موبائل کی لت چُھڑانے کے مرکز

نشہ چھوڑانے کے مرکز کی طرح ، بہت جلد نظر آئیں گے-موبائل کی لت چُھڑانے کے مرکز!
تحریر:
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور
اللہ رب العزت اتنی خوبصورت وسیع وعریض دنیا بنائی اور اپنی مخلوق انسانوں کے لیے بے شمار نعمتیں پیدا فر مائیں۔ اور انسانوں کو علم و عقل وہنر جیسی اعلیٰ نعمت سے سر فراز فر مایا، آج انسان اللہ ! کے دیئے ہوئے علم اور عقل وہنر کو استعمال کرکے روز نت نئے ایجادات کر رہاہے۔ اور اس کا سہرا،کریڈٹ، credit, خود لے رہاہے،اپنی پیٹھ خود ہی تھپ تھپا رہاہے۔( یہ سچ ہے اس سے انکار نہیں) لیکن یہ علم و عقل کی دولت کس نے عطا فر مائی،کس نے اعلان فر مایا کہ تمہیں یہ سب چیزیں ہم نے دی ہیںاور آنے والے زمانے میں نئی نئی چیزیں دیتے رہیں گے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے، تر جمہ: اور(اس نے) گھوڑیاور خچر اور گدھے( پیدا کئے) تاکہ تم اس پر سوار ہو اور یہ تمھارے لیے زینت اور(ابھی مزید) ایسی چیزیں پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے۔( القرآن،سورہ نحل،16:آیت8) یعنی اللہ رب العزت نے گھوڑے،خچر اور گدھے بھی تمھارے نفع فائدہ کے لئے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور ان میں تمھارے لئے سواری اور دیگر بہت سے فائدے ہیں اور ساتھ ساتھ تمھارے لیے زینت بھی ہیں۔
علمائے مفسرین نے اس آیت کریمہ کی بہت وضاحت فرمائی ہے۔ علامہ شمس الدین قرطبی اندلسی مالکی(پیدائش:1214ء- وفات: 29 اپریل 1273ء) بہت بڑے عالم مفسر فقیہ اور ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ تفسیر قر طبی میں فرماتے ہیں’’ ہمیں اونٹ، گائے، بکری، گھوڑااور خچر وغیرہ جانوروں کا مالک بنادینا،انہیں ہمارے لیے نرم کردینا،ان جانوروں کو ہمار اتا بع(فرمابردار،زیراثر، ماتحت) کرنا اور اِن سے نفع اُٹھانا ہمارے لیے مباح کردینا اللہ رب العزت کی ہم پر کمال رحمت ہے۔ صاحبِ جلا لین امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ”وَیَخْلُقُ مَاتَعْلَمُوْن ” کی تفسیر بہت لمبی فر ماتے ہیں’’اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی ایسی چیزیں پیدا فر مائے گا جو تم جانتے نہیں۔یعنی جانوروں کی اقسام تمھارے سامنے بیان کی گئیںان کے علاوہ بھی بہت ایسی عجیب وغریب چیزیں اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا جن کی حقیقت اور پیدائش کی کیفیت تم نہیں جانتے۔ اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے فائدے،راحت وآرام و آسائش (عیش وعشرت،اطمینان، راحت ولطف،آرام) کے کام آتی ہیں،”اور یہ چیزیں اُسوقت موجود نہیں ہوئی تھیں،”لیکن اللہ تعالیٰ کو ان چیزوں کو آئندہ پیدا کرنا منظور تھا۔ جیسے کہ بحری جہاز، ہوائی جہاز، ریل گاڑیاں، کاریں،بسیں، کمپیوٹر،موبا ئل اور اس طرح کی ہزاروں،لاکھوں سائنسی ایجادت۔اور بھی نہ جانے کیا کیا ایجاد ہوگا،لیکن جو بھی ایجاد ہوگا وہ سب اس آیت کریمہ میں داخل ہوگا۔
کمپیوٹراور موبائل اس صدی کی سب سے حیرت انگیز ایجاد:
سائنسی ایجادات،دریافت نے ایک مختصر دورانیے میں ہمارا تصور کائنات بدل کر رکھدیا ہے۔ صرف ایک سوبرس پہلے لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وراثت اگلی نسلوں کو کیسے منتقل ہوتی ہے،یا ایک خلیہ، سیل(چھوٹاجوزف دار خانہ،حیاتیات،انگ:cell) کیسے تقسیم ہوکر پورا جاندار بن جاتا ہے۔انسانوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ” ایٹم” کی اندرون ساخت بھی ہوتی ہے،(atom)ایٹم مادے کا چھوٹا ترین ذرہ ہوتاہے جو اپنے کیمیائی خواص برقرار رکھتا ہے- حالانکہ خود لفظ ایٹم کا مطلب “ناقابل تقسیم”ہے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ کائنات یا زندگی کا آغاز کیسے ہوا وغیرہ وغیرہ۔ اِدھر تین دہائیوں کے سالوں میں سائنسی ایجادات میں کئی بڑے بڑے اِنقلاب آئے جیسے ڈی این اے،DNA, ساخت(زمین پر چلتی پھرتی زندگی کے پیچھےDNAکے رموز ہوتے ہیں- یعنی کسی جاندار کی ظاہری شکل وصورت اور رویہ) وغیرہ وغیرہ۔ کمپیوٹر وموبائل موجودہ دور کی ضرورت بن گیا ہے،سبھی اس کے اسیر ہیں غلام ہیں، موجودہ نسل کے جو بچے ہیں اس وقت اسکو لوں میں زیر تعلیم ہیں، ان میں سے بعض کو یہ سہولیت حاصل ہے کہ وہ کمپیوٹرا ورموبائل سے اسکول کی تعلیم کے دوران واقف ہوجاتے ہیں۔ممکن ہے کہ آنے والے بر سوں میں یہ سہولیت اسکول میں پڑھنے والے ہر بچے کو میسر ہو۔ ہر نوعیت کے چھوٹے بڑے دفتروں میں، صنعت، پیشہ ،ہنر،دستکاری میں،زراعت،کھیتی باڑی میں، کاروبار میں،ذرائع ابلاغ میں،خلا ،فضا،زمین اورسمندر کی سواریوں میں غرض زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں کمپیوٹر اور موبائل کی کار گزاری،کار کردگی کار فرما نہیں ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مسقبل کمپیوٹر اور موبائل کا ہے۔
4جی یا” فورتھ جنریشن” یا 5-G تک موبائل کاسفر: موبائل اور کمپیوٹر آج ہر انسان کی ضرورت بن گیا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید ( صحیح ہوگا) کہ نئی نسل سے لیکر چھوٹے بڑے سبھی اس کے بندھوا غلام(زرخرید نوکر جو بے تنخواہ ہر کام کرے، زرخرید نوکر جو کسی عمر کا ہو) ہوگئے ہیں؟۔بغیر4جی- 5 جی موبائل “آقا” Lord, (زرخرید پشتینی غلام،لونڈی کا حاکم) کے اب کچھ کر ہی نہیں سکتے اور اس کے بغیر جی بھی نہیں سکتے!۔ موبائل ٹکنالوجی سے فائدہ لیتی ہوئی4جی چوتھی نسل اب 5جی کی جانب قدم بڑھا چکی ہے۔5 جی موبائل کے نیٹ ورک میں سگنلز کی فریکویئینسی، موجودہ نیٹ ورکس سے مختلف ہوگی،اسی لیے انہیں استعمال کرنے کے لیے ہینڈ سیٹس بھی دوسرے چاہیے،جس طرح پرانے ہینڈسٹس کو 4 جی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اب 5 جی سیٹ مارکیٹ میں آبھی گئے ہیں۔جس میں بہت ساری خوبیاں موجود ہیں،وغیرہ وغیرہ۔
کورونا کے قہر نے موبائل کے استعمال کو بڑھا وادیا: موبائل کے ہزاروں ہزار فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کے زیادہ استعمال سے بے شمار نقصانات بھی ہیں۔جن پر بہت سی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ہردن اس کے نقصانات پر مضامین آرہے ہیں ناچیز کا یہ مضمون بھی اسی کی کڑی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔جیسے: (جھوٹ پھیلانے میں سوشل میڈیا اور موبائل کا کردار)2- (موبائل ٹاور ں سے جانداروں کی صحت پر خطر ناک اثرات)
جہاں کرونا ،کووڈ19- نے ساری دنیا کو اپنے چپیٹ میں لیکر قہر بر پا کیا ہوا ہے وہیں طرح طرح کی بہت سی پریشانیوں میں اِضافہ کیا ہے۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سنٹر فار سائنس اینڈ انجیئرنگ( سی ایس ایس ای) کے تازہ ترین اعدادو شمار LAST UPDATE DEC 22, 2020, کے مطابق کورونا وائرس نے اب تک191ممالک میں7کروڑ73 ہزار سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے، جبکہ17لاکھ1ہزار822 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اسی وجہ کر ہندوسان میں ابھی تک اسکول وغیرہ نہیں کھلے ہیں اور تعلیم online جاری ہے۔ جسکی وجہ سے بھی موبائل کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے،خاص بات یہ ہے کہ موبائل بچوں کے ہاتھ لگنے سے بچوں کی دلچسپی موبائل میں بہت ہوگئی ہے،پہلے ہی کیا کم قیامت تھی جو اب اور قیامت بر پا ہے۔
؎ رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ٭ ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟ ( مرزا غالب)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال تو ہر عمر کے افراد کے لیے نقصان دہ ہے۔ مگر بچوں پر اس کے انتہائی برُے اثرات پڑ رہے ہیں جو انتہائی خطر ناک اور تشویس ناک بات ہے۔اگر وقت رہتے والدین نے اس جانب بھر پور توجہ نہیں دیا تو سوا افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل(Daily Mail) یہ بر طانیہ کا سب سے زیا دہ پڑھا جانے والا روز نامہ ہے۔ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ’’ جوبچے بہت زیادہ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں ، یا موبائل فون کو اپنی آنکھوں کے قریب رکھتے ہیں ان کی آنکھوں میں بھینگا پن بہت زیادہ ہوتا جارہا ہے۔
