جملہ حقوق محفوظ

جملہ حقوق محفوظ
سید عارف نوناری
جملہ حقوق محفوظ ہیں،کتابوں پر لکھا ہوتا ہے کہ جملہ حقوق بحق مصنف یا پبلشر محفوظ ہیں۔نکاح کے بعد عورتوں کے بھی جملہ حقوق حفاظت میں آ جاتے ہیں۔حقوق کی قِسمیں حقوق العباد اور حقوق اللہ ہیں۔حقوق العباد تو اللہ کی رضا مندی اور عقیدت مندی سے باہمی تعاون سے معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد کے مراحل بہت مشکل ہیں۔لہٰذا حقوق کی اہمیت اور افدایت بہت ہے۔ہمارے دوست بتاتے ہیں ان حقوق کی آگاہی اور بیداری کے لئے ”شوہر کے حقوق“کی کتاب بیوی کو لا کر دی اور اس کے پہلے دو ورق بھی الٹ پلٹ کر نہیں دیکھے پھر چند ماہ کے بعد اس نے ”بیوی کے حقوق“کتاب لا کر اپنی بیوی کو دی تو وہ ساری رات یہ کتاب پڑھتی رہے اور مکمل کر کے صبح کو سوئی۔حقوق کا خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کھانا کھانا اور سونا پاکستان میں میری حقوق کی اتنی پروا کی جاتی ہے کہ اب ان کو حقوق کے بجائے حق حقوق کے الفاظ میں استعمال کیا جاتا ہے۔رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق اتنے ضروری نہیں رہے ہیں جتنا ان حقوق کے اوپر اپنے حقوق کادعویٰ کرنا اور ان کے استعمال میں اپنی رائے کو مقدم رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔مثلاً اب بیوی کے حقوق آپ کے پاس نہیں رہے بلکہ وہ بیوی کے والدہ،والدہ اور بہن بھائیوں کے پاس جملہ حقوق کے ساتھ منتقل ہو گئے ہیں جس کے نتائج گھریلو لڑائی جھگڑے اور پھر نوبت طلاق تک آ جاتی ہے۔انسانیت کی قدرو منزلت و انسانی حقوق کی اب کوئی قدر نہیں رہی،انسانی ضابطہ اخلاق سے بھی اب ہم باہر ہو گئے ہیں۔اب ہمسایوں کے حقوق کو ہم حقوق سمجھتے ہی نہیں ہیں اور رشتہ داروں کے حقوق کی پروا کئے بغیر ان کو جملہ حقوق کے ضمن میں محفوظ کر لیتے ہیں اگر ہمسایوں کے حقوق کو دیکھ لیں یا پڑھ لیں تو کوئی شخص رات کو بھوکا نہ سوئے اور ہم اپنی دولت کی تقسیم کے ذریعہ جو فالتو ہے اور بینکوں یا تجوریوں میں پڑی ہے ہمسایوں کی ضروریات یعنی بنیادی ضروریات پر خرچ کر دیں تو کیسا معاشرہ وجود پا سکتا ہے۔وہ آپ خود مشاہدہ کر سکتے ہیں اور مصائب اور مشکلات میں کتنی کمی ہو سکتی ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہیں اگر دیکھ لیں کہ ہمیں یہ بھوکا تو نہیں سویااور اپنے فالتو رزق سے اس کو رزق مہیا کر دیں ایسے معاشرہ کی پاکستان کو ضرورت ہے۔دولت کی غیر مساوی تقسیم کا فلسفہ ہی اصل میں غربت کی وجہ ہے جن کے پاس ضروریات زندگی سے زائد روپیہ ہے۔انہوں نے خود ہی غریب کو تلاش کر کے اپنے پیسہ کو خرچ کر دینا چاہیے۔دین اسلام بھی اسی سبق کا درس دیتا ہے اور اسلام میں بے شمار ایسے معاشی حل موجود ہیں اگر ہماری معیشت اسلامی ہو جائے تو پھر پاکستان کے تمام اخراجات کو پیٹ بھر کر کھانا کھا کر سوئیں۔بات ہور رہی تھی جملہ حقوق تو فرشتوں کے پاس بھی کچھ حقوق محفوظ ہوتے ہیں مثلاً روح قبض کرنے کا حق صرف فرشتہ موت کے پاس ہے جس کو چھین کر استعمال کرنا مشکل ہے لہٰذا فرشتوں کے ذاتی معاملات میں بھی دخل اندازی سے پرہیز کر نا ہے۔یہ صحت کیلئے بہتر اور ضروری ہے۔جملہ حقوق محفوظ ہیں کا مطلب ہے کہ پبلشر کے پاس تمام حقوق تحفظ کے ساتھ رہ جاتے ہیں اگر یہی حقوق مصنف کے پاس ہوں تو پھر مصنف حفاظت کرنا ضروری ہے۔