حیدرآباد کے بعد کلکتہ اور بہار کے بعد بنگال مودی کے نشانے پر

کیا کمزور ممتا طاقتور مودی کا مقابلہ کرسکیں گی؟
عبدالعزیز
حیدرآباد کے بلدیاتی الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی ملک اور انسانیت کیلئے زبردست خطرہ کی علامت ہے بلدیاتی الیکشن کونیشنل الیکشن تبدیل کر کے روپے پیسے اور ہندو مسلمان کر کے چار سیٹوں سے اڑتالیس سیٹوں پر قبضہ جما نا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے غیر مسلم بھائیوں کو ورغلا کر شہری علاقے کے مسائل سے توجہ ہٹا کر ہندو فرقہ پرستی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا جوش دلا کر اقتدار کی کرسی حاصل کر ناملک اور خاص طور پر مسلمانوں کیلئے زبردست خطرہ ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے اندر بھی کچھ لوگ فرقہ وارانہ سیاست سے دلچسپی لینے لگے ہیں جو بی جے پی کے لیے معاون ومددگار ثابت ہورہی ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ مسلمانوں کے ایسے لوگوں کو کیوں یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ فرقہ پرستی کے نام پر جو ملک انہیں ملا اس کو نہیں سنبھال سکے اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ آج اس کے اندر بدعنوانی اور دھاندلی ہندوستان سے بھی زیادہ ہے۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے جو راہ مولانا ابوالکلام آزاد نے دکھائی تھی آج اس راہ پر چلنا پہلے سے زیادہ کہیں ضروری ہے کیونکہ اکثریت کے اندر ایسے لوگ جو بی جے پی اور آرایس ایس سے نبرد آزما ہیں وہ بی جے پی کی سیاست کو شکست دینے میں مسلمانوں کی کسی پارٹی سے کہیں زیادہ باصلاحیت اور طاقت ور ہیں۔ مہاراشٹر میں جو بی جے پی کو اپنی غیر معمولی طاقت اور دولت کے باوجود شکست فاش ہوئی وہ حکومت بنانے میں نا کام ہوئی محض تین اچھی بری پارٹیوں کے اتحاد سے ہوا مسلم پارٹی کے اسمبلی کے دو ممبران کے ذریعے نہیں ہوا اسی طرح بہار میں بی جے پی اتحاد کے ہاتھوں شکست سے بال بال بچی ہے اگر کئی سیٹوں پر پولرائزیش نہیں ہوا ہوتا تو شاید تیجسوی جیت بھی سکتے تھے۔ اب مسلمانوں کے اندر دو طاقتوں کا علحیدگی بدقسمتی سے دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طاقت کئی جماعتوں کی ہے جو خوابیدہ ہے مولانا ابوالکلام آزاد جیسی بلند بالا شخصیت ان میں نہیں ہے۔کسی نہ کسی کو آگے بڑھانا ہوگا خاکسار کی نظر حامد انصاری پر ہے کہ وہ اگرچہ مولانا جیسی شخصیت کا رول تو ادا نہیں کر سکتے مگر ڈاکٹر سید محمود جیسا کردار ادا کر سکتے ہیں اجتماعی قیادت کے لیے ڈاکٹر سید محمود نے مسلم مجلس مشاورت بنائی تھی تین سال تک مشاورت کے جھنڈے تلے بہت اچھیکام انجام پذیر ہوئے۔ مشاورت جب سید شہاب الدین کے ہاتھہ میں آئی تو پھر اس کے اندر جان آئی مگر ان کے بعد بھی کام چلاؤں رہی ہے اس وقت وہ بے مصرف ہوگئی ہے ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
1964 والی مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔ جو مسلمانوں کی فکری اور عملی رہنمائی کر سکے۔ بہار کے بعد مغربی بنگال پر بی جے پی کی نظر بد ہے یہاں ممتا بنرجی خود اپنے آپ کو شکست دینے پر تلی ہوئی ہیں دوسری طرف ممتا بنرجی مسلمانوں کے ساتھ غلام جیسا سلوک کررہی ہیں ان کو خوشحال بنانے کے بجائے بد حال بنانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہیں ملی کالج کو اقلیتی کردار سے ہی محروم نہیں کیا بلکہ اپنی پارٹی کے ایک ٹیچر کے مفاد کے تحفظ کیلئے کالج کو برباد کر دیا آج اس ٹیچر نے ان کو چھوڑ کر ان کو مزہ سکھانے کیلئے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔
