افغان امن تعاون پاکستانی خلوص کا مظہر

افغان امن تعاون پاکستانی خلوص کا مظہر!
شاہد ندیم احمد
افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے ہمیشہ خلوص کے ساتھ جو کوششیں کی ہیں، افغانستان میں امن پاکستان ا ور خطہ کے علاوہ خود افغان عوام کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔ قیام امن کے اس کام میں سب سے زیادہ اہم کردار امریکہ اورطالبان نے ہی ادا کرنا ہے، خاص طور پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد کی سب سے بھاری ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نہایت خلوص کے ساتھ افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے درمیان بہترین رابطے کا کردار اداکرتا رہاہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی اپنی حالیہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات میں خاص طور پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ پاکستان کی دلی خواہش ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو، تاکہ وہ بھی سی پیک میں شامل ہو کر خطے میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہوسکے،لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب افغانستان میں امن و استحکام قائم ہوگا۔
امریکہ سمیت ساری دنیا جان چکی ہے کہ بھارت اور افغان کٹ پتلی حکومت کے مفادات غیر مستحکم افغانستان سے جڑے ہیں،جبکہ پاکستان نے پچھلے 40برسوں کے دوران افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کی خاطر بے بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔ پاکستان نے سوویت قبضے کے دوران اگر افغانوں کو مدد فراہم نہ کی ہوتی تو آج وہ غلام بنائے جا چکے ہوتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان،محدود کردار ادا کر سکتا تھا،مگر پا کستان نے ہمیشہ افغان عوام کے مفاد میں فیصلے کیے اور امریکہ کوباور کروانے کی کوشش کرتا رہا کہ جنگ کی بجائے بات چیت کی جائے، امریکہ کو آخر کار احساس ہوہی گیا کہ اسے یہ بے مقصد جنگ ختم کر کے افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد سوال اٹھا جس طرح طالبان نے خود کو ایک طاقت منوایا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نہ تھا کہ امریکہ کے جانے کے بعد اشرف غنی انتظامیہ پر سارا انحصار کیا جا سکے۔ اگر چہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو بظاہر پاکستان مخالف اور بھارت نواز ہیں،لیکن اپنے قومی مفادات کے حصول کی خاطر پاک بھارت تعلقات معمول پرلانے کی کوشش کرتے نظر آنے لگے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی درخواست پر پاکستان نے طالبان کو امریکہ سے مذاکرات پر آمادہ کیا، یہ عمل پرخطر اور مشکل تھا، لیکن آخر طویل مذاکراتی سلسلے کے بعد رواں برس کے ابتدائی دنوں میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ انجام کو پہنچا، اس معاہدے کی پہلی شق فوری طور پر تمام فریقوں کی جانب سے جنگ بندی تھی۔ افغان حکومت سے مذاکرات دوسری شق تھی، لیکن یہ طے پایا کہ انٹرا افغان مذاکرات سے قبل افغان حکومت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کر دے گی۔ معاہدے کے بعد طالبان نے حسب وعدہ جنگ بندی کر دی،لیکن افغان حکومت نے قیدی رہا کرنے میں حیل و حجت کا مظاہرہ شروع کر دیاگیا۔ افغان حکومت اور بھارت کے سوا کسی ملک نے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو درست قرار نہیں دیا،کیو نکہ امریکہ کی موجودگی سے ہی افغانستان میں عوامی حمایت سے محروم شخصیات کو چور دروازے سے اقتدار ملا ہے اور بھارت افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو اپنے طویل المدتی سٹریٹجک مفادات کے حصول کی خاطر استعمال کررہا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں بہت سے قونصل خانے اور دہشت گردوں کو تربیت دینے کے مراکز قائم کر رکھے ہیں،ایک طرف بھارت ان مراکز کے ذریعے بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں کرتا ہے،جبکہ دوسری طرف دہشت گردی کے الزامات پا کستان پر لگاتا رہتا ہے۔ پاکستان نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف طویل کامیاب جنگ لڑی ہے، اسی طرح بھارت کے عزائم بلوچستان میں ناکام بنائے دیے جائیں گے۔
یہ امرواضح ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات محض کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں اور پورے بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے والے اقدامات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے لگائے جاتے ہیں، تاہم ہر ہوشمند شخص جانتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن پاکستانی قوم کے لیے اتنا ہی اہم ہے، جتنا کہ خود افغان عوام کے لیے،لیکن اس کے برعکس بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ افغان امن کے بعد اس کیلئے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کرنا ممکن نہیں رہے گا،چنانچہ وہ افغان امن عمل میں رخنہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا۔طالبان امریکہ معاہدہ ہوجانے کے بعد بھی شواہد کے مطابق اس نے کابل انتظامیہ کو اس پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے اپنے اثرات استعمال کیے ہیں۔ امریکی قیادت بھی بھارت کے اس کردار سے یقینا ًبے خبر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کو افغان امن عمل سے باہر رکھا ہوا ہے، جبکہ پاکستان کی کوششوں کو اس کی جانب سے اب تحفظات کے بغیر تسلیم کیا جاتا ہے،اسی وجہ سے زلمے خلیل زاد نے جنرل قمر جاویدباجوہ سے ملاقات میں بھی پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے،لیکن افغان مفاہمت کو حتمی کامیابی تک پہنچانے کے لیے محض زبانی باتیں کافی نہیں، خطے میں بھارت کے شرپسندانہ کردار کو لگام دینا بھی لازمی ہو گیاہے۔ امریکہ کو اب یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ وہ سب کچھ بھارت کے حوالے کر کے خطے کو امن سے ہمکنار نہیں کر سکتا،بھارت اپنے شر پسندنہ مقاصد کی تکمیل کی خاطر افغان امن مذاکراتی عمل کو ثبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے۔امریکہ کو خطے میں قیام امن کے لیے اپنا حقیقی اثر و رسوخ استعمال کرنا ہوگا، بصورت دیگر جہاں افغان امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے،وہاں پاک بھارت کشیدگی بھی دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com