جمبر بی ایس لنک نہر میں پانچ بچوں کو پھینکنے والے سنگدل باپ ابراہیم کے بارے میں انکشافات۔

ملزم ابراہیم کے اپنی بیوی کی بھانجی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جس کا اس کی بیوی کو دکھ تھا
اس کی بیوی نے اپنی بھانجی کی شادی کسی اور جگہ کردی جس پر اس نے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا
ملزم ابراہیم نے اپنی بیوی پر بد کردار ہونے کا الزام لگایا تھا
قاتل ابراہیم ریکارڈ یافتہ ہے جس کے خلاف تین مقدمات درج ہیں
تحریر: عبدالحفیظ عاصم
ویسے تو تقریباًہر گھر میں میاں بیوی کے درمیان معمولی جھگڑے معمول بن چکے ہیں مگر چند روز قبل پھول نگر کے نواحی گاؤں جمبر کے قریب واقع بی ایس لنک نہر کے کنارے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا ہے کہ ابراہیم نامی ایک سنگدل باپ نے اپنے پانچ بچوں اور بچیوں کو نہر میں پھینک دیاجس سے وہ ڈوب کر اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ایسادلخراش واقعہ اس سے قبل نہ ہی سنا تھا اور نہ ہی دیکھا تھاکہ ایک سنگدل اور ظالم باپ نے نہ جانے مہنگائی،بے روزگاری یا گھریلو لڑا ئی جھگڑوں کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔مگر پانچ بچوں کو بی ایس لنک نہر میں پھینکنے والے درندے ابراہیم کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آگئے تھانہ صدر پھول نگر کے ایس ایچ او سید ثقلین بخاری کے مطابق ملزم ابراہیم نے سب سے پہلے اپنی بیوی رضیہ بی بی پر بدکرداری کا الزام لگا یا کہ اس کے ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں مگر بعد ازاں اپنے کئے پر پردہ ڈالنے کیلئے غربت اور بے روزگاری کا ناٹک کردیا ایس ایچ او مذکور کے مطابق انہوں نے ملزم کی ہر پہلو پر تفتیش کی ہے تاہم پولیس جس نتیجہ پر پہنچی کہ اصل حقائق یہ ہیں کہ ملزم ابراہیم کے اپنی بیوی رضیہ بی بی کی بھانجی شمیم کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جو چند ماہ قبل اپنے ایک اور رشتہ دار کے ساتھ فرار ہوکر شادی کرلی تھی۔قاتل ابراہیم بھی اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔شمیم کے ساتھ ناجائزتعلقات کی وجہ سے رضیہ بی بی نے اپنی بھانجی کی شادی اپنے ایک اور رشتہ دار سے کردی جس کا ابراہیم کو بہت دکھ تھا جس پر دل برداشتہ ہوگیا اور اپنے رشتہ داروں سے کہا کہ میرے بچوں کو اپنے پاس رکھ لو مگر اس کا کوئی رشتہ دار اس کے بچے رکھنے کو تیار نہ ہوا،بچوں کو نہر میں پھینکنے سے پہلے بھی میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تھاجس پر اس نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا اور بچے اپنے پاس رکھ لئے اپنی بیوی کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑے کے بعد اپنے بچوں کو ماسی سے ملوانے کے بہانے اپنے رکشہ پر بٹھا کر جمبر کے نواحی گاؤں ٹھٹھیاں جانے کی بجائے بی ایس لنک نہر پہنچ گیا جہاں بچوں کو نہر کی سیر کے بہانے کھڑا کردیا تو پہلے دو کمسن بچوں نفیسہ عمر پانچ سال اور احمد عمر دوسال کو دھکا دیکر نہر میں پھینکا تو زین علی عمر آٹھ سال نے انہیں