یوم پاکستان

تحریر ڈاکٹر ایم ایچ بابر

آج 23 مارچ ہے جسے یوم پاکستان کہا جاتا ہے اور 2020 کے اس یوم پاکستان کو ہم بحثیت قوم بوجہ ایک بلائے ناگہانی یعنی کورونا وائرس کی وجہ سے اس انداز میں منا نہیں پا رہے ہیں مگر کچھ سوچ تو سکتے ہیں کہ پاکستان بناتے b وقت ہم نے اس دھرتی سے کیا عہد کیا تھا کیا ہم ایفائے عہد کی تکمیل کر رہے ہیں جب سے کورونا وائرس پاکستان میں داخل ہوا میرے وطن کے چند ناعاقبت اندیش اس پر اپنی سیاست کرنے اور مذہبی منافرت کے پرچار میں مصروف عمل ہوگئے ہیں سیاسی لوگ سوائے سیاسی نکتہ چینیوں کے کچھ نہیں کر رہے اور مذہبی و فرقہ واریت کے پروردہ اس پر فرقہ واریت کو ہوا دینے میں مصروف عمل ہیں یہ ہم کس ڈگر پر نکل کھڑے ہوئے ہیں قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے ایسی سوچ جو اس مشکل کی گھڑی میں اپنی ڈگڈی لے کر ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں مذہبی تعصب کی عینک لگائے کچھ لوگ زائرین کو نشانہ بنارہے ہیں کہ یہ پاکستان میں کورونا لے کر آرہے ہیں کیا ان کو شوق تھا یا انہوں نے منت مانی تھی کہ ہم پاکستان میں کورونا لے کر جائیں گے صرف زائرین ہی کیوں نظر آرہے ہیں ان مذہبی تعصب کے حاملین کو ارے خدارا ایسی سوچ کو ایک طرف رکھ کر سوچیں چھ ہزار کے قریب زائرین آئے ہیں اور باقی جو اٹلی ،سپین ،جرمنی انگلینڈ اور دوسرے ممالک سے اکتالیس ہزار کے قریب لوگ واپس وطن آئے ہیں انکی بھی کوئی خبر ہے ان تفرقہ بندی کے ٹھیکیداروں کو ان اکتالیس ہزار لوگوں میں سے کتنے ہیں جو قرنطینہ میں ہیں اسپین سے آنے والے اس شخص کو جسے ائر پورٹ سے ہی کورونا وائرس مثبت ہونے کے باوجود نکلنے دیا گیا بعد ازاں وہ گجرات کے نواحی علاقے شادیوال میں ریوڑیوں کی طرح کرونا بانٹتا پھرا یہاں تک کے اس کے دو بیٹے بھی کورونا کے مریض بنے ناجانے کتنے لوگوں کو اس نے کورونا کا شکار بنایا سعودیہ سے آنے والے بھی کئی لوگ کورونا لے کر آئے اور سیدھے گھروں کو چلے گئے ان کی طرف کسی کی نظر گئی ؟ بالکل نہیں کیونکہ ایسے لوگوں کی نظر صرف زائرین پر ہے خدا کے لیئے یہ مشکل کی گھڑی آفت و بلا سے نمٹنے کے لیئے شیعہ سنی وہابی دیوبندی کارڈ کھیلنے کے لیئے نہیں اٹلی پر جو قیامت گزر رہی ہے وہاں بھی زائرین قصور وار ہیں کیا ؟ چائنہ میں بھی کورونا زائرین لے کر گئے کیا ؟ ایران میں یہ زائرین لےکر گئے کورونا کو ؟ جرمنی ،اسپین ،امریکہ، یا دیگر دنیا بھر کے ممالک میں کورونا زائرین نے پھیلایا ؟ خدا کے لیئے سوچ کو قومی سوچ بنائیں اور مشکل اور مصیبت کی گھڑی میں سوچ کو بچاؤ پر مرکوز کریں نا کہ فرقہ واریت پر ۔ دوسری بات یہ کہ قرنطینہ سینٹرز مختلف شہروں میں بنائے گئے ہیں اور ہر شہر سے ان مراکز کی مخالفت میں آواز اٹھ رہی ہے یہ بجا کہ یہ مراکز شہری آبادی سے ہٹ کر بنانے چاہیئں مگر یہ سوچ کہ ہمارے شہر میں بنایا ہی کیوں گیا غلط ہے ۔ صرف چھ ہزار زائرین ہی نہیں جو دوسرے اکتالیس ہزار بیرونی ممالک سے آ کر گھروں کو چلے گئے ہیں ان کی بھی بات کریں ہاں اس وائرس کی احتیاطی تدابیر کے طور پر لاک ڈاؤن از حد ضروری ہے جو ہونا چاہیئے مخیر حضرات ان لوگوں کی طرف دیکھیں جو گھروں میں محصور ہوکر غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں ایسے لوگوں کو راشن پہنچائیں تاکہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور کورونا کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رہیں جتنے پاکستانی اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ان کی صحت و سلامتی کے لیئے دعا کریں پاکستان کو گھر سمجھ کر گھر کے افراد کو بچانے کے لیئے ہر ممکن کوشش کریں حکومت کے دست و بازو بن کر قومی سلامتی کی سوچ کو فروغ دیں یوم پاکستان کو تجدید عہد کے طور پر پاکستان میں بسنے والے تمام پاکستانیوں کی خیر خواہی چاہیں مذہبی اور سیاسی دوکانداریاں نہ چمکائیں خدا کے لیئے سنبھل جائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com