آہ۔علامہ حافظ خادم حسین رضویؒ

ایچ آئی ہاشمی
دل تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اِس عہد کے ایک اور نامور عالم دین، سچے عاشقِ رسولﷺ،عالمی مبلغ اسلام، رہبر شریعت، تحریک لبیک پاکستان کے بانی علامہ حافظ خادم حسین رضوی مختصر علالت کے بعد اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔آپ اپنی ذات میں ایک تحریک کی حیثیت رکھتے تھے،حقیقتاً آپ ایک تنظیم، ایک انجمن،ایک جماعت کے درجے میں تھے۔اللہ تعالی کی توفیق سے یہ آپ کا ہی خاصا رہا کہ جو کام بڑی بڑی جماعتوں، جمیعتوں،انجمنوں یا پھر تنظیموں اور گرینڈ سیاسی الائنس سے نہ ہوسکاآپ نے کر دیکھایا۔ آپ ایسے سچے، صاف گو لیکن شعلہ بیان مقرر تھے کہ آپ کے ایک ایک فقرے پر حکمرانوں کے محلات کے درودیوار لرز جایا کرتے تھے۔ آپ کہا کرتے تھے کہ غیرت مند امتی ناموس رسالت ﷺ اور دین مصطفے ﷺ پر غیروں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے اور آپ نے اپنی آخری سانس تک ناموس رسالتﷺکا علم بلند کئے رکھا وصال سے چند روز قبل بھی اسلام آباد میں دھرنا اپنی تشہیر، حصول اقتداریا پھر ذاتی مفادکیلئے نہیں دیا بلکہ وہ احتجاج خالصتاً رحمت اللعالمینؐ، خاتم النبینؐ آپﷺ کی حرمت کی خاطر تھا جس میں اِن کا صرف یہ اصولی مطالبہ تھا کہ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے فرانس سے سفارتی تعلقات فی الفور ختم کر کے سفارتکارکو ملک بدر کیا جائے اور فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور یوں مطالبات پر حکومت کے ساتھ تسلی بخش معاہدے کے بات ہی دھرنا اختتام پذیر ہواتھا۔ سیاست میں آنے سے قبل خادم حسین لاہور میں محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب تھے مگر ممتاز قادری کی سزا پر عملددرآمد کے بعد انھوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی تو مسجد کی ذمہ داریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر آپ نے ناموسِ رسالتﷺ کے اپنے موقف میں ذرا لچک نہ دیکھائی اور ہرمحاذ پر ڈٹے نظر آئے۔
حافظ خادم حسین رضوی کورب کریم نے حسین صورت اور پاکیزہ سیرت سے نواز رکھا تھا۔آپ ایک ایسی عظیم ہستی تھیں جو مشکل ترین اور پریشان کن حالات میں بھی کبھی مایوس نہیں ہوا کرتی۔آپ کی جہد مسلسل سے مزین زندگی پر سرسری نظر دوڑائی جائے تو 3 ربیع الاول، 1386ھ بمطابق 22 جون، 1966ء کو ”نکہ توت” ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے
آپ نے ابتدائی تعلیم میں چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں نکا کلاں کے اسکول سے حاصل کی کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ جب خادم حسین اکیلے جہلم پہنچے تو اس وقت تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر تھی اور اس کی وجہ سے جلسے جلوس اور پکڑ دھکڑ کا عمل چل رہا تھا۔ جہلم میں علامہ صاحب کے گاؤں کے استاد حافظ غلام محمد موجود تھے جنھوں نے انہیں جامعہ غوثیہ اشاعت العلوم عید گاہ لے گئے۔ یہ مدرسہ قاضی غلام محمود کا تھا جو پیر مہر علی شاہ کے مرید خاص تھے۔ وہ خود خطیب و امام تھے اس لیے مدرسہ کے منتظم ان کے بیٹے قاضی حبیب الرحمن تھے۔ مدرسہ میں حفظ قرآن مجید کے لیے استاد قاری غلام یسین تھے جن کا تعلق ضلع گجرات سے تھا اور وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ خادم حسین نے قرآن مجید کے ابتدائی بارہ سپارے جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں حفظ کیے اور اس سے آگے کے اٹھارہ سپارے مشین محلہ نمبر 1 کے دار العلوم میں حفظ کیے۔ اس کی وجہ کچھ یوں بنی کہ مدرسہ میں موجود نکا کلاں کے ایک طالب علم گل محمد نے کسی بات پر باورچی کو مارا تھا اور باورچی کو اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ اس وجہ سے گل محمد کو مدرسہ سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے نکا کلاں کے استاد حافظ غلام محمد نے اپنے لائے تمام طلبہ جن کی تعداد اکیس تھی نکال کر مشین محلہ نمبر 1 پر واقع دار العلوم میں داخلہ دلا دیا جن میں خادم حسین بھی شامل تھے۔ آپ کو قرآن پاک حفظ کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا۔ جب آپ کی عمر بارہ برس ہوئی تو دینیہ ضلع گجرات چلے گئے اور وہاں دو سال قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ قرأت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1980ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے۔ [3] وہاں آپ نے شہرہ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ [4] لاہور مدرسہ میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1988ء میں فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے علاوہ درس نظامی اور احادیث پڑھیں۔آپ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے ہی حاصل کی تھی مگر 1974ء میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے گھر چھوڑا اور جامعہ مسجد عید گاہ جہلم میں داخلہ لیا۔وہاں حافظ غلام یٰسین آپ کے استاد تھے۔1978 میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔حفظ و تجوید کے بعد درسِ نظامی پڑھنے کے لیے جامع مسجد وزیر خان لاہور میں قاری منظور حسین کے پاس آ گئے۔انھوں نے آپ کو جامعہ نظامیہ لاہور میں داخل کرا دیا جہاں ترمذی شریف کی تعلیم، مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی،مسلم شریف اورابو داؤد شریف کی تعلیم مفتی محمد عبداللطیف نقش بندی،کنزالدقائق اورقصیدہ بردہ شریف کی تعلیم علامہ محمد رشید نقش بندی اور بخاری شریف کی تعلیم عبدالحکیم شرف قادری سے حاصل کی دیگر اساتذہ میں علامہ حافظ عبدالستار سعیدی اور علامہ محمد صدیق ہزاروی شامل تھے۔1988ء میں دورحدیث مکمل ہوا اور دستارِ فضیلت عطا کی گئی۔
1990 ء میں جامعہ نظامیہ میں ” علمِ صرف ”کا درس دینا شروع کیا۔1993ء میں محکمہ اوقاف لاہور کی طرف سے دربار سائیں کانواں والے،گجرات میں خطابت و امامت کے لیے آپ کا تقرر ہوا۔بعد ازآں دربار حضرت شاہ ابوالمعالی کی مسجد میں تبادلہ ہوا۔وہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے چار ماہ کے لیے معطل کر دیے گئے۔اس کے بعد بحال ہو کر پیر مکی صاحب لاہور کی مسجد میں فرائض انجام دینے لگے لیکن حکومتی پالیسیاں حسب معمول ان کا ہدف تھیں،خاص طور پر ممتاز قادری کے حوالے سے ان کا مؤقف حکومت کے برعکس تھاجس کا اظہار وہ سرکاری پلیٹ فارم پر کرتے تھے۔نتیجے کے طور پر ملازمت کا یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور محکمہ اوقاف نے انھیں ملازمت سے فارغ کر دیا۔”ممتاز قادری رہائی تحریک”کے محرک اور سرپرست اعلیٰ رہے۔”تحریک فدائیان ختم نبوت” کے امیر رہے۔ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت ہے۔ممتاز قادری کی سزا کے بعد ”تحریک لبیک یا رسول اللہ”کے سرپرست اعلیٰ رہے؛بعد ازآں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی سے اختلاف کی وجہ سے اپنی الگ تحریک”تحریک لبیک پاکستان”بنا لی۔ انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔2017 میں این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے اورسات ہزار ووٹ حاصل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔این اے 4،پشاور کے ضمنی الیکشن میں تقریبا دس ہزار ووٹ حاصل کیے۔لودھراں کے الیکشن میں بھی ان کی تنظیم کو گیار ہزار کے قریب ووٹ پڑے۔2017ء میں نواز شریف حکومت نے ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدل دیے؛جس پر ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوئی،خادم حسین رضوی نے بیانات کی بجائے عملی قدم اٹھایا اور اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر کئی دن دھرنا دیا؛جس کی وجہ سے وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔2018ء میں جب ہالینڈ نے حضورﷺ کے خاکوں کی نمائش کی گستاخی کی تو آپ نے دوبارہ لاہور تا اسلام آباد مارچ کیا اور دھرنا دیا۔
آسیہ نام کی ایک عورت پرتوہین رسالت کا الزام لگایا گیا،ہائی کورٹ نے اسے موت کی سزا سنائی لیکن سپریم کورٹ میں اسے رہائی مل گئی۔ جس پر خادم حسین رضوی کا شدید ردِ عمل سامنے آیا۔۔جس کے نتیجے میں خادم حسین رضوی اور ان کی تنظیم کے عہدہ داروں اور معاونین کو گرفتار کر لیا گیا۔ خادم حسین رضوی دہشت گردی کے الزام میں لاہور پولیس کی حراست رہے۔مئی 2019ء کو ضمانت پر رہائی ملی۔پنجابی ان کی مادری زبان ہے تاہم انھیں فارسی پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔شاعری سے بھی لگاؤتھا۔خود کو کلام اقبال کا حافظ کہتے تھے۔خادم حسین رضوی مختصر علالت کے بعد 19نومبر 2020کو اِس جہانِ فانی کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیرآباد کہہ گئے ہیں آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے چاہنے والوں کے جمع غفیر میں آج مینارِ پاکستان لاہور میں ادا کی جارہی ہے۔بلاشبہ دین اسلام کیلئے آپؒ کی قربانیاں تا دم قیامت عاشقانِ مصطفی کریم کیلئے مشعل راہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com