بصارت سے محروم

طا رق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال
میں نے اپنے پچھلے کالم میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا تھا کہ بیوو کریسی کے چند اعلی افسران چینی سکینڈل کی زد میں آئیں گے جبکہ بڑے بڑے مگر مچھ محفوظ و مامون رہیں گے۔عدا لتی پچیدگیاں چینی سکینڈل کو میمو گیٹ کی طرح ل دفتر کر دیں گی۔میری ذاتی رائے ہے کہ تمام ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود اشرافیہ نے محفوظو مامون ہی رہنا ہے کیونکہ ان کی پشت پر رکھے ہوئے ہاتھ انھیں کبھی گزند پہنچنے نہیں دیں گے۔ پاکستان میں چونکہ ہر شہ پر سیاست ہوتی ہے لہذا شوگر پر دی گئی سبسڈی اور بر آمد ی سہولت بھی سیاست کی نذر ہوچکی ہے۔ہر کوئی اپنا قد بڑھانے کی دوڑ میں جٹا ہوا ہے۔شوگر پر پی ٹی آئی حکومت نے سبسڈی پہلی بار نہیں دی بلکہ پچھلے کئی سالوں سے یہ روائت جاری ہے۔اب اگر فیصلہ غیر قانونی تھا تو پھر فیصلہ ازوں کو زندانوں میں ہوناچائیے تھا لیکن ایسا نہیں ہورہا بلکہ قانونی سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں کو مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چینی بر آمد کرنے سے ملک میں چینی کی قلت ہو گئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مل مالکان نے چینی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ یہ طلب اور رسد کا آفاقی قانون ہے جسے روبعمل ہونا ہوتا ہے۔ حکومت کی دانشمندی یہی ہوتی ہے کہ وہ طلب و رسد میں توازن برقرار رکھے تا کہ قیمتوں میں استحکام رہے لیکن حکومت اس میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔اپنے ہاتھوں سے دی گئی رعائتیں اب گلے کا ہار بن رہی ہیں تو اپو زیشن کو نشانہ پر رکھ لیا گیاہے۔چینی کے علاوہ گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش رباء اضافہ روزمرہ کامعمول ہے لیکن وہاں کوئی واویلا نہیں مچا رہا۔جہانگیر ترین اب حکومتی حلقوں کے نہیں بلکہ اپوزیشن کے سرخیل ہیں۔عمران خان سے ان کی دوستی ایک زمانہ ہوا اپنی موت آپ مر چکی ہے۔جہانگیر ترین اب ایک ایسا گھوڑا ہے جس کی ضروت اور افادیت ختم ہو چکی ہے اور سیاست میں لنگڑے گھوڑوں اور بے کار مہروں کا کوئی خرید دار نہیں ہوتا بلکہ وقتِ ضرورت انھیں قربانی کا بکرا بنا لیا جا تا ہے۔پوری دنیا میں سبسڈی دی جاتی ہے اور بھارت میں سبسڈی کی شرع ہم سے کئی گنا زیادہ ہے لہذا ثابت ہوا سبسڈی دینا کوئی انہونی بات نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کچھ افراد کی کردار کشی کیلئے انھیں نشانے پر رکھ لیا گیا ہے تا کہ سیاسی سکورنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کو سبسڈی کے الزامات کاسا منا ہے کیونکہ شریف فیملی اور آصف علی زرداری کی کئی شوگر ملیں تھیں جو کہ سبسڈی لیتی تھیں۔آصف علی زرداری کے اپنے انتہائی قریبی دوست ذولفقار مرزا سے جھگڑے کی بنیاد بھی شوگر ملیں ہی تھیں۔ آصف علی زرداری شوگر ملوں سے دستبردار تو نہ ہوئے لیکن اپنے سب سے دیرینہ ساتھی اور سب سے قابلِ اعتماد دوست کی ناراضگی مول لے لی۔اب وہ جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے آصف علی زرداری کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہیں اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہو کر وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔بڑی سیدھی سی بات ہے کہ شوگر پر انہی مالکان کو سبسڈی ملے گی جو شوگرمل اونر زہیں۔جما نگیر ترین، خسرو بختیار،آصف علی زرداری،میاں برادران،ہمایوں اختر گروپ،دریشک فیملی اور چوہدری برادران چینی مافیا کے ناخدا ہیں اور سبسڈی کے فوائد انھوں نے ہی سمیٹنے ہیں۔اگر حکومت سبسڈی کوناجائز سمجھتی ہے تو اے سبسڈی کے قانون میں ترمیم کر دینی چائیے تا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لیکن ایسا ہو گا نہیں۔نہ توچ ینی کی قیمتیں کم ہوں گی اورنہ ہی چینی پر منافع کی شرع کم ہو گی۔
