بے نظیر بھٹو ، ایک عہد ساز خاتون

بے نظیر بھٹو ، ایک عہد ساز خاتون
تحریر ۔ محمد اقبال عباسی
میں نے دو چار منٹ وزیر اعظم کے آنے والے وزراء اور مصاحبین کو خوش آمدید کہنے میں صرف کئے ، وزیر اعظم کے پروٹوکول افسر نے مجھے اشارہ کیا کہ اب وزیر اعظم اور ان کے شوہر نامدار طیارے سے باہر آنے کے لئے تیار ہیں ۔ میں نے مناسب الفاظ میں دونوں کا استقبال کرنے کے بعد درخواست کی کہ وہ نیچے تشریف لے چلیں کیونکہ الجزائر کے وزیر اعطم مولود حمروش ان کا خیر مقدم کرنے کے لئے جہاز کی سیڑھیوں پر ان کے منتظر تھے ۔ بے نظیر بھٹو نے میری درخواست پر ذرا تنک کر :”آپ راستہ دیں تو ہم باہر نکلیں”لیکن میں تو دروازے کے صرف ایک کونے میں کھڑا تھا اوروی آئی پی کیبن کا سلائیڈ ہونے والا دروازہ پورے کا پورا کھلا ہوا تھا۔ بے نظیر بھٹو سے یہ میراپہلا تعارف تھا لیکن ان کا وہ جملہ کہ میں ان کا راستہ روکے ہوئے تھا یا ان کی راہ میں حائل تھا ، میرے لئے ان کی اس وقت تک کی گزرہ ہوئی حیات کا نچوڑ تھا ( کرامت اللہ غوری ، سابق سفیر و مصنف) ، تاریخ کا ہر طالب علم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ شہید جمہوریت ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے اپنی اوائل عمری میں ہی سیاست کے وہ سدِ سکندری عبور کئے جس کا ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا ، سابق صدر ضیاالحق کے ماارشل لاء دور میں وہ جن صعوبتوں اور تکلیفوں سے گزری ، اس کے زخم ان کی روح پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے ۔ قید و بند کی وہ تکالیف جو انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور پاکستانی قوم کے لئے برداشت کیں وہ بے نظیر کی نفسیات پر اثر انداز ہوئیں اور ان کو اپنی شخصیت کی بحالی میں ایک عرصہ لگا ۔ایک بے نام سے خوف و ہراس نے ہمیشہ ان کا پیچھا کیا کہ کوئی ان کا راستہ مسدود کئے ہوئے تھا یاروکنے کی کوشش کر رہا تھا
کس کو خبر تھی کہ 21جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی پنکی ایک دن دنیائے سیاست کے افق پر ایک ایسا روشن ستارہ بن کر چمکے گی جس کے نور سے تلمیذانِ سیاست اپنی راہیں متعین کریں گے ۔ اکثر لوگ راوی ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کی ہونہاری اور ذہانت کو بچپن ہی سے پرکھ لیا تھا اس لئے اپنے بیٹوں کی بجائے پنکی یعنی بے نطیر بھٹو کی سیاسی تربیت کا خصوصی اہتما م اس طرح کیا کہ آخرکار وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے 1973ء میں گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ سے فلسفہ ، سیاسیات اورمعاشیات میں ایم اے کرنے میں کامیاب ہو گئیں ۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے دوران وہ آکسفورڈ تقریری یونین کی صدر بھی منتخب ہوئیں۔ یاد رہے کہ وہ اس عہدے پر منتخب ہونے والی پہلی ایشیائی خاتون تھیں۔ بے نظیر بھٹو کے پھوپھی زاد بھائی طارق اسلام پرانی یادیں دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھٹو جب بھی 70 کلفٹن اپنے گھر آتے اور ہم سب بچے کھیل رہے ہوتے تو وہ پنکی(بے نطیر بھٹو) کو اپنی گود میں اٹھاتے اور اپنی لائبریری کی راہ لیتے جہاں ہم سب بچوں کا داخلہ بند تھا ۔جب ہم سب بچے کارٹون اور Comic کتابیں پڑھتے تھے بے نظیر بھٹو کو سیاست کی ابجد سکھائی جا رہی تھی ۔ جب بے نظیر نے عملی سیاست میں قدم رکھا تو وہ زمانہ ان کے والد کی سیاست کا دورِ زوال تھاکیونکہ وہ فوجی حکمران ضیاء الحق کی جانب سے نہ صرف معتوب ٹھہرائے گئے بلکہ خاندان سمیت پنکی نے بھی سیاسی نظر بندی اور جیل سے ہی اپنی عملی سیاست کا یوں آغاز کیا کہ وہ اس میدان کی ایک شاہسوار بن کر نکلیں ۔
