”روح سخن“میں ”محشر خیال“کا باکمال شاعر احمد علی برقیؔ اعظمی

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
اعلیٰ معیار کی شاعری کرنا مرصع ساز کا ساکام ہے۔کیونکہ جذبات واحساسات اور تجربات ومشاہدات کے اظہار یا وقوع پذیر حالات وواقعات سے متاثر ہونے کے بعد جب ایک شاعر اظہار کا وسیلہ تلاش کرنے کے لیے شاعری کی کسی ایک صنف کا انتخاب کرتا ہے تو اس سلسلے میں اُس کے پاس طبعیت کا موذوں ہونا ایک بنیادی اورلازمی شرط ہے۔قافیہ و ردیف جوڑنا ہی شاعری نہیں ہے۔مانا ایک آدمی کو شاعری کرنے کا بہت شوق ہے لیکن شاعری کے لیے اُس کی طبعیت موذوں نہیں ہے تو وہ ہرگز شاعری نہیں کرسکتا۔پھر یہیں بات ختم نہیں ہوتی، شاعری ایک نازک فن ہے۔شعر وزن میں ہے یا بے وزن ہے،شعری جمالیات کو ابھارنے کے لیے صنعتوں کا برمحل استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔گویا وزن،بحر،ارکان اور قافیہ و ردیف کی درستی کو سمجھنے، جاننے اور پرکھنے کے لیے علم عروض سے واقفیت ضروری ہے۔پہلے زمانے میں شاعری سیکھنے کے لیے کسی ماہر عروض اور کہنہ مشق شاعر کے آگے زانوے تلمّذ تہہ کرنا پڑتا تھا۔کئی برسوں تک شعر کہنے کی مشق کروائی جاتی تھی۔اُس کے بعد شاگرد اپنے استاد کی دعائیں لیتا ہوا رخصت ہوتا تھا لیکن عصر حاضر میں شاعری سیکھنے کی یہ صحت مند روایت ختم ہوچکی ہے۔ اب شاعری کے شوق میں لوگ کیا کیا کہتے ہیں! اللہ ہی حافظ ہے۔دراصل شاعر وں کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک وہ جو فطری طور پر شاعر ہوتے ہیں۔دوسرے وہ جو فن شعر وشاعری سیکھنے کے بعد ارادتاً شاعری کرتے ہیں۔فطری شاعرپیدائشی طور پر شاعر ہوتے ہیں چونکہ اُن کی طبعیت شاعری کے لیے موذوں ہوتی ہے۔ایسے شاعروں کو علم عروض سیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی یعنی وہ بہ تکلف شاعری نہیں کرتے بلکہ شعراپنے آپ اُن کی زبان پہ جاری ہوجاتا ہے۔ایسے فطری شاعروں کے لیے علم عروض سیکھنا،سمجھنا اور اُسے برتنا آسان ہوتا ہے۔ عصر حاضر میں شعرا کاایک تیسرا گروہ بھی ہے جو نہ فطری طور پر شاعر ہیں اور نہ ہی قصداً شاعر ہیں لیکن اُنھیں شاعری کا صرف شوق ہوتا ہے، ایسے ہی شاعروں کو متشاعر کہا جاتا ہے۔ظاہر ہے شاعری پہ قدرت نہ ہونے کی صورت میں ایسے متشاعروں کو پشیماں ہونا پڑتا ہے۔
احمد علی برقی ؔ اعظمی کا شمارفطری شاعروں میں ہوتا ہے۔اُن کی طبعیت شاعری کے لیے بہت زیادہ موذوں ومناسب ہے۔اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اُنھیں شاعری وراثت میں ملی ہے۔کیونکہ اُن کے والدِ محترم رحمت الٰہی برق ؔ اعظمی اپنے زمانے کے ایک باکمال شاعر تھے۔جس کا اعتراف احمد علی برقی اعظمی نے ایک جگہ ان اشعارمیں کیا ہے:
میرے والد کا نہیں کوئی جواب
جو تھے اقصائے جہاں میں انتخاب
اُن کا ہے مرہونِ منت میرا فن
آج میں جو کچھ ہوں وہ ہے اُن کا خواب
اُن کے تھے اُستاد نوحؔ ناروی
داغ ؔ سے جن کا سخن تھا فیضیاب
