آداب اختلاف

تحریر: حافظ عثمان علی
اختلاف رائے انسان کا امتیاز و اختصاص ہے،اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ نعمت عقل کا ثمر طیبہ ہے اور انسانی تمدن کی مضبوط اساس ہے، انسانوں کی عقل و فہم کا دائرہ اور سطح کبھی یکساں نہیں رہے۔چنانچہ ہر وہ اختلاف جو علم و عقل اور فہم و دانش کے دائرہ میں خلوص و دیانت کے ساتھ سامنے آیا وہ نسلِ انسانی کی بہتری اور فکری و علمی ارتقاء کا ذریعہ بنا لیکن آج کل مخلصانہ اختلاف کے بجائے بے جا اختلاف و شقاق نے جگہ لے لی ہے،دیکھنے،سننے اور پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ہر فریق اعتدال سے بڑھ کر غیبت اور بہتان،اظہار عیوب،طعن و تشنیع،حسد و جلن،تباغض و تقاطع کی فضاء پیدا کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہا ہے،جبکہ ان امور سے بچنے کی تاکیدہمارے دین اور پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر کی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ امت محمدیہ میں اتفاق و اتحاد ہو اور یہی دو وصف مالک الملک کو بہت زیادہ پسند ہیں،اللہ کریم اپنے بندوں میں یہی دو وصف چاہتے ہیں تاکہ معاشرہ کی فضاء درست رہے۔ ” اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے،ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔(سورہ آل عمران، آیت نمبر 105)آپس کی لڑائی جھگڑا، گالم گلوچ یہ سب محبوب خدا کے نزدیک قابل مذمت ہیں۔ مطلق اختلاف رائے رکھنا مذموم نہیں ہے، بلکہ اختلاف دلیل و حدودکے دائرہ میں رہتے ہوئے ہو تو یہ مبغوض نہیں ہوگا بلکہ مستحسن ہوگا۔اور وپ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گرہوں میں سے جوکوئی ایک تمہارا ہوگا،اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا،وہ تمہیں ملے اور یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے،اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔ تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے،چاہے مجرم لوگوں کو یہ بات کتنی نا گوار ہو۔(سورہ انفال،آیت نمبر 7-8) ایسا ہی اختلاف عہد رسالت میں دیکھنے کو ملتا ہے، خلافت راشدہ کا دور بھی اس سے خالی نہیں رہا،تابعی تبع تابعی،ائمہ مجتہدین، اولیاء امت کے دور میں بھی اسی اختلاف کی جھلک نظر آتی ہے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی تکریم و تعظیم، اوصاف و کمالات کا اعتراف، الفت،محبت، خیر کے کاموں میں تعاون کرنا رہا ہے۔ اس کی ہمیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مثالیں ملتی ہیں (ان شاء اللہ آخر میں ایک ہی مثال ذکر کروں گا) جیسے جیسے خیر کا زمانہ گزرتا گیا اورہم قیامت کے قریب ہوتے گئے تو باہمی اختلاف بھی نئے سرے سے جنم لیتا گیا،یہاں تک کہ اس دور کے سب سے بڑے فتنہ کی شکل اختیار کر گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کے عیوب کو چھپا کر فرمان رسول کے مصداق بن جاتے۔
ارشاد نبوی کا مفہوم ہے:”جو کسی کا عیب دنیا میں چھپائے گا کل قیامت کے روز اللہ کریم اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا“۔
لیکن ہماری صورتحال اس سے کئی درجے مختلف ہے، جب تک ہم دوسروں کے عیوب کا اشتہار آویزاں نا کر دیں تو ہمیں روٹی ہضم نہیں ہوتی، سکون نہیں ملتا، افتراء، بہتان اور کذب بیانی تو ہمارا شیوہ بن گیا ہے، یہ سب کرتے ہوئے ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم کل قیامت کے دن خدا کو کیا منہ دیکھائیں گے؟
کیسے ہم اپنے اس پیارے نبی کا سامنا کریں گے جس نے ہمارے لیے خیر ہی خیر مانگی، ہمارے لیے تکلیفیں برداشت کیں، اس کا احساس ہمارے دلوں سے کیوں رخصت ہوگیا ذرا سوچیں ضرور۔
ابو داؤد شریف میں رسول مکرم، شفیع معظم کا فرمان عالی شان ہے۔ ایک جنگ کے موقع پر ایک صحابی رسول دشمن رسول کو جب قتل کرنے لگتا ہے تو وہ کلمہ پڑھتا ہے پھر بھی صحابی اسے قتل کر دیتا اس پر آمنہ کے لال محمد رسول اللہ نے فرمایا”ھلا شققت قلبہ“کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔ کچھ ایسے عوامل کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جن کی وجہ سے اختلاف و نزاع پیدا ہوتا ہے۔
عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ زبان ہی اختلاف و نزاع کا ذریعہ بنتی ہے اگر زبان کی حفاظت کر لی جائے اور موقع محل کے مطابق کھولی جائے تو اختلاف و بزاع کی نوبت ہی نہ آئے۔رسول امین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے: ”جو خاموش رہا اس نے نجات پائی“۔(مشکوٰۃ)
”زبان اللہ کی امانت ہے ” اللہ تعالیٰ نے زبان اور دماغ کے درمیان ایسا کنکشن رکھا ہے کہ جیسے ہی دماغ نے یہ ارادہ کیا کہ فلاں کلمہ زبان سے نکالا جائے،اُسی لمحہ زبان وہ کلمہ ادا کر دیتی ہے۔اور اگر انسان کے اوپر چھوڑ دیا جاتا کہ تم خود اس زبان کو استعمال کرو،تو اس کے لیے پہلے یہ علم سیکھنا پڑتا کہ زبان کی کس حرکت سے الف نکالیں۔زبان کو کہاں لے جا کر ”ب” نکالیں تو پھر انسان ایک مصیبت میں مبتلا ہو جاتا،لیکن اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر انسان کے اندر یہ بات رکھ دی کہ جو لفظ وہ زبان سے ادا کرنا چاہ رہا ہے بس ارادہ کرتے ہی فوراََ وہ لفط زبان سے نکل جاتا ہے لیکن اب ذرا اس کو استعمال کرتے ہوئے یہ توسوچو کہ کیا تم خود یہ مشین خرید کر لے آئے تھے؟؟؟ نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے،اس نے تمہیں عطا کی ہے،یہ تمہاری ملکیت نہیں، بلکہ تمہارے پاس امانت ہے اور جب ان کی دی ہوئے امانت تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اُس کو ان کی رضا کے مطابق استعمال کیا جائے،یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا،بَک دیا۔۔۔۔بلکہ جو بات اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہے،وہ نکالو،اور جو بات اللہ کے احکام کے مطابق نہیں وہ بات مت نکالو۔۔۔۔یہ سرکاری مشین ہے،اس کو اُ س کی مرضی کے مطابق استعمال کرو۔
بعض اوقات انسان گفتگو کرتے ہوئے بے احتیاطی کے پہلو پر عمل پیرا ہوتا ہے، اس عمل کو چھوٹا اور قبیح سمجھتا ہے حالانکہ دیکھنے،سننے اور پڑھنے میں آیا ہے بعض اوقات ایک چھوٹا سا جملہ بھی ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔
جب کسی انسان کے بارے میں سنی سنائی بات پر عمل کیا جائے تو بہت سارے مسائل پیدا ہو تے ہیں، بندہ بد گمان ہوجاتا ہے اور بلا تحقیق اسی بات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے میں ذرا بھی نہیں سوچتا کہ یہ بات سچ بھی ہے یا نہیں۔ایسا ہی عمل آپس میں لڑائی جھگڑا اور شدید اختلاف کا موجب بنتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ شیطان انسانی شکل میں آ کر آپس میں نا اتفاقی، لڑائی جھگڑا کراتا ہے۔کسی کے بارے میں ایسی جھوٹی بات کہہ دیتا جو اس کے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم ہوتی۔
بہتان تراشی اور لعن طعن کرنا تو ہمارے معاشرہ میں عام پایا جاتا ہے۔ لڑائی جھگڑا بعد میں ہوتاہے پہلے ہم ایک دوسرے کے ساتھ گالم گلوچ،لعن طعن اوربہتان تراشی پر اتر آتے ہیں جب کہ حدیث مبارکہ میں ایسے عمل کی سخت وعید مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا:”مسلمان کو برا بھلا کہنا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے“۔(مشکوٰۃ)
قارئین کرام!باہمی اختلاف کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں: حضرت علی بن یاسر(رضی اللہ عنہ)اور حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)حضرت علی بن یاسر رضی اللہ عنہ جو جنگ جمل میں ام المومنین صدیقہ کائنات،محبوبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مد مقابل تھے،ان کے سامنے کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا تو آپ رضی اللہ عنہ غصہ کے عالم میں اس آدمی کو ڈانٹا، چپ ہو جاؤ بھونکے والے قبیح انسان۔کیا رسول اکرم کی محبوب زوجہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے؟ وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ محترمہ ہونگی، انہوں نے ا من کی راہ اختیار کی ہے،لیکن اللہ کریم نے ان کے ذریعے ہمارا امتحان لیا ہے کہ ہم ان کی اطاعت کرتے ہیں یا اللہ کی۔ (کنز العمال صفحہ 166، حیات صحابہ جلد 3 صفحہ 14)
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اختلاف ہونا اپنی جگہ لیکن ہمیں کسی کی ذاتیات اور اس کی عصمت و عفت کا خیال رکھنا چاہیے
ایک دوسرے کا احترام رکھنا بھی ضروری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com