غریب کی آہ

عنوان:غریب کی آہ۔۔۔۔۔۔۔!
تحریر: صالحہ جنت**
زندگی تو تغیروتبدل کا نام ہے آج ایک امیر تو دوسرا غریب لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غریب امیر بھی ہو سکتا ہے اور امیر غریب بھی کیونکہ وقت کسی کا نہ تو محتاج ہے اور نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے۔
زندگی ھمیشہ یکساں نہیں رھتی اس میں اتار چرھاو مشکل اور سہل لمحات کہیں مسکرا دینے والے پل اور کہیں رلا دینے لمحات،کبھی دولت کی بھرمار تو کبھی ایک پائی کو ترسنا۔
وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ سبھی ترقی و خوشحالی چاہتے ہوئے آگے بڑھنے کی تمنا رکھتے ہیں لیکن دنیا میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ خود کو آگے بڑھانے کی تگ ودو میں دوسروں کو نیچ کرتے ہوئے ان کے شخصی وقار کو مجروح کر دیا جائے،اپنے مقصد کے حصول کے لئے دوسرے کا حق چھین لیا جائے۔
دنیا میں وہی انسان کامیاب ہے جو دوسروں کو پست کیے بغیر اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے، دنیا میں ایسے بہت سے تلخ حقائق منظر عام پر آئے ہیں کہ جن میں دوسروں کا حق مارنے والے، دوسروں پر ظلم و زیادتی کرنے والے عبرت کا نشان بنے ہیں۔
دنیا میں مظلوم کی بد دعا اور غریب کی آہ ضرور اثر دکھاتی ہیں، جیسا کہ پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک ماہی گیر دریا کے کنارے اپنے کنبے کے ساتھ رہتا تھا، اپنی محنت آپ کے تحت ساری رات دریا میں جال لگا کر مچھلیاں پکڑتا صبح بازار بیچ آتااور اپنے بچوں کو حلال رزق کھلاتا۔
ایک دن معمول کے مطابق اس نے جال بچھایا مگر صبح تک کوئی مچھلی جال میں نہ پھنسی،
لیکن وہ پھر بھی مایوس نہ ہوا بلکہ دوپہر تک جال بچھا کر رب العالمین سے رزق کی امید لگائے بیٹھا رہا۔
دوپہر کی سخت گرمی میں جبکہ ہر طرف دھوپ ہی دھوپ، چرند پرند بھی گھونسوں میں جا چکے تھے، ہر طرف سناٹا تھا خاموشی تھی بس پانی کی لہریں وقفے وقفے سے اپنی آواز بدل رہی تھیں کہ اچانک جال نے حرکت کی تو ماہی گیر کے چہرے پر دھیمی سی مسکان دوڑی، اس نے جال نکالا تو کیا دیکھتا ہے کہ جال میں صرف ایک خوبصورت مچھلی ہے، وہ ابھی شکرانے کی نظریں آسمان کی طرف کیے ہوئے تھاکہ ایک طرف سے علاقے کا ایک جاگیر دار گھوڑے پر سوار گزرتا ہوا ماہی گیر کو دیکھ کر اس کی طرف آنے لگا اور پیاری سی مچھلی دیکھ کر اسے کہا ہے کہ یہ مچھلی میرے حوالے کرو، وہ بیچارہ غریب ماہی گیر نے کہاکہ سردار جی میں رات سے رزق کی تلاش میں نکلا ہوں بس ابھی یہ مچھلی میری قسمت میں آئی ہے، میں آج بازار کے بجائے اپنے گھر جاؤں گا اور اپنے بچوں کو مچھلی کھلاؤں گا۔
لیکن سردار مچھلی لینے پر بضد تھا کہ ماہی گیر پھر بولنے لگا اگر مچھلی لینی ہی ہے تو معاوضہ دے دو اور لے لو، ورنہ میرے بچے آج کیا کھائیں گے؟
لیکن اس ظالم نے ایک بھی نہ سنی مچھلی اس سے چھین کر واپس لوٹنے ہی لگا تھا کہ مچھلی نے اس کی انگلی پر کاٹا اور زور دار جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے نکل کر پھر پانی میں چلی گئی۔
