تین دہائیوں بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری مکمل بحال

ایچ آئی ہاشمی
پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کا کردار کلیدی ہے، یہ نا صرف برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مرکزی مقام کی حامل ہے۔مگر افسوس یہ انڈسٹری ہر دور میں عدم توجہی کے باعث کسی نہ کسی صورت بحرانوں کا شکار رہی اوریوں اِس انڈسٹری سے وابستہ پیشہ ور افراد اِس شعبہ کو خیرآباد کہنے پر مجبور ہوگئے جس کے باعث فیصل آباد کے ٹیکسٹائل اور برآمدات سے وابستہ کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے لیکن تحریک انصاف حکومت کی 2018 کے بعد اور کورونا وبا کے دوران اپنائی گئی پالیسیوں کی وجہ سے آج ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت سارا ایکسپورٹس سیکٹر دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوچکا ہے۔1990 کے بعد پہلی مرتبہ ٹیکسٹائل انڈسٹری 24 گھنٹے مکمل طور پرفعال ہے۔نہ صرف بے روزگارمزدوروں کوروزگارمل گیا بلکہ ضلع بھرمیں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مزدور کم پڑگئے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کی پالیسیوں کا ثمر ہے کہ تمام پاور لومز نہ صرف اپنی ‘فل کپیسٹی’ پر چل رہی ہیں بلکہ مزید 30 ہزار پاور لومز لگانے کی ضرورت پیش آچکی ہے۔رپورٹ کے مطابق کپڑے کی ڈیمانڈ تاریخ کی اتنی بلند ترین سطح پر ہے کہ جسے پورا کرنا مشکل ہورہا ہے اِس طرح صرف سٹائل سیکٹر کو 70 کروڑ میٹر کپڑے کی کمی کا سامنا ہے۔ادارہ برائے شماریات پاکستان کے مطابق فروری 2020ء کے دوران ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات میں 17 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور کسی ایک ماہ کے دوران برآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ رہا ہے جس کی وجہ سے بر آمدات کے فروغ کے لئے حکومت کے اقدامات ہیں اوراب بھی بہتری کا یہی تسلسل پورے آب و تاب کے ساتھ قائم دائم ہے۔
پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ کے وفاقی وزیراسدعمر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے پہلے فیصل آبادمیں ٹیکسٹائل پالیسی کااعلان کیا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ فیصل آبادکی صنعت دوبارہ آباد ہوگی وہاں صنعتیں بنداورمزدوربیروزگارہورہے تھے،آج وہاں ایکسپورٹ بڑھ رہی ہے سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور مزدورں کو روزگار مل رہا ہے اور حقائق بھی یہی ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اِس وقت کام کرنے والوں کی قلت کا سامنا ہے اور محدود لیبر سے ڈبل شفٹوں کی بنیاد پر کام لیا جارہا ہے۔
چونکہ تین دہائیوں کے بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری دوبارہ مکمل پیداواری صلاحیت کے ساتھ اپنے پاوں پر کھڑی ہوئی ہے اور مصنوعات کے آرڈر اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا نہیں کیا جاسکتاتواِس ضمن میں گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ چونکہ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ملنے والے ڈیمانڈ اینڈ ایکسپورٹ آرڈرز میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، میں نے تجارت اور صنعت کی وزارتوں کو احکامات دیے ہیں کہ اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے ٹیکسٹائل کے شعبے کیلئے تمام ضروری معاونت کی دستیابی یقینی بنائیں
ویسے اِس حقیقت سے بھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا کہ ٹیکسٹائل میں بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو حقیقی اضافہ قرار نہیں دیا جاسکتابلکہ پہلے سے ہی وہ رکے ہوئے برآمدی آڈرز تھے جو دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیرونی خریدار نہیں اٹھا سکے تھے۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق گذشتہ تین مہینوں میں ملک کی برآمدات نے جس بڑے خسارے کا سامنا کیا اس کے مجموعی خسارے کے سامنے یہ موجودہ اضافہ کوئی خاطر خواہ نہیں لیکن اِسے امید کی کرن ضرور قرار دیا جاسکتا ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اِس وقت طویل المدتی بنیادوں پر انڈیا اور بنگلہ دیش سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے تو اِس کے بہتر ہے کہ پہلے یہ حقائق جان لیں کہ شائع ہونے والے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں جن میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سر فہرست ہیں۔ انڈیا کی مجموعی برآمدات 300 ارب ڈالر سے زائد ہیں اور ان میں بھی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس شامل ہیں۔ویسے بنگلہ دیش سے دنیا بھر میں سپلائی ہونے والا کپڑا وہ ڈیمانڈ ہے جو پہلے پاکستان کے پاس تھی مگر عدم توجہی کے باعث پاکستان کے سارے آرڈر بنگلہ دیش منتقل ہوگئے تھے۔ اب اگر تحریک انصاف کی حکومت اِس بات کی خواہا ں ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مستقل اپنے پاوں پر کھڑی رہے تو اُس اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور کاروباری طبقے کو سازگار ماحول دینا ہوگا۔ اگر ہم برآمدی مال کی تیاری کی لاگت کو ہی لے لیں تو بنگلہ دیش میں یہ لاگت ہم سے 20 فیصد کم ہے۔ ایک ایسی صورتحال میں جب بنگلہ دیش سستی اشیا بیرون دنیا میں بیچے گا تو کون پاکستان میں تیار ہونے والی مہنگی مصنوعات خریدے گا۔ بنگلہ دیش میں بجلی کی لاگت پاکستان کے مقابلے میں آدھی ہے جبکہ وہاں پانی کی مفت اور بلا تعطل فراہمی برآمدی شعبے کو کی جاتی ہے، اسی طرح وہاں سستی لیبر بھی میسر ہے۔ ’اس کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگی بجلی اور مہنگا پانی ہے جو اکثر عدم دستیاب ہوتا ہے۔ یہ سب عوامل برآمدی شعبے میں تیار ہونے والی اشیا کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا رہے ہیں۔دوسرا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کو نہایت کم ترقی یافتہ ملک ہونے کا فائدہ حاصل ہے جس کی وجہ سے اس کی مصنوعات کے لیے مختلف ممالک میں کوٹہ ہے اور وہاں یہ زیرو ڈیوٹی پر ایکسپورٹ کی جا سکتی ہیں اور اِس طرح بنگلہ دیش کو آسٹریلیا، امریکہ اور انگلینڈ جیسی منڈیوں میں ٹیرف پر خصوصی رعایت حاصل ہے جو اسے پاکستان کی مصنوعات کے مقابلے میں سستا مال بیچنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔دوسری طرف بھارت کو انرجی کی لاگت کی وجہ سے جو برتری حاصل ہے۔یہاں یہ نقطہ بھی قابل غوروفکر ہے کہ عالمی سطح پر اپنی مصنوعات کو پرکشش بنانے کے لیے ’برانڈ ڈویلپمنٹ‘ لازمی ہے جو پاکستان میں بہت ہی کم ہوتی ہے دوسری طرف مذکورہ شعبہ میں بیرونی سرمایہ کاری ہمارے ہاں برآمدی شعبے میں نہ ہونے کے برابر ہے لیکن بنگلہ دیش اور بھارت میں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی انوسٹ کرتیں ہیں اور برانڈ کی مصنوعات تیار کراتی ہیں۔اگر ہم اپنی بات کریں تو ہماری پروڈکٹ کی پاکستان میں ہی کافی ڈیمانڈ ہے جس پر اچھا خاصا منافع کما لیا جاتا ہے تو اِسی لئے مینوفریکچرز کی توجہ لوکل ڈیمانڈ پر مرکوز رہتی ہے وہ اُسی کو پوراکرنے میں لگے رہتے ہیں۔ایسا کرنے سے مصنوعات کا معیار اور جدت پسندانہ رحجانات نظرانداز ہوجاتے ہیں۔
بہرحال قوی اُمید ہے کہ موجودہ حکومت ٹیکسٹائل کی بحالی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ٹیکسٹائل پالیسی منظوری کے لیے اقتصادی رابط کمیٹی میں عملی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔دستاویزی پالیسی میں 2025 تک ٹیکسٹائل برآمدات 20 ارب 80 کروڑ ڈالرتک لے جانے، بجلی اورگیس کے ٹیرف کم کرنے، ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشینری کے لیے لانگ ٹرم فنانسنگ بڑھانے اورنئی منڈیوں تک رسائی سمیت ہیومین ریسورس ڈوپلمنٹ پر فوکس کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔دستاویز میں ٹیکسٹائل سیکٹرکو بجلی 9 سینٹ سے کم کرکے 7.5 سینٹ، آر ایل این جی گیس 6.5 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یو، قدرتی گیس 786 روپے ایم ایم بی ٹی یو اور 2025 تک مین میڈ فائبر 30 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک استعمال کرنے اور مارک اپ کی شرح 5 فیصد تک برقرار رکھنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com