علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادریؒ

1953ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے سربراہ اور جمعیت علمائے پاکستان کے بانی صدر
علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادریؒ
21جنوری کو 60واں یوم وصال ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منایا گیا

پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری
حضرت علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری رحمتہ اللہ علیہ پاکستان میں اسلامی تحریکوں کے احیاء کے علمبردار، جیدعالمِ دین، فقیہ اور مفسر قرآن تھے۔ آپ کا شمار ان اکابرمیں ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانانِ برصغیر کی بروقت دینی اور سیاسی رہنمائی کی اور تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی کشمیر میں قائدانہ خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادیؒ اور مجاہدِ ملت مولانا عبدالحامد بدایونی ؒکے ہمراہ قراردادِ مقاصد کی ترتیب و تدوین میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی خدمات نصف صدی پر محیط ہیں۔ آپ نے تفسیر الحسنات کے علاوہ متعدد کتب بھی تصنیف فرمائیں جو بہترین علمی، ادبی اور تحقیقی شاہکار ہیں۔
علامہ سید ابوالحسنات قادری رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق مشہدِ مقدس کے سادات خانوادے سے ہے آپ کے والد ماجد مولانا سیددیدار علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ عظیم محدث اور مفسر تھے۔ آپ کا خاندان مشہدِ مقدس سے ہجرت کرکے ریاست الور میں وارد ہوا۔ آپ کی ولادت 1896؁ء میں محلہ نواب پورہ الور (بھارت) میں ہوئی۔ 12سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اردو، عربی اور فارسی میں مہارت حاصل کی۔ پھر تمام علوم و فنون اپنے والد ماجد مولانا سید دیدار علی شاہؒ، مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی ؒ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ؒ سے حاصل کیے۔ آپ کو شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین کچھوچھہ شریف (ضلع فیض آباد، بھارت) سے خلافت و اجازت حاصل تھی۔ 1926؁ء میں آپ اہالیان لاہور کی درخواست پر لاہور تشریف لائے اور تاریخی مسجد وزیر خان کی خطابت کے فرائض سنبھالے اور تادم زیست اس منصب پر فائز رہے۔ آپ کے دور میں مسجد وزیر خان اپنی تاریخی شکوہ و عظمت کے ساتھ علمی،ادبی،دینی،تبلیغی اور سماجی سرگرمیوں کا بھی مرکز بن گئی۔ اہلیان لاہور کے علاوہ دور دراز علاقوں سے عوام و خواص مسجد وزیر خان پہنچتے اور آپ کے سحر خطابت سے مسحور ہوتے۔ ہزار وں غیرمسلم آپ کے دست حق پرست پر دولت اسلام سے مالا مال ہوئے۔
علامہ ابوالحسنات قادری ؒ نے تحریک پاکستان شاندار خدمات سرانجام دیں اور اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1936ء میں مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا اور اس کے پروگرام کو عوام تک پہنچانے کے لیے شب و روز کوشاں رہے۔ علمائے پنجاب میں سب سے پہلے آپ ہی نے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔
1940؁ء میں جب منٹو پارک (اقبال پارک) لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تو آپ اس جلسہ کے سرگرم کارکنوں میں سے تھے۔ آپ نے قائداعظم ؒ سے ملاقات کرکے نظریہ پاکستان کی حمایت میں قلمی محاذ سنبھالا۔ روزنامہ ”احسان“ لاہور میں نظریہ پاکستان کی حمایت میں ایک طویل مضمون پانچ قسطوں میں شائع کرایا۔ آپ نے قائداعظم محمد علی جناحؒ۔امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری ؒاور پیر صاحب مانکی شریف ؒکے ساتھ مل کر ملک گیر دورے کرکے عوام کو نظریہ پاکستان سے روشناس کیا اور پاکستان کی حمایت کا جذبہ پیدا کیا۔1945؁ء میں فریضہ حج ادا کرنے کے لیے سعودی عرب تشریف لے گئے۔ تو وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے علماء اور حج وفود کے اجتماعات میں تحریک پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور علمائے اسلام کو قرار داد پاکستان کے نظریات پر متفق کرکے عملی تعاون پر آمادہ کیا۔
1948؁ء میں جب آزادی کشمیر کی تحریک شروع ہوئی تو آپ نے اپنی مساعی جمیلہ آزادی کشمیر کے لیے وقف کردیں۔ سب سے پہلے آپ نے جمعیت علمائے پاکستان کی جانب سے تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کی اور جہادکشمیر کے حق میں متفقہ فتویٰ جاری کیا۔ اس کے بعد عوامی اجتماعات میں مجاہدین کے لیے سامان جمع کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔ آپ نے موچی گیٹ لاہور میں ایک عظیم الشان کشمیر کانفرنس منعقد کی۔ جس میں صدر آزادکشمیر سردارمحمدابراہیم خان اور سید علی احمد شاہ بھی شریک ہوئے اور انہی کے ایماء پر مجاہدین کشمیر کی اعانت کے لیے لاکھوں روپے کا سامان جمع کیا گیا اس کے علاوہ کشمیر کے محاذ پر جاکر عملی طور پر حصہ لیا۔ اس دورے میں آپ کے صاحبزادے امین الحسنات مولانا سید خلیل احمد قادری ؒ۔ مولاناغلام محمد ترنم امرتسریؒ اور جمیعت علماء پاکستان کے دیگر اکابر بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ انہی خدمات کی بدولت آپ کو غازی کشمیر کا خطاب دیا گیا۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم خان نے بھی کئی مرتبہ نماز جمعہ آپ کی اقتداء میں جامع مسجد وزیر خان میں ادا کی۔