کے کونم نیشنل یونیورسٹی ہسپتال
کے ماہرین نے 7سے16سال کے لڑکوں پر اپنی تحقیق کی۔ ماہرین نے ان لڑکوں کو روزا نہ4 سے 8 گھنٹے تک فون استعمال کرنے اوران کو اپنی آنکھوں سے 8 سے12 انچ کے فاصلے پر رکھنے کو کہا ۔دو ماہ بعد بہت سے لڑکوں کو بھینگے پن کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے مسلسل اور دیر تک موبائل کے استعمال سے آنکھیں اندر کی طرف مڑنے لگتی ہیںاور با لاخر آنکھیں بھینگے پن کا شکار ہونے لگتی ہیں،خاص کر بچوں کی۔ ماہرین کا کہنا ہے مسلسل 30 منٹ سے زیادہ موبائل دیکھنا آنکھوں کی بینائی( آنکھوں کی روشنی) پر بہت خراب اثر ڈالتا ہے۔خاص کر بچوں کو 30 منٹ کے بعد کم ازکم دوگھنٹے آنکھوں کو آرام دینا بہت ضروری ہے‘‘۔
(رپورٹ ڈیلی میل لندن)
حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت اہم نعمت ” آنکھ ” بھی ہے۔ یہ اللہ کا عطیہ بھی ہے، انعام بھی ہے،آنکھ بظاہر جسم کا بہت ہی چھوٹا عضو ہے مگراپنی اہمیت وافادیت کے اعتبار سے نہا یت ہی عظیم،اہم اور حساس نعمت ہے۔رب تبارک وتعالیٰ نے اپنی دی ہوئی نعمت کاذکر قرآن مجید میں78 فر مایاہے اس سے اندازہ لگائیں کی آنکھ کتنی بڑی نعمت ہے۔
ترجمہ: اللہ نے تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے کہ تم احسان مانو۔(القر آن ،سورہ نحل،16:یت78)
موبائل کے دیوانے عقل کے اندھے:
موبائل کے نقصانات پر ہر روز نئے نئے انداز سے مضامین اور کتابیں شائع ہورہورہی ہیں لیکن افسوس والدین خاص کر” ماں” مائیں، توجہ نہیں دے رہی ہیں بعض مائیں تو خود موبائل کی دیوانی ہیں تو بچوں کو کس منھ سے منع کریں گی، جس طرح آنکھ اللہ کی انمول نعمت ہے ،اُسی طرح اولاد بھی اللہ کی نعمت ہے جب اولادیں بگڑجائیں گی،نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گی تب کفِ افسوس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ موبائل کے دیوانے ہر عمر کے لوگ ہیں،رکشا چلانے والے سے لیکر، ہوائی جہاز کے پائلٹ تک، کسان سے لیکر،ڈاکٹر تک، طالب علم سے لیکر ٹیچر تک،جاہل سے لیکر پروفیسر تک وغیرہ وغیرہ۔اس سے بچ پاناناممکن؟ پر اس کا استعمال ضرورت کے علاوہ تو کم کرہی سکتے ہیں ۔
نشہ چھرانے ری ہیبلیٹیشن- rehab وموبائل چھڑانے کامرکز:
زیادہ موبائل کے استعمال سے بچنا بہت ضروری ہے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب نشیڑیوں،شرابیوں،گجینڑیوں،ڈرگسروں،drugs, منشیات کے عادی لوگوں کو “ریحاب” سنٹر لے جایا جاتا ہے،جہاں نشے کی لت چھڑائی جاتی ہے جو بہت مہنگے اور وقت طلب ہوتے ہیں، جو عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ آپ اپنے اِرد گرد کے ماحول کو دیکھیں کس طرح بچے موبائل کے دیوانے ہیں ،جو بغیر موبائل دیکھے کھانا نہیں کھاتے ،ماں باپ کس طرح بچوں کے آگے مجبور اور لاچار ہیں توبہ توبہ۔ نشیڑیوں میں تو بڑے عمر کے بچے ،نوجوان اور مرد حضرات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن موبائل کے نشیڑی (موبائل لت “بُری عادت” کے عادی) لوگوں کی تعدا بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ اس موذی(جان کے لیے خطرناک، ظالم،تکلیف پہنچانے والا) لت،بُرائی میں بچے، نوجوان، بوڑھے، بچیاں،نوجوان بچیاں اور بوڑھی عورتیں سب کے سب لگے ہوئے ہیں، موبائل چھڑانے کے مراکز جب کھلے گیں تو آپ یقین مانیں گلی گلی ،محلہ محلہ، مراکز کھولنے پڑیں گے۔ خدارا، خدارا اُس برے دن کے آنے سے پہلے سوچئے ضرور سوچئے،اپنی اور اپنے پیاروں کی قیمتی انمول آنکھیں جوقدرت کا بے بہا عطیہ ہیں اُن کی حفاظت کریں اور ذہنی سکون بھی پائیں۔ اللہ سبھی گارجیئن کو عقلِ سلیم دے۔ آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com