پانچویں عالمی کانفرنس ادبِ اطفال 2020ء ۔

محمد طاہر تبسم دُرانی
اللہ کریم نے قُرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ (بے شک ہم نے قلم کے ذریعے علم سکھایا)۔ علم کے تشریح اور وضاحت نبی محترم آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی اِن احادیث ہو جاتی ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ علم حاصل کرو چاہے تمیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، ارشاد نبی مکرم ﷺ علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر گور تک۔ اِن احادیث کی روشنی میں علم حاصل کرنے کی ترغیب اور اہمیت واضع ہو جاتی ہے کہ علم حاصل کرنا کس قدر ضروری ہے اور لازمی عمل ہے کیونکہ علم کے بغیر کوئی بھی عمل نامکمل جاتا ہے۔ علم شعور پیدا کرتا ہے۔ علم انسان کو اللہ سے ملاقات کرواتا ہے۔علم کی اہمیت کے لیئے نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اس عمل سے اور زیادہ وضاحت ہو تی ہے کہ دولت سے زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ ایک غزوہ میں جب کئی کفار کو جنگی قیدیوں کی صورت میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش گیا اور ان جنگی قیدیوں کے لیئے سزا کا کہا گیا تو میرے کریم آقا ﷺ نے فرمایا۔۔ تم ہمارے دس لوگوں کو علم سکھاؤ یہی آپ کا فدیہ ہے۔مثل مشہور ہے بچے من کے سچے، ہم جن کو بچہ سمجھتے ہیں وہ ہمارا کل ہیں، وہ ہمارا مستقبل ہیں۔ ایک بچہ ایک مکمل شخصیت ہے، اس لیئے بچے کی جتنی اچھی تربیت ہوگی ہمارا کل یعنی ہمارا مستقبل اُتنا ہی خوشحال اور خوش و خرم ہوگا۔ جب بچوں کو علم کی جگہ مال کی اہمیت اور محبت دی جائے تو معاشرہ جرائم کا گڑہ بن جاتا ہے۔ جب بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی تو یہی ہمارے بچے مستقبل میں جُرم کے بے تاج بادشاہ بن جاتے ہیں اور معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اِن کے اندر چھُپی اہلیت و قابلیت (Talent)کو اُجاگر کرنے کا سہرا محترم محمد شعیب مرزا صاحب نے اُٹھا رکھا ہے اور کئی سالوں سے ماہنامہ پھول میں بچوں کی تحاریر کو شائع کرتے ہیں جس سے بچوں میں پڑھنے لکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، ماہنامہ پھول جس کوایک عرصہ سے ہم جیسے لوگوں نے پڑھا اور آج ہمارے بچے اس ماہنامہ کو پڑھ کر مستفید ہو رہے ہیں۔بروز اتوار لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ایک نہایت شاندار ادبی عالمی کانفرنس میں مجھے بھی جاتے کا شرف حاصل ہوا۔ میں بہت زیادہ پُر جوش تھا کئی دن پہلے ہی جانے کی تیاریاں کر رہا تھا، بالا آخر وہ دن آگیا۔ مجھے ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے میرے دوست محترم مہر اشتیاق احمد صاحب جو ڈسکہ (سیالکوٹ) سے تشریف لا رہے تھے، اِن کی کال آئی کہ میں مطلوبہ جگہ پر پہنچ چکا ہوں،لہذا میں نے بھی اپنی معصوم سے کار خوب بھگائی اور اُن کو رسیو کر لیا اور مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے پیلس ہال میں پہنچے، حاضری لگائی اور اپنا وزٹنگ کارڈ اور بیگ وصول کیا۔پروگرام مقررہ وقت سے کچھ دیر بعد ہی شروع ہوا سوچا کیوں نہ تصویریں بنا لی جائیں چنانچہ وقت سے فائدہ اٹھاتے محترم شیعب مرزا صاحب کو ایڈوانس مبارکباد پیش کی اور تصویر بنوانے کی درخواست بھی پیش کر دی جو انہوں نے انتہائی شفقت بھرے لہجے میں قبول کی۔ وہیں ہمارے بہت ہی پیارے دوست شہزاد اسلم راجہ سے شرف ملاقات ہوا۔ہمارے آنکھیں ایک دوست کو تلاش کر رہی تھیں لیکن وہ محبتوں کا سفیر ہمیں کافی دیر بعد نظر آہی گیا جی ہاں میں اس محبتوں کے سفیر حسیب اعجاز عاشر کی بات کر رہا ہوں۔ اتنے میں بہت ہی پیار ا دوست جو عمر میں چھوٹا لیکن علم و ہنر میں بہت بڑا اسد نقوی سے ملاقات ہوئی اور یہیں پر محترم عقیل انجم اعوان صاحب سے بھی بغل گیر ہوئے، بڑے کمال کے دوست شاعر وسیم عباس، محترم دوست مظہر چوہدری محترم ڈاکٹر تنویر سرو ر صاحب،محترمہ ڈاکٹر فضیلت بانواور افتخار خان صاحب سے بھی پروگرام کے دوران گپ شب چلتی رہے۔ پھر پروگرام شرو ع ہوا۔