احمد علی برقی ؔ اعظمی کی کئی شعری جہات ہیں۔اُنھوں نے حمد،نعت،منقبت،غزل،نظم اور عظیم مر حوم شخصیات کو منظوم خراج عقیدت اور بہت سی زندہ شخصیات کو جس خلوص ومحبت کے ساتھ خراج تحسین پیش کیا ہے وہ قابل تعریف اور قابل داد ہے۔برق رفتارشعری صلاحیتوں کے حامل احمد علی برقیؔ اعظمی کے پاس اردو،فارسی،انگریزی اور ہندی الفاظ،محاورات اور ضرب الامثال کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے۔ایک طرف جہاں شاعری کے لیے اُن کی طبعیت موذوں ہے تو دوسری طرف فن شاعری سے بھرپور واقفیت کے علاوہ وسیع مطالعے ومشاہدے نے اُن کی شاعری کوغیر معمولی شاعری بنادیا ہے۔اُن کے اشعار میں ایک ایسی فطری کشش ہے جو دل پر اثر کرتی ہے۔اُنھوں نے عصری میلانات وحادثات کو اپنے کلام میں بڑی سلاست وروانی اور اسلوب کی تازہ کاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔اُن کی موضوعاتی اور فی البدیہہ شاعری بڑی کمال کی شاعری ہے۔
احمد علی برقی اعظمی کے دو شعری مجموعے”روحِ سخن“اور ”محشر خیال“میرے مطالعے میں رہے۔اوّل الذّکر مجموعے میں شاعرکی روح لطیف جذبات واحساسات اور تغزل کی بساط میں سرگرداں ہے جب کہ دوسرے مجموعے ”محشر خیال“میں شاعر زندگی کی حشرسامانیوں اور ذہنی کلفتوں کا اظہار بڑی تازہ کاری اورقادرلکلامی کے ساتھ کرتا نظر آتا ہے۔
”روح سُخن“464صفحات پر مشتمل ہے جس کی ضخامت میں شاعرنے اپنی شاعری کی روح پھونک دی ہے۔تخلیق کار پبلشرزدہلی نے اس شعری مجموعے کو 2013؁ء میں نہایت دیدہ زیب صورت میں شائع کیا ہے۔ احمد علی برقی اعظمی نے اس کا منظوم ا نتساب اپنے والد محترم رحمت الٰہی برقؔ کے نام کیاہے۔فہرست میں جن سخن شناسوں نے احمد علی برقی ؔاعظمی کی شعری عظمت اور اُن کی شعرگوئی پر مضامین لکھے ہیں اُن میں سرور عالم رازؔ سرور،مظفر احمد مظفرؔ،عبدالحی،ڈاکٹر تابش مہدی،ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی،عزیز بلگامی،سید ضیا خیر آبادی،ڈاکٹر سیّدہ عمرانہ نشتر خیر آبادی،اسرار احمد رازی ؔ قاسمی،ڈاکٹر محمد صدیق نقوی،ڈاکٹر غلام شبیر رانا،انور خواجہ،حسن امام حسن اورڈاکٹر واحد نظیرؔ شامل ہیں کہ اُنھوں نے جو کچھ تحریر کیا ہے وہ برقی ؔنوازی کے ساتھ ساتھ قاری کی معلومات کے لیے کافی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ احمد علی برقیؔ اعظمی نے اپنا اور اپنے مذکورہ شعری مجموعے کا تعارف بھی منظوم صورت میں کرایا ہے۔اس کے بعد انھوں نے خالق کائنات کی حمد اور نعت رسول مقبول ﷺ سے اپنے کلام کا آغاز کیا ہے۔ظاہر ہے احمد علی برقی اعظمی ایک قادرالکلام شاعر ہونے کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں ایک توحید پرست،صوم وصلوٰۃ کے پابند اور سب کا بھلا چاہنے والے انسان ہیں۔اس لیے اُن کی حمدیہ ونعتیہ شاعری میں بھی توحید ورسالت ﷺ کی جگمگاہٹ نظر آتی ہے۔
مجموعی حیثیت سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ احمد علی برقیؔ اعظمی نے اپنے دونوں شعری مجموعوں میں صنف غزل کی روایات کی پاسداری کی ہے۔ان کے کلام میں موضوعاتی اور لسانی اعتبار سے روایت وجدت کا ایک حسیں امتزاج نظر آتا ہے۔وہ غزل کی حسیں وادی سے گزرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔اسی لیے اُنھوں نے جمالیاتی احساس کو غزل میں اس طرح شامل کیا ہے کہ ایک طرف جہان شاعری کو سجادیا ہے تو دوسری جانب احساس کی حدت کے توسط سے اپنے کلام کو تاثیر سے وابستہ کیا ہے۔اُن کی غزلیہ،موضوعاتی اور فی البدییہ شاعری سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ انھوں نے غزل کے اظہاری وسیلے کو وسعت دے کر رواں صدی میں شاعری اور بالخصوص غزلیہ شاعری کی اہمیت وافادیت کو حد درجہ مستحکم کردیا ہے۔
٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com