چینی سکینڈل میں دو کردار بڑے اہم ہیں۔وفاقی وزیر اسد عمر اور وزیرِ اعلی پنجاب عثمان بزدار۔ ان دونوں کے حلفیہ بیا نات کو کمیشن نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔کمیشن کے اپنے تحفظات ہیں جھنیں یہ دونوں دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سارے معاملہ میں اصل قصور وار اسد عمر ہیں جھنوں نے شوگر ایکسپوڑت کی اجازت مرحمت فرمائی۔عثمان بزدار نے اس اجازت نامہ پر اپنے چہیتوں کو نوازا۔ سبسڈی کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا جس پر انھوں نے کابینہ کی مہر ثبت کروا لی تا کہ وہ اکیلے قصور وار نہ ٹھہرائے جائیں۔ اب شور شرابہ اور ہنگامہ بپا ہے لیکن وہ جھنوں نے سبسڈی کا فیصلہ کیا انھیں کوئی کچھ نہیں کہہ رہا۔ حد تو یہ ہے کہ عمران خان خود ان دونوں کا دفاع کر رہے ہیں کیونکہ یہ دونوں عمران حکومت کے اہم ستون ہیں۔اسد عمر کو تو چند ماہ پہلے بڑے ترلے منتوں سے کابینہ میں واپس بلا یا گیا تھا اب اگر انھیں پھر ناراض کر لیا گیا تو حکومت کی ہوا اکھڑ جائے گی۔پی ٹی آئی کی کمزور حکومت اپنے اتحادیوں پر قائم ہے اور اگر اپنے اتحادیوں پر الزامات کی بارش ہو تی رہی تو پھر اسمبلی میں عددی اکثریت ہوا ہو جائے گی۔سیاست شطرنج کا کھیل ہے اور اس میں کچھی ایسی چالیں بھی چلنی پرتی ہیں جن کے مضمرات واضح نہیں ہوتے۔ شوگر مافیا کے خلاف حالیہ مہم بھی ایک ایسی ہی چال ہے۔ جیسے جیسے انکوائری آگے بڑھے گی تو سب کچھ واضح ہوتا جائے گا لیکن فی الحال اس کے عواقب نظر نہیں آ تے۔پی ٹی آئی حکومت میں اہم وزارتوں پر برا جمان افراد اتنے کمزور نہیں کہ انھیں ایک انکوائری سے پسپا کر دیا جائے۔وہ بڑے طاقتور ہیں اور ساری حکومتیں ان کی سپورٹ کی محتاج ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبہ اتحاد،مسلم لیگ (ق) اور آزاد اراکین کا وہ ریوڑھ جسے جہانگیر ترین کھینچ کر لائے تھے اب اہم نہیں رہا۔حکومت تو انہی کے سہارے کھڑ ی ہے اور عمران خان کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی حکومت چینی کمیشن کی وجہ سے اپنا راج پاٹ کھو دے کیونکہ ابھی تو انھوں نے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔انھوں نے انتخابات میں جو وعدے وعید کئے تھے ان میں سے تو کوئی ایک وعدہ بھی ایفا نہیں ہو سکا الہذا وہ حکومت سے رخصتی کی غلطی نہیں دہرائیں گے۔رپورٹوں سے عوام کی حالتِ زار نہیں بدلتی لہذا وہ عملی اقدامات کے خواہاں ہوتے ہیں جو حکومت کی بساط سے باہر ہے۔ہمارے سامنے پاکستان کی پوری تاریخ ہے جو نعروں اور رنگ بازیوں سے بھری پڑی ہے۔میاں محمد نواز شریف کہاں ہیں؟ میاں شہباز شریف کہاں ہیں؟ مریم نواز کہاں ہیں؟ آصف علی زرداری کہاں ہیں؟ فریال تالپور کہاں ہیں؟یہ ساری کی ساری شخصیات جن کی لوٹ کھسوٹ کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا،اب محفوظ و مامون ہیں اور انہیں عبرت کا نشان بنانے والا بھی اب ان کے بارے میں اب اظہار نہیں کرتا کیونکہ اسے بتا دیا گیا ہے کہ اس کی حد کہاں تک ہے۔وہ سارے راہنما جن کے ذکر سے عمران خان کی رگیں پھول جاتی تھیں اپنے اپنے گھروں میں محوِ استراحت ہیں اور کوئی ان کی جانب دیکھنے کی جسارت نہیں کر رہا۔ ان سے ایک خاموش ڈیل ہو چکی ہے لہذا دونوں جانب سے سیز فائر ہے۔وزرا ء کی زبانیں بھی خاموش ہیں۔حکومتی ترجمان بھی بے حس و حرکت پڑے ہوئے ہیں اور ایسی آوز نہیں نکال رہے جس سے مصالحت کی فضا مکدر ہونے کا احتمال ہو۔ خوش فہمیوں کے مارے ہوئے چند دیوانے اب بھی احتسابی نعروں پر بغلیں بجا رہے ہیں کیونکہ وہ پاکستانی سیاست کی ابجد سے واقف نہیں ہیں۔وہ پردے کے پیچھے مضبوط ہاتھوں کو دیکھنے کی بصارت سے محروم ہیں اس لئے وہ جو کچھ سامنے سٹیج ہو رہا ہے اسے ہی حقیقت سمجھ رہے ہیں۔وہ نعرہ بازی کو ہی اصل سمجھ کر اس سے چپٹے ہوئے ہیں حالانکہ نعرے صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے بلند کئے جاتے ہیں۔لیکن وہ صاحبِ نظر جن کو دیوار کے اس پار دیکھنے کا ملکہ ہوتا ہے انھیں کوئی بیوقوف نہیں بنا سکتاکیونکہ وہ ڈرامہ کے اصلی کرداروں تک شناسائی رکھتے ہیں۔،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com