تلاوت کی شرف ہمارے نہایت شفیق دوست محترم حفیظ چوہدری صاحب نے حاصل کیا۔ جبکہ حضور ﷺ کی بارہ گاہ میں عقیدت کے پھول معروف نعت خواں سرور نقشبندی نے پیش کیے۔ اس کے بعد باقادعدہ پروگرام کا آغازہوا۔ پروگرام مختلف شیشنز (Sessions)نہایت ادب اور پُر امن طریقے سے جاری و ساری رہا۔ خطابات کا سلسلہ شروع ہوا تو سب مقررین نے نہایت خوش اسلوبی اور آسان اُردو میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ محترم وسیم عالم صاحب جو کہ سکریٹری اکادمی ابیات اطفال بھی ہیں انہوں نے بچوں کے ادب، میگزین اور تحاریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے کام کرنے والے لکھاری بہت عظیم کام کر رہے ہیں کیونکہ بچوں کے لیے لکھنا ایک مشکل کام ہے بچوں کی دماغی سطح پر آ کر لکھنا خاصا مشکل کام ہے بچوں کے نفسیات کے مطابق لکھیں گے تو بچے شوق سے پڑھیں گے۔اس کے بعد شیخ فرید جو کہ کوئٹہ سے تشریف لائے تھے، ایک بات بتانا بھول گیا اس ادبی کانفرنس میں ملک بھر بلکہ کینڈا اور انگلینڈ سے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ماہنامہ پھول کی اس کاوش کو سراہا۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا جب کوئی آپ کے کام میں روکاوٹ بنتا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ لوگ آپ کو آزماتے ہیں، آپ اپنے مشن کو جاری و ساری رکھیں کامیابی آپ کی قدم چومے گے۔ اس کے بعد بہت ہی سنیئر، لکھاری، ڈرامہ نویس، شاعر محترم امجد اسلام امجد صاحب نے خطاب کیا انہوں نے بھی بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت پر زور دینے کو کہا۔ اگر بچوں میں خود اعتمادی پید ا نہ کی گئی بچوں کی تربیت میں جھول رکھا گیا تو معاشرے میں مذید بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس کے بعد ایک وقفہ دیا گیا جس میں کانفرنس میں شریک تمام شراکاء کو چائے، کافی، بسکٹ اور سینڈ وچز سے تواضع کی گئی۔ اس کے بعد پھر سے خطاب کا سلسلہ شروع ہوا۔ پورے پاکستان سے آئے مہمانوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شاہد بخاری نے شعر سے آغاز کیا اور شاندار شاعری کی جس میں وطن عزیز کے جوانوں کے ایک ہونے کے تلقین کی۔ محترمہ فضیلت بانوں نے اپنے خطاب میں کہا صرف ایک چیز بچوں میں ڈالی دی جائے اور وہ ہے رزقِ حلال، کینڈا سے آئے مہمان جناب سید اعجاز گیلانی نے اپنے خطاب کا آغاز نعت کریم کے ایک شعر سے کیا اور اپنی مدلل مختصر جامع گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں لائبریریز موجود ہیں لیکن کتابیں پڑھنے کا رجحان بالکل نہیں جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کینڈا کے سکولوں میں کتا ب پڑھنے کا رجحان بچوں کو پہلی جماعت سے ہی پیدا کیا جاتا ہے، بچے لائبریری میں لے جائے جاتے ہیں بچے کو بہت سی کتب دکھائی جاتی ہیں پھر بچے کو کتا ب اس کے نام پر دی جاتی ہے جسے پڑھ کر بچہ کتاب واپس کردیتا ہے، بچے کا کتاب سے تعلق بچپن سے ہی جوڑ دیا جاتا ہے جس سے بچے کے اندر کتاب پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے علم کے طاقت اور کتاب پڑھنے کا رجحان بچوں کو بہت سے بیماریوں اور غلط کاریوں سے بچالیتا ہے بچوں کے ذہنوں کی نشو ونما ہوتی ہے۔
بچوں کے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر خصوصی توجہ دیں۔ بچوں کے دوستوں کے بارے والدین کو علم ہونا چاہیے، بچہ کیا کر رہا ہے کہاں جا رہا ہے ولدین کو اس کا ادراک ہونا ضروری ہے۔اس کے بعد بچوں کے ادب میں گراں خدمات کرنے والے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی نقد کیش انعام اور شیلڈ زسے کی گئی، حسن کارکردگی انعام بھی دیا گیا مجھے بہت خوشی ہوئی ایک چھوٹی سی عمر کی لکھاری فلک زاہد کو دس ہزار کیش انعام اور بچوں کے لیے لکھنے پر شیلڈ بھی دی۔ اس کے بعد تمام لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شیلڈز اور سرٹیفکیٹ دیے گئے اور آخر میں پُر تکلف کھانا سے تواضع کی۔ اس طرح ایک نہایت شاندار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی اور سب لکھاری خوش خوش اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com