رشتہ داروں کے حقوق کا نہیں بلکہ رشتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ غیر ضروری حقوق کس طرح استعمال میں لاتے ہیں اور حقوق کا غلط اور بے جا استعمال کرتے ہیں جس سے معاشرہ اور خاندانوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے،معاشرہ کے بھی حقوق کو جانتا بہت ضروری ہے،سیاست دانوں کے پاس حقوق کی کمی نہیں ہوتی کیونکہ ان کے بنیادی حقوق کے علاوہ مخصوص سیاسی اور سماجی حقوق آئین کی دفعات کے ذریعہ ان کو ملے ہوتے ہیں،جملہ حقوق کے بارے میں ایک حدیث ہے، جس کو بیان کرنا بہت ضروری ہے جو ابو ہریرؓ سے روایت ہے اور مسلم کی حدیث ہے،رسول ﷺنے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پر کچھ حق ہیں پوچھا گیا یا رسولؐ وہ کیا ہے آپؐ نے فرمایا جب تو کسی مسلمان سے ملاقات کرے، تو اس کو اسلام کرو جب تجھ کو کوئی دعوت دے یعنی اپنی مدد کو بلائے یا کھانے پر بلائے تو دعوت کو قبول کرے جب تجھ سے کوئی نصیحت یا خیر خواہی چاہیے تو اس کو نصیحت کرے جب کوئی چھینکے اور پھر الحمد اللہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب دے، یعنی یا رحمت اللہ کہہ جب کوئی بیمار ہوتو اس کی عیادت کر جب کوئی مرجائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے عورتیں کے حقوق کی باتیں۔ البتہ معاشرہ میں بے چینی اور عدم سکون کی زندگی کا حل فقط جملہ حقوق کی پیروی میں مضمر ہے جس طرح کتاب کے پہلے صفحہ پر لکھا ہوتا ہے کہ جملہ حقوق کے بعد ہی آپ اس کتاب کو کھول سکتے ہیں اس طر ح کے حقوق کے بعد ہی آپ معاشرہ کی سمت درست کرسکتے ہیں برداشت کی قوت بھی بہت ضروری بلکہ اہم ہوگئی ہے آپ کو نصیحت ہے کہ آپ بیوی کے جملہ حقوق کی طرف ضرور توجہ دیں کیونکہ بیوی کو اپ کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اب لوگ ہمسایہ کو نہیں جاتنے ہیں کہ ان کا کیا نام ہے وہ کل کتنے افراد پر مشتمل ہے اور ہمسایہ کا سربراہ کہاں کام کرتا ہے معاشرہ کے رویوں میں تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے رشتہ داروں میں احساس کا رشتہ ختم ہوگیا ہے بلکہ رشتہ داروں کی پہچان نہیں رہی ایسے رویے معاشرہ کی تباہی و بربادی کا باعث بنتے ہیں آج ہمارا معاشرتی نظام کیوں تباہ و برباد ہوگیا ہے اور احساسات مار پیٹ میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں خاندانوں کا سکون ختم ہوکررہ گیا ہے اور گھریلو زندگیاں عذاب بن گئی ہیں معاشرہ کو اسلامی تعلیمات کی ضرورت ہے۔
جملہ حقوق کا مطلب اور مقصد بھی یہی ہے۔ پولیس کے پا س فرائض واختیارات کے علاوہ اس قسم کے جملہ حقوق بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ جن کا استعمال وہ بڑی سوچ سمجھ کے ساتھ کرتے ہیں۔ لہٰذ ایسے حقوق کو دیکھنے کے لئے پولیس سے تربیت حاصل کرلینے چاہیے۔عورتوں اور بیویوں کے حقو ق کے بنیادی فرق ہے۔ عورتوں کے حقوق فقط اپنے استعمال کرنے کے لئے لازمی ہوےء ہیں۔ لہٰذا بیویوں کو اپنے حقوق استعمال کرنے میں کوئی آر محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ احادیث کی مستندکتابوں کا مطالعہ ان کے لئے ضروری ہے اب تھوڑی سے بات کرونا حقوق کی بھی ہونی چاہیے۔ کرونا نے اپنے حقوق کا استعمال بے دریغ کیا ہے۔ اور ہزاروں انسانوں کو نگل گیا ہے۔ یار کچھ تو تم انسانیت اورانسانی قدروں کی تابعداری کرنا تم پر لازم ہے۔ لہٰذا انسانوں کی جان چھوڑ دواور سکھ کا سانس لینے دواللہ تعالیٰ ہی تمہیں ہدایت کے راستہ پر چلاسکتا ہے ہم تو بے بس اور لاچار ہیں۔ تم نے لاکھوں انسانوں کو اپنی حواس کا نشانہ بنا یا ہے۔ فقط کرونا کے خاتمہ کے جملہ حقوق اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہیں اور وہی ہم سب کی حفاظت کرسکتا ہے۔ اے کرونا تمہیں ااپنے اپنے جملہ حقوق چھوڑدینے چاہیں۔اور بندوں پر رحم کھانا چاہیے۔ورنہ اللہ تو قادرمطلق ہے۔اور وہ اپنے بندوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com