بچپن لوٹا دو

تحریر:مجیداحمد جائی ملتان
بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر
اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی
”بچپن لوٹا دو“ان حروف میں کیسا درد چھپا ہے۔التجائیں اور درخواستیں ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی کے بچپن لوٹ نہیں سکتا۔پھر بھی حسرت رہتی ہے کے میرابچپن لوٹ آئے۔یہ حسرت کیوں رہتی ہے؟کیونکہ بچپن میں بے فکری ہوتی ہے۔اپنے تو اپنے، غیروں کا بھی لاڈ پیار ملتا ہے۔ہر چھوٹی بڑی فرمائش پوری ہو تی ہے۔والدین،بہن بھائیوں کو پیارے تو لگتے ہی ہیں لیکن خاندان کے دُشمنوں سے بھی پیار پاتے ہیں۔
ان باتوں اور یادوں کو ہر ذی شعور یاد کرکے ”بچپن لوٹا دو“کی درخواست کرتا ہے۔اس کی خواہش ہوتی ہے،تمام فکریں،ذمہ داریاں،اُلجھنیں کہیں دُور بہت دُور چلی جائیں اور میرا بچپن لوٹ آئے۔جہاں مسکراہٹیں تھیں،شرارتیں تھیں،محبتیں تھیں،اپنوں کے کندھے تھے۔مرد وزن کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ہر کسی کی گود میسر تھی اور پیار ہی پیار تھا۔تحقیق کی جائے تو پچانوے فیصد لوگوں کا بچپن حسین ہوتا ہے اور پانچ فیصد ایسے ہوتے ہیں جن کا بچپن کر ب ناک ہوتا ہے۔ان چند کے بچپن کی طرف کوئی نہیں دیکھتا۔
ممتاز غزنی ”بچپن لوٹا دو“میں کچھ یوں لکھتے ہیں ”بچپن کا زمانہ بڑی نایاب اور انمول شے ہے۔یہ دور انسان کی وہ قیمتی متاع ہے جس کے کھوجانے کا غم انسان کو ہمیشہ ستاتاہے۔انسان کتنے ہی بلند مقام و مرتبے یا کسی بھی عمرکو پہنچ جائے لیکن ضرور کبھی کبھارمٹی میں کھیلتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچپن کی شرارتوں سے مزین معصوم وسہانی یادیں اس کی آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ جاتی ہیں اور انسان ایسی وادیوں میں گم ہو جاتا ہے،جن سے واپس لوٹنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔“
جی ہاں ”بچپن لوٹا دو“کتاب کا نام ہے۔میرے پیارے دوست ممتاز غزنی نے اپنے بچپن کی میٹھی حسین یادوں کو صفحہ قرطاس پرپھیلایا ہے جس کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر قاری اپنے بچپن کی حسین یادوں کی وادی میں کھو جاتا ہے۔جدیدیت کے اس دور میں جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے ممتاز غزنی جیسے لوگ موجود ہیں۔جن سے بات کرکے،جن کا تصور کرکے انسان چند لمحے ہی سہی پُرسکون ہوجاتا ہے۔ممتاز غزنی کتاب دوست ہے اور اب صاحب کتاب بھی بن گیا ہے۔نہایت شریف النفس انسان ہے۔اس کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔جن پہ بات کرنے کے لیے بہت سا وقت چاہیے۔ہزاروں چاہتیں اس ایک بندے کے ساتھ جڑی ہیں لیکن اس شخص نے میرے ساتھ بہت ظلم کیا ہے۔میں اپنے بچپن کو یاد نہیں کرنا چاہتا لیکن اس نے لمحہ لمحہ مجھے اُس زمانے میں غوطہ زن کیا ہے۔خود تو تڑپا ہی ہے لیکن مجھے بھی ساتھ ساتھ کرب میں مبتلا کیے رکھا ہے۔
ممتاز غزنی تین سال قبل دریافت ہوئے ہیں۔کہاں کشمیر،کہاں لاہور اور پھر ملتان کا یہ باسی،جس کی کوئی اوقات نہیں۔کرم اُس ذات کا جس نے سینے میں ایسا دل رکھ دیاجو کتاب سے محبت رکھتا ہے اور کتاب دوست کا دوست ہے۔ممتاز غزنی بھی کتاب کی ہی بدولت ملا ہے۔جائی ادبی لائبریری کے لیے گاہے گاہے کتب خرید کر تحفتاًارسال کرتے رہتے ہیں۔یہی ہی نہیں منتظم لائبریری کے لیے بھی اسباب کرتے رہتے ہیں۔
”بچپن لوٹا دو“تخیلاتی طور پر موجود تھی لیکن صفحہ قرطاس پر نہیں آئی تھی۔ممتاز غزنی نادر ونایاب چیزوں پہ لکھی تحریریں فیس بک پر پوسٹ کر رہے تھے تب میں نے عرض کیا، ان کو کتابی شکل میں بھی لایاجائے۔قبولیت کی گھڑیاں تھیں اور ”بچپن لوٹا دو“کے نام سے کتاب وجود میں آگئی۔اس کتاب میں جادو ہی جادو ہے۔بندے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور حسین و جمیل یادوں کی وادی میں لے جاتی ہے۔یہاں سے لوٹنے کا دل نہیں کرتا۔کشمیر،پہاڑی پونچھی تہذیب وتمدن اور ثقافت پر خوب صورت کتاب ہے۔
