اللہ کریم کی معیت ِ ذاتی۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا خاصاہے

اللہ کریم کی معیت ِ ذاتی۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا خاصاہے
مولانا محمداکرم اعوان:
قرآن مجید ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ وھو معکم این ما کنتم تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ یہ بھی یہ اس کی عطا ہے کہ ہم اس کی معیت کو بار بار بھول جاتے ہیں لیکن وہ اپنی معیت سے ہمیں کبھی محروم نہیں کرتا۔ اب بات اس ادراک کی ہے ، ہمیں یہ ادراک بھی ہو کہ اللہ میرے ساتھ ہے۔ دنیا میں جو لوگ اس کا ادراک حاصل کرلیتے ہیں ،ان کے سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ان کی زندگی آسان ہوجاتی ہے اوروہ زندگی میںکبھی پریشان نہیں ہوتے ۔ حتیٰ کہ موت بھی آتی ہے تو مسکرا کر گلے لگا لیتے ہیں:
نشان مرد مومن باتو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست
(تجھے مرد مومن کی نشانی بتائوں کہ جب موت بھی آتی ہے توا س کے لبوں پہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔یہ کیفیت معیت ِ باری میں نصیب ہوتی ہے۔) ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق اس معیت کا ادراک ہوتا ہے۔ جتنا اس کا اللہ پر اعتماد ہے، جتنی اس کے دل میں اللہ کی یاد ہے، جتنی اس کے دل میں اللہ کی محبت ہے،جتنی اس کے دل میں آقائے نامدار ﷺ کی محبت ہے، عقیدت ہے اور جتنا اتباع کرتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کا ، اتنا ہی معیت ِ باری کا ادراک ہوتا جاتا ہے۔اللہ کریم کی ذات اور ا س کی صفات میں تبدیلی نہیں آتی، بندے میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔یہ چھوٹی سی مثال لیں،آپ پنکھا چلاتے ہیں ۔ایک ہی بٹن ہے،آن کرتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ رینگنے لگ جاتاہے۔ اسی بٹن کو مزید گھماتے ہیں تو اس میں بجلی زیادہ آجاتی ہے۔بجلی بھی وہ ہے ،پنکھا بھی وہی ہے لیکن اسے اگلے نمبرپر لے جاتے تو اور تیز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انسان میں تبدیلی آتی ہے۔ وہ مقام پہ تھوڑی سی معیت محسوس کرتا ہے،دوسرے پہ اس سے زیادہ،بالآخر اسے وہ کیفیت نصیب ہوجاتی ہے کہ زندگی بھر معیت ِ باری کا احساس رہتا ہے اور یاد رہے کہ بندوں کو جو معیت نصیب ہوتی ہے وہ بندے کی صفات پر منحصر ہے۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام وہ ہستیاں ہیں جنھیں دائمی معیت ِ باری نصیب ہوتی ہے لیکن یاد رہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی معیت ذاتی انسان کی صفات کے ساتھ مشروط ہے ، وہاںانبیاء علیہم السلام کی ذات کو اللہ تعالیٰ کی معیت صفاتی نصیب ہوتی ہے مثلاً حضرت موسیٰ ؑ جب مصر چھوڑ کر نکلے اور ساحل سمندر تک پہنچے تو پیچھے سے فرعون اپنا لائو لشکر لے پہنچ گیا۔بنی اسرائیل نے گھبرا کر موسیٰ ؑسے کہا ، آپ نے تو ہمیں مروادیا۔ہم تو پہلے ہی مصیبت میں تھے،آپؑ مبعوث ہوئے تو مصیبتیں اور بڑھ گئیں،ہمارا کوئی بھلا نہیں ہوا۔اب سامنے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر ہے ۔سمندر میں چھلانگ لگائیں گے تو مارے جائیں گے،فرعون کا لشکر پہنچ جائے گا تو قتل ہوجائیں گے۔جب وہ گھبرائے تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان معی ربی سیھدین یہاں اللہ کا ذاتی نام نہیں لیا۔اللہ نہیں فرمایا،،رب فرمایا۔میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ میرے لیے راستہ پیدا کرے گا یعنی معیت ِ باری تو ہے لیکن اللہ کی طرف سے صفاتی ہے۔جتنی مخلوق اللہ نے پیدا فرمائی ہے آدم علیہ السلام کی اولاد میںجو گزر چکی ہے یاجو قیامت تک آئے گی،اس میں دو ہستیاں ایسی ہیں جنھیں معیت ِ ذاتی حاصل ہے۔غیر مشروط، نہ اللہ کی طرف سے صفات ہیں،نہ بندے کی طرف سے صفات ہیں۔انبیاء علیہم السلام میں آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور غیر نبی
میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق ؓ ، ایک ہستی اما م الانبیاء اور دوسری ہستی امام الصدیقین حضرت صدیق اکبر ؓ ۔ قرآن کریم اس پر گواہ ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ غار میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زانو پہ سرمبارک رکھے آرام فرما رہے تھے،تو مشرکین مکہ تلاش کرتے ہوئے غار کے سامنے پہنچ گئے۔سیدنا ابوبکر صدیق ؓ پریشان ہوگئے کہ یہ حضور اکرم ﷺ کو نقصان نہ پہنچائیں، کوئی تکلیف نہ پہنچائیں، ایذا ء نہ پہنچائیں۔حضور ﷺ نے فرمایالاتحزن حزن وہ دکھ ہوتا ہے،وہ غم ہوتا ہے جو محبوب کے بارے میں ہو۔جیسے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف ؑ کی جدائی کا غم تھا۔ قرآن کریم فرماتا ہے وابیضت عینہ من الحزن یوسف ؑ کے دکھ سے ان کی آنکھیںروتے روتے سفید ہوگئیں۔اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا کہ میر غم نہ کر اس لیے کہ ان اللہ معنا یقینا اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ ادھر بندے کی صفت بھی نہیں ہے،ادھر رب کی صفت بھی نہیں ہے۔اللہ کی ذات ہے اور ادھر بھی دو ذاتیں ہیں، ان اللہ معنا ہم دونوں کے ساتھ اللہ ہے۔ پوری اولادِ آدم علیہ السلام میں ، جو گزر چکی یا آنے والی ہے،صرف دوہستیوں کو معیت ِ ذاتی نصیب ہے، امام الانبیاء حضر ت محمد رسول اللہ ﷺ اور امام الصدیقین سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ۔ یادر ہے جکہ امام الصدیقین صرف حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا لقب ہے، اسے کسی دوسری جگہ استعمال نہ کیا جائے۔ جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا وصال ہوا اور سیدنا فاروق اعظم سربراہ خلافت ہوئے تو عرض کیا گیا،یا خلیفہ رسول اللہ ﷺ ! فرمایا: نہیں خلیفہ رسول اللہ ﷺ صرف ابوبکر صدیق ؓ کو سجتاہے ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیا کہیں؟ فرما: مجھے امیر المومنین کہو، خلافت کا لقب صرف ابو بکر صدیق ؓ کو خصوصیت ہے۔ اسی طرح امام الصدیقین کسی دوسرے پہ نہیں سجتا،صرف ابوبکر صدیق ؓ کا لقب ہے۔ کائنات میں یہ دو ہستیاں ہیں جنھیں معیت ِ ذاتی حاصل ہے، ان کی بھی ذات ہے، ادھر اللہ کی بھی ذات ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com