بچانے کیلئے نہر میں چھلانگ لگا دی بعد ازاں نادیہ عمر پانچ سال اور نتاشہ عمر چھ سال کو بھی دھکا دے کر نہر میں پھینک دیا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ابراہیم اور رضیہ بی بی کی شادی 13سال قبل ہوئی تھی تاہم رضیہ بی بی نے تھانہ صدر پھول نگر میں جوایف آئی آردرج کروائی اس کے مطابق چند روز قبل میرا اور میرے خاوند کے درمیان معمولی بات پر تنازعہ ہوگیا تو میرے خاوند ابراہیم ولد صابر علی سکنہ اٹاری ورک نے مجھے مار مارکر گھر سے باہر نکال دیا جبکہ میرے پانچوں بچے نادیہ بی بی عمر10سال،زین علی عمر 8سال،نتاشہ عمر 6سال،نفیسہ عمر 5سال،محمد احمد عمر دو سال کو زبردستی اپنے پاس رکھ لیا تاہم وقوعہ کے روز ابراہیم اپنے موٹر سائیکل رکشہ پر اپنے بچوں کے ہمراہ میرے والدین کے گھر آیا اور مجھے ساتھ چلنے کو کہا میرے انکار میرے خاوندنے دھمکی دی کہ میں بچوں کو نہر میں پھینکنے کیلئے جارہا ہوں رضیہ بی بی اپنے بھائیوں کے ہمراہ بس میں سوار ہوگئی ابھی وہ بی ایس لنک نہر پر پہنچے تو ابراہیم جو اپنے بچوں کو سیر کروانے کے بہانے نہر کے کنارے کھڑا تھا ہمیں دیکھتے ہی سب بچوں کو یکبارگی سے نہر میں دھکا دے دیا جس سے پانچوں بچے نہر کی تیز لہروں کی نظر ہوگئے عینی شاہدین کے مطابق وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور دو بچوں کی نعشوں کو تو نکال لیا مگر باقی تین بچوں کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل رہا مگر اگر دیکھا جائے تو اس میں بچوں کا قاتل باپ نہیں بلکہ حاکم وقت ہے جس نے بچوں کے باپ کو ان حالات میں لا کھڑا کیا جو بچوں کی پرورش بھی نہ کرسکا۔موجودہ مہنگائی میں جب بھی کسی کو مزدوری یا کوئی بھی کاروبار نہ ملے تو پھر اور کیا کرے۔آپ خود ہی سوچیں کہ کبھی باپ بھی اس قدر ظالم ہوسکتا ہے جس نے اپنے جگر کا خون دے کر اپنی اولاد کو پیدا کیا ہو۔باپ تو ہمیشہ اپنے بچوں کے ناز نخرے بھی بڑے پیار سے اٹھاتا ہے۔تاہم جمبر بی ایس لنک نہر پر ہونے والا افسوس ناک واقعہ بے روزگاری بھوک سے تنگ باپ کے ہاتھوں پانچ بچوں کا قتل ہے۔مزکورہ سانحہ جمبر کے بعد اس باپ ابراہیم کو کسی نے ظالم لکھا کسی نے درندہ اور کسی نے سنگدل۔مگر کیا صرف ایک باپ ہی قصور وار ہے کہیں نہ کہیں ہم گاؤں اور شہر کے لوگ بھی قصور وار نہیں۔ کیا موجودہ یا سابقہ حکومتی عہدیداروں میں کوئی بھی قصور وارنہیں جو اقتدار میں آتے ہیں کروڑوں اربوں روپے گھپلے کرتے ہیں اپنی زمین اور بینک آکاؤنٹ بھر کر چلے جاتے ہیں۔کیا ممبر رسول پر بیٹھنے والے ملا،مولوی قصور وار نہیں جو ہمیشہ ایک دوسری جماعت پر بس کافر کافر کے فتوے لگاتے رہتے ہیں لیکن کبھی یہ بتانے کی زحمت تک گوارا نہیں کی کہ پڑوسی کا پڑوسی پر کیا حق ہے اور ریاست کا غریب پر کیا حق ہے۔ہم پروفیشنل بھکاریوں کو تو دل کھول کر آٹا،گندم،دوسری اجناس اور پیسے وغیرہ تو دے دیتے ہیں مگر سفید پوش غریب کو کبھی پوچھنے کی جسارت تک نہیں کی۔بھوک اور افلاس سے مرنے والوں کا قتل کسی ایک کی نہیں پورے معاشرے اور ہر صاحب استطاعت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com