تاریخ شاہد ہے کہ1979ء میں اپنے والد کی پھانسی کے بعد محترمہ نے انتقام لینے کی بجائے جمہوریت کی بحالی کو اپنا نصب العین بنایااور اپنے بھائی کی مبینہ مسلح سیاسی تحریک کا حصہ بننے کی بجائے عدم تشدد کے نظریہ پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اپنے ہی اس قول کی عملی تفسیر بن گئیں جو وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔ اپنے والد کی پھانسی اور آخری ملاقات کے بعد قید و بند کی تمام صعوبتوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیشہ انتہا پسندی اور شدت پسندانہ عناصر پر نہ صرف تنقید کی بلکہ پوری دنیا کے سامنے ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئیں جس نے دہشت پسند عناصرکی بیخ کنی کے سلسلے میں پاکستان کی مثبت کوششوں کو اجاگر کیا ۔اپنی کتاب “اسلام، جمہوریت اور مغرب “میں انہوں نے اپنا مطمح نظر اور پیپلز پارٹی کے منشور کا نہ صرف کامیابی سے دفاع کیا بلکہ اسلام اور مغرب کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب بحالی جمہوریت کے لئے 1981 ء میں گیا رہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ایم آرڈی تشکیل دیا گیا تو انہوں نے بحالی جمہوریت کے لئے جلائو گھیرائو اورجیل بھرو تحریک کی بجائے ان تمام سیاسی جماعتوں سے بھی ہاتھ ملانے میں پہل کی جو کل تک ان کے خاندان اور پیپلز پارٹی کے زوال کا سبب بنی تھیں ۔ سیاسی تجزیہ نگار اس امر پر متفق ہیں کہ ابھی ایم آرڈی اپنی تحریک کا آغاز ہی کر رہی تھی کہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا ہو گیا جس کا الزام “الذوالفقار”پر لگا جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو کو اپنے تمام رہنمائوں اور کارکنان کے ساتھ ایک طویل قید و بند کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں لیکن مضبوط قوت ارادی کی حامل دختر مشرق نے اپنے حواس نہ کھوئے اور ہر مشکل موقع پر ایک آئرن لیڈی ثابت ہوئیں ۔
بینظیر بھٹو کو ہمیشہ خراب صورت حال سے ہی سامنا کرنا پڑا ، ایم آر ڈی کی جزوی ناکامی کے بعد جونیجو حکومت کو ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے 90دن کے اندر انتخابات کروانے تھے لیکن وہ انتخابات کی تاریخ دینے میں ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اسی دوران بہاولپور طیارہ حادثے کے دوران ضیا ء الحق راہی ملک عدم ہوئے تو عنان حکومت غلام اسحاق خان نے سنبھالی۔ بے نظیر بھٹو کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش کے دن قریب تھا کہ انتخابات کا شیڈول دے دیا گیا ، اب آپ اس عورت کی ہمت، بہادری اور شجاعت کو داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے جس نے 21ستمبر 1988ء کو بلاول بھٹو جنم دیا تھا اور اس کے ٹھیک 18دن بعد اپنی زندگی کے پہلی انتخابی مہم کو بھی کامیابی سے ہمکنار کر کے ملک بھر میں پیپلز پارٹی کو اکثریت دلوائی ۔ تاریخ شاہد ہے کہ زچگی کی وجہ سے اسرائیل کی سابق وزیر اعظم گولڈا مئیر، بر طانیہ کی مارگریٹ تھیچر اور انڈیا کی سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی زچگی کی بنا پر اپنے سیاسی کیرئیر کو خیر باد کہہ چکی ہیں مگروہ شہید جمہوریت کی بیٹی تھی اور دختر مشرق کہلانے کی حق دار تھی کہ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر اپنی نسائی کمزوری چھپاتے ہوئے اپنی انتخابی مہم نہ صرف بھر پور طریقے سے چلائی بلکہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئی۔تاریخ کا پہیہ چلتا رہا ، مخالفین کی سازشیں ، اپنوں کی بے وفائیاں اور ملکی گھبنیر حالات کے باوجود محترمہ دوسری بار بھی وزیر اعظم بن گئیں، اْن کی وزارت عظمیٰ کا پہلا دور 1988 سے 1990 رہا جب کہ وہ دوسری بار 1993 تا 1996 وزیراعظم رہیں۔پھر پرویز مشرف دور میں میثاق جمہوریت جیسے بدنام زمانہ معاہدے کا ذمہ دار بے نظیر بھٹو کو ٹھہرایا گیا لیکن میثاق جمہوریت کی اس گنگا میں سیاست کے تمام کرداروں نے صرف ہاتھ دھوئے بلکہ نہا کر پاک صاف ہوئے ۔ 27دسمبر 2007ء کے دن جمہوریت کا یہ چراغ لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسے کے بعد گل کر دیا گیا لیکن اپنے پیچھے وہ روشنی چھوڑ گیا جس سے کئی چراغ روشن ہوئے اور اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑ گئیں ۔ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ انتخابات میں مجھے دیہات کی ایک خاتون سے ووٹ کے سلسلے میں دریافت کیا کہ وہ کس پارٹی کو ووٹ دے رہی ہیں تو اس نے بر ملا جواب دیا کہ میں نے ووٹ بے نظیرکو دینا ہے ، وجہ دریافت کرنے پر وہ بولی کہ بے نظیر انکم سپورٹ کے نام پر وہ ہمیں ہر ماہ پیسے جو دیتی ہیں ۔ میں نے کہا اماں ! بے نظیر کو تو شہید ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں تو کیا وہ اپنی قبر سے پیسے دے رہی ہیں تو وہ ٹھیٹھ سرائیکی میں بولیں “پتر! میکوں کوئی پتہ نی کہ جیندی اے یا مر گئی اے او ساکوں ہالی وی پیسے ڈیندی ہے تے ووٹ اوند ا، نہ نواز شریف دا نہ عمران خان دا تے نہ زرداری دا “میری ناقص رائے میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکے عظیم کارناموں میں ایٹم بم کی بنیاد، 1973ء کا آئین ، قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے علاوہ بے نظیر بھٹو جیسی لائق ، ذہین اور بہترین رہنما جیسا جمہوریت بم تیار کر کے دینا ہے ، شاہدین کا بیان ہے کہ سابق وزیر اعظم جب پنکی کو شملہ معاہدے کے لئے بھارت ساتھ لے کر گئے تو ان کو ہدایت کی تھی کہ میں تمہیں اس شرط پر ساتھ لے کر جا رہا ہوں کہ بھارت میں قیام کے دوران تمہارے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں آئے گی کیونکہ ہم ایک ہاری ہوئی جنگ کے بعد دشمن سے مذاکرات کے لئے جا رہے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کے منشور پر عمل درآمد ہی شہید ِجمہوریت کی زندگی کا نصب العین تھا ۔ ان کے د ورِ حکومت میں نہ صرف غربت کے خاتمے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ جیسا پروگرام شروع کیا گیا بلکہ چھوٹے کسانوں کے لئے قرضوں کے حصول کا طریقہ کار آسان بنایا گیا اور ان کو کاشتکاری کے لئے “عوامی ٹریکٹر سکیم “بھی شروع کی گئی ۔ خواتین کے حقوق کے لئے ان کی جدو جہد نہ صرف ناقابل فراموش ہے بلکہ ان کو دونوں ادوارِ حکومت میں خواتین کو نہ صرف روزگار کے مواقع مہیا کئے گئے ۔ خواتین کے لئے مخصوص تھانوں کا قیام بھی بے نظیر کے دور میں شروع ہو چکا تھا ۔ وویمن یونیورسٹی کے علاوہ خواتین کی عائلی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات ان کی اوّلین ترجیح تھی ۔ ان کے قریبی رفقاء راوی ہیں کہ وہ خواتین کے لئے سلگ دے عدالتیں اور ترقیاتی بنک قائم کرنا چاہتی تھی لیکن زندگی نے ان سے وفا نہ کی ۔اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دختر مشرق نے ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے فرانس کے ساتھ ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا ۔ سیاست کے طالب علم اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ نہ صرف ایک کامیاب سیاسی رہنما تھی بلکہ ایک بہترین مقرر اور محقق بھی تھی ، جس کا واضح ثبوت ان کے بین الاقوامی انٹرویو اور تقاریر ہیں جن میں انہوں نے نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بھر پور دفاع کیا بلکہ اسلام کی اصل تصویر مغرب کے سامنے رکھی اور مساوات ِ محمدی کو اپنی معیشت قرار دیا ۔
بے نظیر بھٹو نے قرآن حکیم کی تعلیمات سے مستفید ہو کر اسلام اور مغرب کے درمیان فاصلوں کو نہ صرف کم کرنے کی کوشش کی بلکہ اسلام کی ایک عملی تصویر بھی پیش کی ۔ناقدین نے ان پر مغرب سے متاثرہ خاتون کا لیبل لگایا ہے لیکن ان کی شخصیت کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے سفید دوپٹے کو انہوں نے کبھی سر سے ڈھلکنے نہ دیا۔ محترمہ کا لباس ، اْن کی چال ڈھال اور گفتگو ہی ان کی مسلم شناخت کے لئے کافی تھیں ۔ان کے ماتحت عملہ کو سختی سے ہدایت تھی کہ وہ ہر مہمان کو وزیراعظم کے پاس آنے سے پہلے یہ بتا دیا کریں کہ وزیراعظم مردوں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتی ۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جب بھی ٹیلیفون پر بات ختم ہونے لگتی تو وہ کہتیں ٹھہرومیں دْعا پڑھ لوں۔بے نظیر کے خون ناحق کے چھینٹے کس کے دامن پر ہیں ، ہو سکتا ہے اس کا فیصلہ ہماری زندگیوں میںنہ ہوسکے لیکن لیاقت علی خاں شہید سے لے کر بے نظیر کی شہادت تک ہماری تاریخ کے گم شدہ اوراق میں وہ راز پنہاں ہیں جو اگر طشت از بام ہو جائیں تو سب کچھ الٹ پلٹ ہو جائے گا لیکن ہر خون ناحق میں آستیں کا لہو ہی فیصلہ کن ہوتا ہے اور اسی خون نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیاست کی کتابوں اور عوام کے دلوں میں امر کر دیا ہے ۔ بقول شہزاد نیّر
ضیائے نو کے دشمنو! طلسم دیکھتے چلو
دیے کی لو تو بجھ گئی مگر نہ روشنی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com