وزیراعلیٰ بلوچستان سے ایک ملاقات

وزیراعلیٰ بلوچستان سے ایک ملاقات
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
بلوچستان لائیوسٹاک ایکسپو 2019کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے بھی ملاقات ہوئی۔ لائیوسٹاک سیکٹر کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہیں اور اسی مناسبت سے گفتگو میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ فوراََ سیکرٹری کو بلا کر میرے سے رابطے میں رہنے کا کہا۔ اس موقع پر وزیر لائیوسٹاک بلوچستان مٹھا خان کاکڑ، وزیر اعلیٰ کے معاونِ خصوصی اور چیئرمین سینٹ کے بھائی اعجاز سنجرانی اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہم لائیوسٹاک سیکٹر پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں محکمہ لائیوسٹاک کافی متحرک ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اسی دوران مجھے اپناپرسنل ای میل ایڈریس دیا اور کہا کہ بلوچستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری کے حوالے سے تجاویز ای میل کریں۔
میں نے ریسٹ ہاؤس واپسی پر ایک بریف لکھا اور وزیر اعلیٰ کو رات گئے ای میل کر دیا۔ ساتھ میں اپنی کتاب ”لائیوسٹاک سیکٹر اور تاریخی چار سال“ کی PDF فائل بھی ای میل کی۔ مجھے توقع تھی کہ یہ ای میل یا تو Overlook ہو جائے گی یا پھر کسی بیوروکریٹ کی جانب سے کوئی رسمی جواب دے دیا جائے گا۔ لیکن معاملات خلاف توقع رہے۔
دن میں تو کوئی جواب نہ ملا مگر رات بارہ بجے موبائل فون سے ای میل پرThanks کا جواب آگیا۔ جواب میں وقت کیوں لگا، یہ جاننے کی کوشش پر معلوم ہوا کہ دن میں وزیر اعلیٰ شہر سے باہر کسی دورے پر تھے۔
ممکن تھا کہ Thanks ایک رسمی جواب ہوتا اور اس کے بعد یہ ای میل کہیں نیچے چلی جاتے، لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ میرے لئے انتہائی حیران کن پہلو تھا کہ تقریباََڈیڑھ ہفتے بعد مجھے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک ای میل ملی جس میں سابقہ ای میل سے متعلقہ فولو اپ کے بارے پوچھا گیا۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ میری بھیجی ہوئی ای میل عمومی سرکاری معاملات کی نظر نہیں ہوئی۔
ایک وزیر اعلیٰ کا کسی عام شہری کی طرف سے دی گئی تجاویز کو اس قدر سنجیدہ لینا اور اس پر ذاتی سطح پر ردعمل کا اظہار کرنا قابل ستائش ہے۔ شاید کہ بلوچستان کو اس قدر سوشل اور متحرک وزیر اعلیٰ ملا ہو۔
کوئٹہ قیام کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان سے متعلقہ اور بھی بہت سی چیزیں مشاہدے میں آئیں۔ انہی دنوں بلوچستان یونیورسٹی میں ایک ایشو چل رہا تھا۔ تقریب سے فارغ ہو کر جب وزیر اعلیٰ آڈیٹوریم سے باہر نکلے تو نوجوان ایک طرف لان میں کھڑے نعرے لگا رہے تھے۔ بجائے یہ کہ سیکیورٹی کے حصار میں وہ گاڑی میں بیٹھتے اور گاڑیوں کا قافلہ سپیڈ سے روانہ ہو جاتا، وزیر اعلیٰ خود سڑک کو کراس کرتے ہوئے لان میں اتر ے اور براہ راست سٹوڈنٹس سے ان کے مسائل سننے لگے۔
چونکہ میں بلوچستان لائیوسٹاک ایکسپوکے سلسلے میں کوئٹہ گیا تھا، اس حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو انتہائی فعال پایا۔ یہ بلوچستان کی پہلی اور تاریخی لائیوسٹاک ایکسپو تھی جس کی تیاریوں کے دوران تاثر دیا جارہا تھا کہ وزیر اعلیٰ اس کے انعقاد میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔ کوئٹہ پہنچ کر اس تاثر کو بالکل درست پایا۔ ایکسپو کے انعقاد کے سلسلے میں پوری حکومتی مشینری فعال تھی اور وزراء، اعلیٰ افسران اور دیگر اہم حکومتی شخصیات مسلسل بلوچستان یونیورسٹی کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ خود بھی یونیورسٹی آئے اور ذاتی طور پر انتظامات کا جائزہ لیا۔
اگلے دن ایکسپو کے دوران ممکن تھا کہ وزیر اعلیٰ صرف افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے کہ صدر مملکت عارف علوی مہمان خصوصی تھے۔ لیکن یہاں بھی بالکل مختلف صورت حال دیکھنے کو ملی۔ وزیراعلیٰ نے افتتاحی تقریب کے علاوہ بھی ایکسپو کو ٹائم دیا اور صدر پاکستان کے ہمراہ نمائش میں سٹالوں کے رسمی وزٹ کے علاہ ذاتی طور پر بھی وزٹ کیا۔
افتتاحی تقریب کے علاوہ ایکسپو کے موقع پر منعقدہ سیمینارز میں بھی وزیر اعلیٰ بیٹھے۔ ایک سیشن میں سابق وزیر لائیوسٹاک ممتاز خان منہیس لائیوسٹاک فارمرز کی اہمیت پر گفتگو کر رہے تھے۔ وقت زیادہونے کے باعث پرچی ملنے پر جب انہوں نے گفتگو ختم کرنا چاہی تو وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے انہیں روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی گفتگو جاری رکھیں، میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں آپ کو سننے کے لئے۔ ہم لوگ یہاں ماہرین سے سیکھنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر وزیر اعلیٰ تقریب کے اختتام تک موجود رہے اور تمام ماہرین کی گفتگو سنی۔
ایک وزیر اعلیٰ جس کی محکمہ لائیوسٹاک سے متعلقہ امور میں اس قدر دلچسپی ہے یقینی طور پر مجموعی گورننس میں بھی اس کی سرگرمیاں منفرد ہی ہوں گی اورحقیقت میں ہے بھی ایسا۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ کوئی بھی ہو، اسے اسی نظام کا حصہ بننا پڑتا ہے اور اسی سسٹم میں رہ کر ہی کام کرنا ہوتا ہے؛ اور اس مناست سے کوئی شخص Perfect بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان کے بارے اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ متحرک، فعال اور محنتی وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان میں وہ تڑپ ضرور موجود ہے جو کسی ایڈمنسٹریٹر کو ممتاز کرتی ہے۔
کوئٹہ میں قیام کے دوران بتایا گیا کہ یہ منفرد وزیر اعلیٰ ہیں۔ ہر کام میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں اور فعال ہیں۔ نان بیورکریٹک آفیسرز کو بھی وٹس ایپ پر جواب دیتے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ایکٹو ہیں اور نوجوانوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔
بلوچستان جیسے صوبہ میں وزیر اعلیٰ جام کمال جیسے شخص کاوزیر اعلیٰ ہونا ایک بہتری کی امید ضرور ہے۔ بہت ضروری ہے کہ ایسے شخص کو وقت دیا جائے اور فری ہینڈ دیتے ہوئے کام کا موقع فراہم کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے گزارش ہو گی کہ وہ ڈویلپمنٹ کے کاموں اور دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ اس حوالے سے انڈسٹری کو بلوچستان کی جانب راغب کیا جائے اور نوجوانوں کے لئے سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا آغاز کیا جائے۔ جام کمال خان ایک اچھے وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com