مچھلی کے کاٹنے سے جو زخم ہوا تھا اس کا درد شدت سے بڑھنے لگا، ایسا درد اسے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، وہ گھر جانے کے بجائے سیدھا علاقے کے بڑے طبیب صاحب کی طرف گیا، معائنہ کے بعد طبیب صاحب نے کہا کہ اس زخم کے درد کی اصل وجہ زہر ہے جو دھیرے دھیرے پورے جسم میں پھیل جائے گا، اس لیے آپ کو فی الفور انگلی کٹوانی ہوگی، مصیبت کا مارا اور کیا کرتا اس نے زہر کے اثر سے جسم کو متائثر کرنے کے خوف سے اپنی انگلی کٹوا دی۔
دو چار دن گزر چکے تھے مگر درد میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا تھا دوبارہ طبیب کو بلوایا گیا، طبیب نے کہا کہ زہر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، بہتر یہی ہوگا کہ آپ اپنا یہ ہاتھ بھی کٹوا دیں، درد کی شدت سے بچنے کے لیے اس نے اپنا ہاتھ بھی کھو دیا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔
لیکن درد نے زندگی اجیرن کردی تھی، دن رات کا سکھ سکون کئی ہفتوں سے کوسوں دور تھا، مچھلی کے کاٹنے سے جو زہر جسم میں پھیل رہا تھا اس نے اس کے وجود سے بازو کو بھی الگ کر کے دوسروں کا محتاج بنا دیا۔
زہر اپنا اثر چھوڑ چکا تھا اور سارے کا سارا وجود اس کی لپیٹ میں آ گیا تھا، موت اسے سامنے دکھائی دے رہی تھی۔
حکیموں اور طبیبوں سے تنگ آ کر وہ ایک بڑے بزرگ کے پاس گیا، اور بزرگ سے کہنے لگا اے مہربان رب کے محبوب بندے!
مجھے میرے اس درد کا اعلان تو بتا، دنیا کا ہر طریقہ علاج اور حربہ استعمال کر چکا ہوں، مگر سکون حاصل نہیں کر پا رہا۔
بزرگ فرمانے لگے کہ کیا آپ نے کبھی کسی غریب کا دل تو نہیں دکھایا، کسی بندے کا حق تو نہیں مارا، تم نے کسی معصوم بندے کا نوالہ تو نہیں چھین لیا یا پھر کون سا ایسا گناہ کیا ہے جس کی سزا دنیا میں ہی کاٹ رہے ہو۔
بزرگ کے سوالات سن کر اس کا سر جھک چکا تھا اس نے ندامت بھرے آنسوں سے ماہی گیر والا سارا واقعہ بزرگ کو سنایا۔
واقعہ سن کر بزرگ فرمانے لگے کہ بیٹا تمہارے گناہ کا ازالہ اور بیماری کا حل صرف اس صورت میں ہے کہ تم اس ماہی گیر کے پاس جاؤ اپنے کئے ہوئے کی معافی مانگو، اگر وہ معاف کر دے گا تو میرا رب تو غفور الرحیم ہے وہ معاف کرنے کے ساتھ آپ کو جلد از جلد صحتیاب بھی کر دے گا۔
دو چار دن کی مشقت کے بعد ماہی گیر مل گیا،اس نے ماہی گیر کے گلے لگ کے گڑ گڑا کر روتے ہوئے معافی مانگتے ہوئے کہنے لگا، میں نے تیرے ہاتھوں سے تیرے بچوں کا نوالہ چھینا تھا جس کی وجہ سے میں بازو والی نعمت سے بھی محروم کر دیا گیا، خدا کے لیے مجھے معاف کر دو
اگر تو آج مجھے معاف کر دے تو زندگی بھر میں تمہارا احسان مند رہوں گا۔ ماہی گیر نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر تسلی دی اور کہا کہ میں نے آپ کو اللہ کے واسطے معاف کر دیا۔
اس نے ماہی گیر سے سوال کیا کہ آپ نے مجھے کیا بد دعا دی تھی کہ میری زندگی سے سکون راحت اور اطمینان ختم ہو گیا، ماہی گیر نے شرمندگی سے کہا کہ میں نے کوئی بد دعا تو نہیں کی تھی مگر اپنے پرودگار سے بس یہی عرض کی تھی کہ اے ساری کائنات کے مالک جس طرح یہ شخص مجھے سے اپنی طاقت اور زورکی بنا پر میرے بچوں کا رزق چھین کر جا رہا ہے اے معبود بر حق تو بھی اسے اپنی طاقت اور قوت دکھا دے۔
ماہی گیر کی باتیں سن کر وہ پھر آبدیدہ ہوگیا اور معاف کرنے پر شکر ادا کرنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com