عدالتی فیصلے

عدالتی فیصلے
تحریر انور علی
عدالت میں جاری کیسز پہ تو بات نہیں ہو سکتی لیکن جب فیصلہ آجائے تو وہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے آپ اس پہ بات بھی کر سکتے ہیں اور اس پہ اپنی آراء بھی دے سکتے ہیں لیکن پاکستان میں ” مخصوص ” سیاسی تناظر میں ہم محتاط طریقے سے ہی بات کر سکتے ہیں ہمیں اپنی حدود و قیود کا خاص طور پر خیال رکھنا پڑتا ہے تھوڑا سا آگے چلنے کے بعد ہمیں بار بار ریڈ لائن کی طرف دیکھنا پڑتا ہے کہ کہیں ہم ریڈ لائن کراس تو نہیں کر رہے اور اگر ہمیں تھوڑا سا بھی شائبہ ہو تو ہم راستہ بدل لیتے ہیں اس کی وجہ ہمارا ” مخصوص ” ریاستی نظام ہے جو قدم قدم پر ہمیں اپنی ” ذمہ داری” کا احساس دلاتا رہتا ہے لیکن نہ جانے کیوں کچھ عرصے سے اس ریاستی نظام پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں لوگ اشاروں کنایوں کی زبان سے باہر نکل رہے ہیں سوشل میڈیا پہ تو بہت عرصے سے باتیں ہورہی تھیں لیکن اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ بھی ہمارے ” مخصوص ” ریاستی نظام پر لکھا اور بولا جارہا ہے آپ اسے سیاسی ارتقاء کہہ لیں یا کچھ اور لیکن بہرحال یہ پاکستانی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے جس سے معاشرے میں پائے جانے والی گھٹن کو کم کرنے میں مدد ملے گی
اگر ہم اس تازہ ہوا کے جھونکے کی وجہ تلاش کریں تو وہ دو عدالتی فیصلے ہیں جو حالیہ دنوں میں عدالت کی طرف سے سنائے گئے پہلا کیس آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ تھا جسے حنیف راہی نامی شخص نے دائر کیا لیکن حکومت کی غلط   حکمت عملی کی وجہ سے حکومت کو عدالت میں بار بار سبکی کا سامنا کرنا پڑا پھر ایک شارٹ آرڈر کے ذریعے سپریم کورٹ نے حکومتی یقین دہانی پر چھ ماہ کی توسیع دی اور معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا لیکن اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ریمارکس اور اٹھائے گئے سوالات نے سوسائٹی میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ایسے ارتعاش کی وجہ غیر متوقع سوالات نہیں تھے بلکہ اتنے بڑے فورم پر یہ سوالات اٹھائے جانا وجہ تھی اب جبکہ یہ تفصیلی فیصلہ آچکا ہے لیکن حکومت سپریم کورٹ کی ڈائریکشن کے باوجود ابھی تک کوئی لائحہ عمل نہیں بنا سکی حکومت قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں بیٹھی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی بجائے ان کو اشتعال دلا کے پارلیمنٹ کا ماحول خراب کر رہی ہے جس کا اثر پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پر بھی پڑے گا۔دوسرا بڑا فیصلہ مشرف کا کیس ہے جس پہ ہر طرف بحث ہورہی ہے اخبارات میں کالم اور سپیشل ایڈیشن چھپ رہے ہیں ہر کوئی اسی موضوع کو پڑھنا اور سننا چاہتا ہے لوگ مختلف دانشوروں کو اپنے جذبات کا ترجمان کہہ رہے ہیں کوئی سزا کے حق میں دلائل دے کے اپنے آپ کو جمہوریت پسند ثابت کر رہا ہے تو کوئی سزا کے خلاف دلائل دے کے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے لیکن فیصلہ آچکا ہے اور ایسے فیصلے تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اب اس فیصلے پہ میڈیا کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میں بھی بحث چھڑ چکی ہے گویا یہ چھپی ہوئی بحث ایک گھٹن تھی جو الفاظ کا روپ دھار رہی ہے یقینا اس طرح کے فیصلوں اور بحث ومباحثے سے ریاست کو اپنے نظام میں تبدیلیاں لانا پڑیگی جس سے جدید دور کے تقاضے پورے ہونے کے ساتھ ساتھ شخصی آزادی کو بھی بڑھاوا ملے گا۔اس ماحول میں حکومت کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو کس طرح ڈیل کرتی ہے اور عوام کے سامنے اپنا کیا بیانیہ پیش کرتی ہے کیوں کہ دونوں فیصلوں کے بڑے تاریخی اور دور رس نتائج ہوں گے لیکن عمران خان کے سابقہ یوٹرنز کو دیکھتے ہوئے امید یہی کی جارہی ہے کہ حکومت معاملات کو سنبھالنے کی بجائے مزید الجھاؤ پیدا کرے گی اور عمران خان آئین معطلی کی سزا کے اپنے موقف پہ بھی یوٹرن لے لیں گے۔معاشی اور سیاسی معاملات میں الجھی ہوئی حکومت نے خارجہ پالیسی کے معاملات میں بھی ایک اور یوٹرن کا اضافہ کرلیا ہے یعنی حکومت کی طرف سے ملائیشیا کے دورے کی منسوخی کا اعلان کردیا گیا ہے ملائیشیا میں قائم کانفرنس کا فیصلہ مشترکہ طور پر ترکی پاکستان اور ملائیشیا نے کیا تھا جس میں تمام مسلم ممالک کو دعوت دی گئی تھی لیکن عمران خان نے سعودی حکومت کے دباؤ میں آکر اپنا دورہ منسوخ کردیا اور وزیر خارجہ کو اپنی جگہ ملائیشیا بھیجنے کا فیصلہ کیا لیکن اس پہ بھی یوٹرن لے لیا گیا عمران خان کے اس فیصلے سے پاکستان کو عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف عالمی اخبارات نے اپنی ہیڈلائنز میں اس بات کا ذکر کیا کہ پاکستان نے سعودی دباؤ میں آ کے ملائیشیا کا دورہ منسوخ کیا۔تاریخ میں بہت سے مواقع ایسے آتے ہیں جہاں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں جہاں عہدوں کی قربانی دے کے بھی ملک و قوم کے وقار میں اضافہ کیا جاتا ہے کوئی جو مرضی کہے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی بڑی وجہ ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھنا تھی جس کی وجہ سے وہ عالمی سازشوں کا شکار ہوئے نواز شریف کے ایٹمی دھماکے اس کی دوسری حکومت لیڈوبے نوازشریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں بھی بڑے مشکل فیصلے کیے جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں ان میں امریکی بلاک سے نکل کر روسی بلاک میں جانا سعودی تیل کی امپورٹ کم کرکے قطر سے ایل این جی امپورٹ کرنا اور یمن میں فوج نہ بھیج کر سعودی عرب اور یو اے ای کو ناراض کرنا شامل ہے تاریخی یاددہانی کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ نواز شریف کی وزارت عظمی سے فراغت کا سبب یوایای کا اقامہ ہی نکلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com