اسکے بعد دنیا کی سخت ترین جسمانی، طبی اورنفسیاتی ٹرینگ سے گزرنا ہوتا ہے۔ اسکے بعد بھی چار ماہ کی بنیادی تربیت دی جاتی ہے پھر جو پاس ہوتا ہے اسکو دو ماہ کی سپیشل ٹرینگ دے کر پولیس میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ اس فورس کو اب تک صرف 1500 اپریشنز کرنے پڑے ہیں جن میں صرف 5 میں ہی اسلحہ کی ضرورت محسوس ہوئی۳۔
آخر میں سوچتا ہوں کہ ہم سب کو بھی بچہ ہونا چاہئے۔بچوں کی دنیا بہت چھوٹی، سچی اور معصوم ہوتی ہے۔ انکی خواہشیں بہت چھوٹی اور جلد پوری ہوجانے والی ہوتی ہیں۔ انکو روپے پیسے گاڑی اور بنگلے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ ہر حال میں خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ اپنی خوشی دوسروں سے شیئر بھی کرتے ہیں۔جس کے نتیجے میں اور ذیادہ خوش رہتے ہیں۔ یاد رکھیں دنیا میں سب سے مشکل اور طویل کام خوشیوں کی تلاش ہی ہے جبکہ یہ خوشی آپ کے پاس ہی ہوتی ہے مگر آپ کے پاس اسکودیکھنے کی نہ تو توفیق ہوتی اور نہ ہی وقت۔یہ آپکے بس میں ہوتے ہوئے بھی آپکے پاس نہیں ہوتی۔آپ اسکو چاہ کر بھی پا نہیں پاتے۔ واصف علی واصف نے کہا ہے۔
انسان نہ کچھ پاتا ہے اور نہ ہی کھوتا ہے۔ وہ فقط آتا ہے اور جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com