”حضرت علامہ ابوالحسنات سید محمداحمد قادری ؒ کی زندگی میں، میں نے اکثر ان کے وعظ سنے اور قریب سے انہیں دیکھا اور تبادلہ خیالات کا موقع ملا۔ آپ علم کا ایک سمند رتھے۔ اور جس کسی نے پیاس کا اظہار کیا وہ فیض یاب ہوا۔ مولانا کی طبع ہی درویشانہ تھی آپ نے تمام زندگی سادہ انداز میں گزاری آپ عالم باعمل اور درویش صفت بزرگ تھے۔ آپ نے جس طرح تحریک ختم نبوت میں حصہ لیا اور قربانیاں پیش کیں وہ آپ ہی کا حصہ تھا“۔
آپ کی تصانیف میں تفسیرالحسنات کے علاوہ اوراق غم۔ طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف (چھ جلد)ترجمہ کشف المحجوب۔ شمیم رسالت۔ فرشتہ رحمت۔ اظہار الاسقام۔ فلسفہ جہاد اور کشمیر۔ احکام الجہاد۔ رفیق السفر۔ فلسفہ نمازو تکبیر۔ الخالد (تین جلد) بیاض کبیر۔ اربعین فی المعجزات۔ اربعین فی الطب۔ اربعین الاصلاح المومنین۔ دیوان حافظ۔ درود شریف۔ مسدس۔ مظہرالاسلام۔ ضرب کاری۔ تذکرہ حدیث۔ خصائص مصطفی۔ عیدالفطر۔ بیس رکعت تراویح۔ قرآن و حدیث پر تبصرہ اورکان نبوت کے جواہر پارے خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
علامہ سید ابوالحسنات قادری ؒ نے انتقال سے دو روز پہلے تفسیر الحسنات مکمل فرمائی۔ صبر و استقامت کے اس پیکر جمیل نے 2شعبان المعظم 1380ھ۔(20جنوری 1961؁ء جمعتہ المبارک) کو 12بجے دن داعی اجل کو لبیک کہا۔
مخدوم الاولیاء حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری سے بے پناہ عقیدت و محبت اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو حضرت داتا صاحب کے مزار پر انوار کے احاطے میں شرقی جانب دفن کیا گیا۔
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است برجریدہئ عالم، دوام ما

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com