لاک ڈاون اور بلیک گولڈ کے آفٹر شاکس

لاک ڈاون اور بلیک گولڈ کے آفٹر شاکس
بادشاہ خان
خود عالمی ادارے کہنے پر مجبور ہیں کہ کورونا سے غریب، سفید پوش اور متوسط طبقے کو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی، گیلپ سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک شخص کہتا ہے وباکے دوران خوراک میں کمی ہوئی۔دنیا کے تیس سے زیادہ ممالک کی معیشت ڈوبنے کا اندیشہ ہے،اسی صورت حال سے کورونا وائرس کے باعث بندشوں سے پاکستان کا معاشی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کا سرمایہ ڈوب رہا ہے، روزانہ کمانے والے خودکشیوں پر مجبور ہیں، سرحدوں کو صرف اخباری بیانات میں کھولا جارہا ہے،شاپس کیپرسے لیکر ٹھیلا لگانے والے تک رمضان المبارک کے اس مہینے میں سمجھ نہیں پا رہے کہ کورنا اہم ہے یا بھوک؟لاک ڈاون ختم کرنے کے حوالے سے حکومتیں تذبذب کا شکار ہیں،صوبائی حکومتیں اور وفاق ایک پیج پر نہیں،عوام میں حکمرانوں کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوچکی ہیں۔
اسی حوالے سے اسد عمر کا بیان سامنے ہے،کہ مارچ میں 119 ارب روپے محصولات کم اکٹھے ہوئے، یہ کمی 38فیصد ہے، بندشیں جاری رہنے سے دو کروڑ سے 7کروڑ لوگ سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے،بے روزگار ہونے کی تعداد ایک کروڑ 80لاکھ تک پہنچ سکتی ہے‘ 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں۔پاکستان امریکا یا دیگر ملکوں کی تقلید نہیں کریگا‘ اپنے حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے‘معاشی بندشیں کورونا سے زیادہ مہلک ہیں‘9مئی کو لاک ڈاون میں نرمی کا فیصلہ اتفاق رائے سے کریں گے‘پابندیاں بتدریج ہٹائی جائیں گی‘ہلاکتوں کی سرخ لکیر عبور ہوچکی ہے۔حفاظتی تدابیر پر 100فیصد عمل کرنا ہے‘ اگر احتیاط نہ کی گئی تو کرونا مہلک ہو جائے گی۔ان کا یہ بیان نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں اعلی سطحی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں سامنے آیا۔
دوسری خبرسعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے حوالے سے ہء آئی ایم ایف نے تیل پیدا کرنیوالے خلیجی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ مستقبل میں تیل کی طلب اور قیمتوں میں کمی کے باعث تیل پر زیادہ انحصار کرنے والے ممالک کی معیشت دباؤ کا شکار رہے گی لہٰذا خلیجی ممالک کو اپنی تیل پر منحصر معیشت کو دیگر شعبوں میں تنوع دینا ہوگا ورنہ اُن کی معیشتیں کریش ہو سکتی ہیں۔مضبوط ترین معیشت والے ملک سعودی عرب بھی تیل کی عالمی کھپت میں کمی اورکورونا وائرس کے شاکس اور آفٹر شاکس سے دوچار ہوچکا ہے،ان وجوہات کی وجہ سے سے ہونے والے معاشی نقصان کے پیش نظر سعودی عرب نے اپنے بجٹ اخراجات میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدان نے ہفتے کو کہا تھا کہ کورونا وائرس سے معیشت کو دھچکا لگا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کڑے اور تکلیف دہ فیصلے کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے سبھی آپشنز کھلے ہیں۔عرب ٹی وی کو انٹرویو میں الجدان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بجٹ کے خرچوں میں نمایاں کٹوتی کرے گا۔انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے اثرات رواں سال کے دوران دوسری سہ ماہی پر واضح طور پر نظر آئے ہیں۔دنیا کی اکانومی 1929ئکے عالمی معاشی بحران کی طرف جارہی ہے جو امریکہ کے تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کے بعد روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار تنازع کا سبب بنی۔ اس سال نومبر میں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ امریکی معیشت جلد از جلد بحال ہوجائے لیکن دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک امریکہ میں تیل کے موجودہ کنوئیں بند اور نئے کنوؤں کیلئے ڈرلنگ روک دی گئی ہے کیونکہ تیل نکالنے کی لاگت تیل کی قیمت سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس قیمت پر تیل پیدا کرنا نقصان دہ ہے۔ان حالات میں امریکہ میں تیل کی پیداوار میں تقریباً 20فیصد یعنی 1.75ملین بیرل یومیہ فوری کمی اور اس شعبے سے وابستہ ہزاروں ورکرز کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے جسکے منفی اثرات ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم پر پڑیں گے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں دنیا کے دوسرے بڑے تیل پیدا کرنیوالے ملک سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں 20فیصد اضافہ ہوا تھا لہٰذا مشرق وسطیٰ میں کسی طرح کی جنگ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے لہٰذا اس امید پر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں محاذ کھولنے کو تیار ہیں جس میں بحیرہ عرب میں ایران کیساتھ محاذ آرائی بھی شامل ہے۔
سوال بہت واضح ہے، کورنا سے متاثر یورپ،چین،امریکہ کھولنے جارہا ہے، ان کے پاس ذخائر بھی ہیں، کیا اس بار سعودی عرب حج کرنے کے لئے دوسرے ممالک کو آنے دے گا؟کیا پاکستانی حکومت اب بھی تذبذب کا شکا ر رہے گی؟، اور کورنا پر سیاست جاری رکھی جائی گی، لیکن خداراپاکستانی عوام کو اپنی سیاسی مقاصد میں نہ استعمال کیا جائے، ٹڈی دل کا خطرہ منڈلا رہا ہے،ہندوستان اس صورت حال میں بھی سرحدوں کی خلاف ورزی کررہا ہے، ایک بار پھر جنگ کا ماحول بنانے کی کوشش ہے،اسے ماحول میں پاکستان اور پاکستانی عوام کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے مغربی سرحد سمیت ایکسپورٹ سمیت تمام کاروبار کھولنے پر کام کرنا ہوگا۔ آخری بات عوام بھی کورنا وائرس کے حوالے سے حکومتی ایس اوپیز کو فالو کریں، تاکہ اس وبا پر قابو پایا جاسکے،ایک بات تو یقینی ہے کہ کہ بلیک گولڈ بحران یعنی تیل کی عالمی سیاست اور کورنا وائرس کے آفٹرشاکس بہت عرصے تک جاری رہیں گے،لاک ڈاون کے بعد دنیا بدل چکی ہوگی،سوال اب بھی وہی ہے کیا پاکستان سمیت دیگر ممالک اس کے لئے تیار ہیں، یا صرف معاشی تھنک ٹینک کے اجلاسات کی خبریں سامنے آئیں گی؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com