”بچپن لوٹادو“طویل مدت میں مطالعہ کرپایا ہوں۔وجہ یہی ہے کے میں اس کے لفظ لفظ میں ڈوب جاتا رہاہوں۔آنکھوں سے نمکین سیلاب ٹھاٹھیں مارتا رہا ہے۔رخسار ڈوبتے رہے ہیں۔اس کو پڑھنے کے بعد جان پایا ہوں کے کشمیر اور ملتان کی ثقافت و کلچر میں کافی حد تک مماثلت ہے۔”بچپن لوٹادو“192صفحات پر مشتمل ہے اس کے علاوہ چالیس صفحات رنگین ہیں۔جن پہ نادر و نایاب چیزوں اور بچھڑنے والے بزرگوں کی رنگین تصویریں دی گئی ہیں۔اکتوبر2020ء میں دارالمصحف لاہور نے نہایت نفاست اور خوبصورتی سے شائع کی ہے۔اس کی قیمت 500روپے رکھی گئی ہے۔
”بچپن لوٹا دو“یادوں پر مشتمل ہے ہی لیکن ایک عہد کی تاریخ،ثقافت و کلچر سے متعارف کرواتی یہ کتاب معلومات بھی فراہم کرتی ہے۔اس کتاب کو پڑھتے ہوئے کہیں مسکراہٹیں پھیلتی ہیں تو کہیں آنکھیں آنسوؤں میں نہاتی بھی ہیں۔اس کتاب کو کئی ابوابا ب میں تقسیم کیا گیا ہے۔زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے؟میں بچھڑنے والوں کی یادیں اور باتیں ہیں۔ہمارے پھل،سبزیاں اور بچپن کی یادیں،میں مختلف سبزیوں اور پھلوں سے جڑی مصنف کی یادوں سے استفادہ ہوتا ہے۔یوں ہمیں معلوم ہوتا ہے کے مصنف نے پہلی بار امردو کب کھائے۔
حشرات،پرندے،جانور اور بچپن کی یادیں،میں پڑھتے ہوئے پرمسرت یادوں میں کھو جاتے ہیں اور لبوں پہ مسکراہٹ کے پھول کھل جاتے ہیں جیسے تریڈالی۔لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو،میں استعمال میں رہنے والی چیزوں کے بارے مدلل لکھا گیا ہے اور یہ باب طویل بھی ہے۔کولوٹی سے اے ٹی ایم تک،ماچس کی ڈبیہ کا ٹیلی فون،نیک نگاہوں کو سلام جیسی بہترین اچھوتی تحریریں ہیں۔انتساب،اپنی شریک حیات اور بیٹے عبدالرحمن اور بیٹی ہادیہ ممتاز کے نام کیا گیا ہے۔نسیم سلیمان اور عمر فاروق عارفی کے تاثرات بھی شامل کتاب ہیں۔
”بچپن لوٹادو“چند یادوں کا مطالعہ ”سن 2000ء میں ابا کی طرف سے ملنے والا قیمتی قلم،جہلم سے اسلام آباد سفر کے دوران کہیں گم ہوگیا۔“”تمن“کے درخت کی شاخیں جہاں سکول میں استاد بچوں کو سزا دینے کے لیے استعمال کرتے تھے وہاں کھاری بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتیں تھیں۔“کھاری (ٹوکری)۔”اب ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے لیکن ہمارے اندراندھیروں نے بسیرا کرلیا ہے۔“”اب خود کفالت کا نہیں بلکہ کشکول کا دور ہے۔“”اگر کوئی غلطی سے الٹی شلوار یا قیمض پہن لے تو کہا جاتا تھا آج کوئی پکا قیدی چھوٹ گیا ہو گا۔“”پیٹ کی بیماریوں کا علاج پیاز کوٹ کر،اجوائن اور کالے نمک کی پھکی مار کر پودینہ اور برینہ سے اور سرکہ پلا کر کیا جاتا تھا،گردے کے درد کے لیے مکئی کی چھلی اور بُور اُبال کر پیئے جاتے تھے۔“”چاند کی آمد کا انتظار اب نہیں رہتا کیونکہ اب ہر ایک کا اپنا چاند ہے،وہ اس کے ساتھ مصروف ہوتا ہے۔“۔
”بچپن لوٹادو“مصنف کہیں حکیم ہے تو کہیں ڈاکٹر،کہیں طنز کرتا ملتا ہے تو کہیں مزاح کرتا ہے۔کہیں بچپن کے ساتھیوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہا ہے تو کہیں ان کے بچھڑنے کے غم میں مبتلا ہے۔کتاب کا سرورق بہت دیدہ زیب ہے،بیک ٹائٹل پہ ”
مدت سے دید کو ترستی آنکھیں
ماں تجھے سلام عقیدت کہتی ہیں
اس شعر کے ساتھ والدہ سے محبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یوں پوری کتاب کا مطالعہ کرنے کے لیے آپ کے دل و گردے مضبوط ہونے چاہیے ورنہ میرے جیسا حال ہوگا۔مصنف کو صاحب کتاب بننے پر پورے دل سے مبارک باد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com