ڈیموکریسی یا شیموکریسی

عمران امین
معروف مصنف ابن انشاء لکھتے ہیں ”ایران میں کون رہتا ہے؟ ایران میں ایرانی قوم رہتی ہے۔انگلستان میں کون رہتا ہے؟ انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے۔فرانس میں کون رہتا ہے؟ فرانس میں افرانسیسی قوم رہتی ہے۔یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے اس میں پاکستانی قوم رہتی ہو گی؟ نہیں اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی۔اس میں سندھی قوم رہتی ہے،اس میں پنجابی قوم رہتی ہے۔اس میں یہ قوم رہتی ہے،وہ قوم رہتی ہے۔لیکن پنجابی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں،سندھی بھی ہندوستان میں رہتے ہیں۔پھر یہ ملک الگ کیوں بنایا تھا؟۔غلطی ہو گئی،معاف کر دیجئے، آئندہ نہیں بنائیں گے“۔کیا ابن انشاء نے کئی سال پہلے سچ کہا تھا؟۔کیا واقعی ہم اب تک پاکستانی قوم کی شکل اختیار نہیں کر سکے؟۔اگرچہ یہ افسوس کی بات ہے مگرضروری ہے کہ اب پاکستانیوں کو اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا ادراک کرنا ہوگا،سوچنا ہو گا کہ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کے حصول کے لیے لاکھوں فرزندان توحید نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے،اپنی آل اُور اپنے مال کو آزاد وطن کی محبت میں نثار کیا۔یہ اُور دیگر چندسوالات ایسے ہیں جن کے جواب جاننا بہت ضروری ہے۔ جبکہ دوسری طرف ساری دنیا پاکستان کی COVID-19میں اچھی کارکردگی کو سراہ رہی ہے، سیاسی اُور یتیم جوکروں کی بے ہنگم اچھل کود میں FATF کے بلوں کی منظوری ایک بڑی کامیابی ہے،پورے ملک میں کنسٹرکشن کے میدان میں تیزی آچکی ہے،معیشت بحال ہو رہی ہے،معروف غیر ملکی ادارے پاکستان کو سیاحت کے لیے موزوں ملک قرار دے رہے ہیں،تجارتی خسارے میں کمی لائی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں ٹی ٹی اُوربے نامی اکاؤنٹس اپنے ساتھ شکست خوردہ چہروں کی ٹیم لے کر میدان میں اُترے، مگر پہلے ہی اُوور میں اُوپننگ جوڑی آؤٹ ہو گئی۔ پچھلے دنوں بے نقاب ہونے والے چند حقائق نے ا س سوئی ہوئی قوم کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ان حقائق سے ہماری سیاست کے بے توقیر سرداروں اُور نقاب پوش داکوؤں کا اصل چہرہ سامنے آیا ہے۔یاد رہے کہ حکمران آتے اُور جاتے ہیں،شخصیات آتی اُور جاتی ہیں مگر ریاست کے ادارے قائم رہتے ہیں۔ان اداروں پر عوام کے اعتماد کا برقرار رہنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ ریاستی اداروں کی کوئی جماعت نہیں ہوتی لہذاسب ادارے عوام کی فلاح اُور بھلائی کو پیش نظر رکھ کر اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔پاکستانی اداروں نے ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کے پیش نظر اقدامات اُٹھائے ہیں۔ ہمارے دشمن ممالک ہمیشہ سے ہمارے اداروں کی مضبوطی اُور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے خائف رہے ہیں اُور اُن کی جانب سے عوام کی نظروں میں ان اداروں کا مقام گرانے کی دانستہ کو ششیں کی جاتی رہی ہیں۔اس مہم کو کامیاب کرنے کے لیے پاکستان میں قائم کئی سفارت خانے اندرون خانہ پاکستان کی سیاسی،مذہبی،لسانی اُور آزاد خیال جماعتوں کو باقاعدہ فنڈنگ کرتے ہیں۔جبکہ ہماری شکست خوردہ سیاسی قیادت کی ذہنی بلوغت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے اقتدار میں کبھی سکھوں کی لسٹیں دشمنوں کو دیتی ہے،کبھی سیاچین کا سیاہ دھبہ قوم کے روشن چہرے پر لگاتی ہے،کبھی دوسرے ممالک میں دشمن سربراہوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتی ہے،کبھی بغیر ویزوں کے دشمن بھارتی دوستوں کو مدعو کیا جاتا ہے، کبھی کاروباری معاملات میں مدد کے لیے بھارتی کاروباری شخصیت سے چھپ کر ملا جاتا ہے،کبھی ممبئی حملوں کے کردار کا ایڈریس بتایا جاتا ہے نیز پاکستان فوج کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے پاکستان کو بدنام کیا جاتا ہے۔یہ ہے ہماری اُصول پسند اُور جمہوریت کی دلدادہ سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کا اصل کردار،جن کے وجود سے ملک دشمنی کی بو آتی ہے۔یہ اپنی بھولی عوام کی خوشیوں کے قاتل ہیں جو انجانے میں ان کو اپنا ناخدا سمجھ بیٹھے ہیں۔یہ سیاسی جوکرجب ضرورت ہوتی ہے چھپ چھپ کرپاک فوج سے ملاقاتیں کرتے ہیں تاکہ ان کی کرپشن پر پردہ ڈالا جائے اُورمنی لاندرنگ کے کیس ختم کیے جا سکیں۔جب فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے آئینی کردار کا دائرہ کار بتاتے ہوئے معذرت کر لیتے ہیں اُور عدالتی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہیں تو یہ چور،لٹیرے،، رسہ گیر اُور بدمعاشوں کا ٹولہ اپنی ہی پاک فوج کے خلاف اُول فول بکنے لگتا ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ سادہ عوام اُن کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر پاک فوج کی اس ملک و قوم کے لیے دی گئی قربانیوں کو بھول جائے گی۔ یہ سراسر اُن کی بھول اُور غلط فہمی ہے،پاکستانی غیور عوام اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتی،خصوصاًجنہوں نے اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال کرکبھی طوفانوں میں،کبھی زلزلوں میں اُور کبھی سیلابوں میں اپنے لوگوں کی حفاظت کی۔ حفاظتی ٹیکوں کی بات ہو،تعلیمی بہتری کی بات ہو،بجلی چوری کا معاملہ ہو،الیکشن کے دن ہو،غرضیکہہر مشکل گھڑی میں ہماری فوج کے جوان اپنے لوگوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ایسے جان نثار اُور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل ادارے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے جمہوریت کی نام نہاد چمپیئن سیاسی قیادت یہ تو بتا دے کہ وہ کونسی جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟۔کیا اُن کی مُرادایسا جمہوری رویہ ہے جس میں پارٹی قیادت ایک گھرانے تک محدود ہو گی،ایک بھائی وزیر اعظم اُور دوسرا وزیر اعلیٰ ہو گا،بیٹی کسی بھی عوامی یا سرکاری عہدے کے بغیر تمام ملکی معاملات میں اپنی مرضی چلائے گی،نواسے کو مستقبل کی قیادت کے طور پر سامنے لایا جائے گا کیونکہ ایک دن مرنا تو سب نے ہے۔دوسری طرف بیوی کے بعد شوہر،شوہر کے بعد اُس کا بیٹا اُور پھر نسل در نسل شفٹ ہوتا اقتدار۔جس میں عوام کا کام صرف ووٹ دینا اُور حکمران نسلوں کی غلامی کرنا ہے۔کیا یہ ڈیموکریسی ہے یا شیموکریسی؟؟؟۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com