اب فرہاد حکیم مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کیلئے فرما رہے ہیں کہ اس ٹیچر کو اکھاڑ پھینکنا ہے حالانکہ چھہ ماہ سے اس کا استعفیٰ بھی قبول نہیں ہورہاہے کیونکہ پارتھو چٹرجی کے تحت وہ محکمہ آتاہے۔وزیر موصوف مذکورہ ٹیچر سے قریب ہیں اور وہ ملی کالج کے اقلیتی وجود کے سخت مخالف ہیں ان کے اندر مسلمانوں سے نفرت کا عنصر پایا جاتا ہے ممتا بنرجی کو اپنے وزیر کی یہ ادا نہ جانے کیوں بے حد پسند ہے۔
مغربی بنگال میں جیسے جیسے اسمبلی الیکشن قریب آرہا ہے ممتا بنرجی کی حکمت عملی ناکام ہورہی ہے وہ اپنے گھر کو سنبھالنے سے قا صر ہیں پہلے اپنے دست راست مکل رائے جو ان کی پارٹی میں نمبر دو پر تھے اپنے بھتیجے ابھیشک بنرجی کو ان کی جگہ پرموٹ کرنے کی وجہ سے ناراض ہوکر بی جے پی میں چلے گیے ان کی وجہ سے بی جے پی کو زبردست طاقت ملی وہ حقیقت میں ترنمول کانگریس چلا رہے تھے۔تنظیمی صلاحیت رکھتے ہیں ترنمول کے سیاہ سفید سے اچھی طرح واقف تھے۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھا ئے ترنمول جو مغربی بنگال میں پارلیمنٹ کی ایک دوسیٹوں پر قابض تھی۔ اسے اٹھا رہ سیٹیں مل گئیں ترنمول اس سے صرف چار سیٹوں پر زیادہ قبضہ جما سکی۔ اب چار پانچ مہینے میں الیکشن ہونے والا ہے۔شوبھندو ادھیکار ی بھی ابھیشک بنرجی کو ان کو ہٹا کر یوتھ کانگریس کا لیڈر بنانے پر ناراض تھے۔اب انہوں نے بھی ترنمول کانگریس سے بغاوت کا اعلان کردیا وہ ممتا بنرجی کے بعد گراس روٹ کے سب سے بڑے لیڈر تھے۔ان کی بھی منزل بی جے پی ہی ہے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نئی پارٹی بنائیں گے۔ آگے چل کر یہ پارٹی اگر وجود میں آئی جب بھی بی جے پی ہی کا ساتھ دے گی کم سے کم شوبھندو کے خاندان کا اسمبلی کے پندرہ سولہ حلقہ میں زبردست اثر ہے کئی ایم ایل بھی پہلے ہی نکل چکے ہیں کچھ اور لوگ ترنمول کانگریس سے نکلنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کا گھر بکھرتا نظر آرہا ہے مسلمان بھی ممتا سے سخت ناراض ہیں کانگریس اور بایاں پارٹیوں کا مشترکہ محاذ بھی ممتا بنرجی اور مودی کو ایک ہی سکے کا دو رخ سمجھ رہا ہے۔ا س طرح کے غیر متوازن خیالات سے بی جے پی کاراستہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے ہموار ہوتا جارہا ہے۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کو ہرانے کے لئے ممتا بنرجی میں صلاحیت کا فقدان نظر آرہا ہے تیسرا محاذ میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے میں دم نہیں ہے۔ نئی اور مشترکہ حکمت عملی ہی بی جے پی کو اقتدار تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی ہے۔سی پی ایم (ایم ایل) کے لیڈران صحیح نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ان کہنا بالکل حقیقت ہے کہ ممتا بنرجی کو مغربی بنگال میں مانس (minus) کر کے بی جے پی کو ہرا یا نہیں جا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com