کورونا وائرس سے بڑا وائرس غربت و افلاس؟؟؟

کورونا وائرس سے بڑا وائرس غربت و افلاس؟؟؟
عابدہ حسین، ساہیوال
غصہ،بحث، تکرار اور منفی رویہ انسان کی شخصیت کوکھوکھلا کردیتا ہے۔چاہے وہ انسان دنیاوی طورپرکتنے ہی بلند مرتبے پرفائز کیوں نہ ہو اورعزت کی بھی جائے تویہ بے مول اور وقتی حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ بحث ومباحثہ،تشدداور کسی کی عزت کو مجروح کرنا غیرانسانی رویوں کے زمرے میں آتاہے۔ کسی مجبور کیساتھ ایسا رویہ ظلم کا موجب بنتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے ر ویے ہرجگہ دیکھنے کو ملتے ہیں اورعزت وتکریم کے حقدار صرف رتبہ والے اور پیسے والے کو گردانا جاتا ہے۔جبکہ غریب کے لیے غربت ہی سب سے بڑی گا لی بنی رہتی ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے غریب کے بچے کی شرارت بداخلاقی جبکہ امیر کی بد تمیزی شرارت کہلاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے جرائم کے ساتھ ساتھ ایسے رویہ جات بھی بدرجہ اتم مو جود ہیں جو دوسروں کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔حضرت شیخ سعدی کی روایات میں سے ہے کہ ایک دفعہ ایک غیرت مند آدمی کو بخار چڑھ گیا۔ اس کو شکر کی ضرورت پڑی۔تو کسی نے کہا کہ فلاں شخص سے تھو ڑی سی ما نگ لاؤ۔اس بیمار شخص نے جواب دیا اس ترش چہرے وا لے شخص سے ما نگنے سے بہتر ہے کہ وہ موت کی تلخی کو برداشت کر لے۔لہذا ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی موجودگی جو کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر معاشی بد حالی کے باوجود اپنی عزت وغیرت کی پرواہ کرتے ہوے کسی سے مدد کے مرتکب نہیں ہوئے قابل تعریف ہیں مگر ایسے لوگوں کی مدد اور حوصلہ افزائی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ایسے سفید پوش لوگوں میں چھوٹے پیمانے پرکاروبار کرنے والے اورپرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اوراساتذ ہ اکرام شا مل ہیں جن کو ابھی تک مارچ 2020 تک کی تنخواہ مو صول نہیں ہو ئی۔ان سفید پوش لوگوں نے نہ ہی سے مدد کا مطالبہ کیا اور نا ہی کسی راشن
مرکز کا رخ۔مگر ان کی مدد کرناان مخیر حضرات کی بھی ذمہ داری ہے اور ان اداروں سے بھی التماس ہے کہ ان کی عزت نفس کو مجروح کئے بغیر خوف خدا کے تحت ان کی تنخواہ کی ادائیگی کو یقننی بنائیں۔
کرونا وائرس کی تباہ کاریوں نے بھوک اور افلاس کو جنم دیا ہے۔مگر کرونا سے بھی بڑا وائرس بھوک ہے جوشدت اختیار کر چکی ہے۔آج امیر طبقے کے لوگ کرونا سے خوف زدہ ہیں جبکہ غریب بھوک اور غربت سے۔اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر موت کو گلے لگانے اورننھے بچوں کو موت کے حوالے کرنے والوں کی داستانیں اس معاشرے کے بھیانک منظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ وطن عزیز میں غربت کا اندازہ احساس پروگرام کے تحت ملنے والی رقوم کے مراکز اور راشن مراکز پر موجود لوگوں کی تعداد سے لگا یا جا سکتاہے۔ تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے غربت اور تنگی کے باوجود ان مراکز کی طرف رجوع ہی نہیں کیااورکئی علاقے ایسے ہیں جہاں پر ابھی تک حکومت کی طرف سے کو ئی امداد نہیں پہنچی جب کے الیکڑانک میڈ یا پر ہر روز تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ اتنی رقوم تقسیم کی جا چکی ہیں۔ کچھ مراکز پربد نظمی، دھکم پیل،اور ٹولیوں کی صورت میں زمین پرادھرادھر اپنی باری کا انتظار کرنے والی عمر رسیدہ عورتوں کا نظر آنا،لیڈی پولیس کی طرف سے دھکے دینا، غیر درد مندانہ رویہ اختیار کرنا عزت نفس کا جنازہ نکال دینے کے مترداف ہے۔غربت ایک گا لی بن جاتی چکی ہے۔ ارسطو کے الفا ظ ذہن میں نمودار ہو تے ہیں کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ وہ معاشرے سے الگ نہیں رہ سکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com