گزرے سال 2019 ء میں ہم نے کیا کھویا ؟کیا پایا؟

گزرے سال 2019 ء میں ہم نے کیا کھویا ؟کیا پایا؟
اختر سردارچودھری
اسلامی کیلنڈر کے مطابق نئے ہجری سال کا آغازمحرم الحرام سے ہوتا ہے جبکہ نئے عیسوی سال کا آغاز جنوری سے۔نئے عیسوی سال کی آمد پرہر جانب جشن کا سماں ہوتا ہے ۔ہر سال اس دن کونیو ائیر نائٹ کے نام سے منایا جاتا ہے۔نئے انداز سے ،پہلے سے بڑھ کر ،بے جا اسراف سے ایک دوسرے سے بڑھ کر رنگ و نور کی جو محفلیں سجائی جاتی ہیں ۔ہمارے ہاں خوشی کا کوئی تہوار ہو ،اسلامی ہو یا ثقافتی کہا جاتا ہے کہ اس پر اتنے اخراجات کئے جا رہے ہوتے ہیں ، جتنی فضول خرچی ہم کرتے ہیں اس سے بہت سارے غریبوں کی مدد کی جا سکتی ہے ۔بات تو دل کو لگتی ہے لیکن اس پرعمل کون کرتا ہے ۔وہ بھی نہیں کرتا جو کہتا ہے ۔اسی لیے بات میں اثر نہیں ۔ ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ اس کا امکان ہے ۔
نئے سال کی خوشیاں منانے کی بجائے اس سے غریب بچوں کے لیے کتابیں خریدی جاسکتی ہیں ۔غریبوں میں کھانا تقسیم کیا جاسکتا ہے ،لیکن جو جشن مناتے ہیں، ان کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ غربت کس بلا کا نام ہے اور پھر یہ بھی کہ جشن کے ماحول میں کون انسانی مجبوریوں کو سمجھتا ہے اور کسے فکر ہے ۔کچھ لوگ یکم جنوری کو نیا سال منانے کے مخالف ہیں، ان سے ایک سوال ہے کہ کیا ہماری روز مرہ کی زندگی اسلامی کیلنڈر کے گرد گھومتی ہے ؟ کیا ہم پاکستان کا یومِ آزادی اسلامی کیلنڈر کے مطابق مناتے ہیں ؟آج کا شمسی کیلنڈر ایک مسلمان عمر خیّام کی دین ہے ۔مسلمان خلیفہ کے حکم سے اس نے یہ شمسی کیلنڈر بنایا تھا ۔بے شک نئے سال کی خوشی منانی چاہیے ،لیکن یہ یاد رکھیں ایک سال ہماری زندگی سے کم ہوا ہے۔بقول شاعر
غافل تجھے گھڑیا ل یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی
ہم سب جانتے ہیں کہ 31دسمبرکو2019 ء کا آخری سورج غروب ہوگا ۔ اور نیا سال 2020ء نئی خوشیوں اور نئی خواہشوں کے ساتھ طلوع ہوگا ۔سوچنے کی بات یہ نہیں کہ آنے والے نئے سال میں ہم کیا کریں گے بلکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے گزرنے والے سال میں کیا کیا ؟ کیا کھویا ؟کیا پایا ؟کسی غریب کی مدد کی ؟ حقوق العباد کا خیال رکھا؟عبادت میں کوتاہی تو نہیں کی ؟کسی کا دل تو نہیں دکھایا ؟ماں باپ کی خدمت کی ؟کوئی نیکی کا کام جان بوجھ کر تو نہیں چھوڑا؟بدی کے راستے پر تو نہیں چلے ؟کتنے اچھے کام کئے ؟وغیرہ۔
اگران سب سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو آئندہ سال یہ سب کچھ کرنا ہوگا ۔اگر نہیں ہے تو نئے سال میں ہمیں اپنی ان غلطیوں کو سدھارنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کی تو بہ کر کے اچھے اور نیک کام کرنے ہوں گے ۔نیا سال 2020 ء ہمارے لئے اور پاکستان کے لئے خوشیوں بھرا سال ثابت ہو ۔
محمد اویس سکندرنے نئے سال کی آمد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیا سال اپنی تمام تر رعنائیوں اور رنگینیوں کے ساتھ آرہا ہے اس خوبصورت نئے سال کے آغاز پر میں سب کے لئے دعا گو ہوں ،اللہ پاک ہم سب کو برے وقت ،برے دشمن کے شرسے محفوظ رکھے۔ آمین
سید حنیف شاہ نے نئے سال کی آمد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیا سال 2020 ء پاکستان سمیت پوری دنیا میں امن اور سلامتی کا سال ہو پاکستان میں غربت ،مہنگائی، بے روزگاری اور جہالت کا خاتمہ ہو اور ہر طرف امن ہی امن ہواللہ تعالی ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں ۔
محمد ارشد سردار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ نیا سال 2020ء ہمارے لئے خوشیاں اور خوشخبریاں لائے ،تمام مسلمانوں کے لئے مسرت و شادمانی کا سال ہو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے،سال 2020ء کشمیر سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے آزادی کا سال ہو۔
محمد عمران نے کہا کہ ارض وطن میںاس وقت مہنگائی ،بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ بھی ہورہاہے۔زراعت ،معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ۔ دہشت گردی ،قتل و غارت ، چوری ڈکیتی اور کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ہمارے ملک کے یہ حالات کب تک ہم پر سایہ فگن رہیں گے، اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے ،بس دعا ہے ،امید ہے ،او ر امید پر دنیا قائم ہے ۔
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
حاجی قیصر علی نے نئے سال کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو نئے سال پر نئے نئے اور اچھے اچھے کام کرنے چائیے اور خاص کر پاکستان کی بہتری ، تعمیرو ترقی اور اچھائی کے لئے نیکی کے فروغ اور برائی کے خاتمے کے لئے جد جہد کرنی چائیے اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرنا چائیے ۔
غلام غوث چودھری نے نئے سال 2020ء کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میر ی ارض وطن کے سب نوجوانوں کیلئے دعا ہے کہ پیارے پاکستان کے اچھے معمار ثابت ہوں اورا للہ تعالی ہمیں دشمنوں سے بچائے اور آنے والے وقت میںقائد اعظم ،محمد علی جوہر ،علامہ اقبال ثابت ہوں۔ہم سب نئے سال میں عہد کریں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں گے ۔
چوہدری شہزاد حیدر گجر نے کہاکہ نیا سال آئے گا ہم سب کے لئے خوشیاں لائے گا ۔نئے سال پر ہماری بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔میری دعا ہے کہ نیا سال ہم سب کے لئے خوشیاں لائے ، کامیابیاں لائے ، نئے سال کی خوشیاں منانے پر جہاںہم لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں وہاں اگرکسی مستحق کی مد د کریں تو اس سے ثواب کے ساتھ ہمیں اطمینان قلب بھی نصیب ہو گا ۔نئے سال کے لیے نئی امیدوں ،خواہشوں ،امنگوں ، نئے نئے ارادوں اور منصوبوںکے ساتھ ہم کو گزرے سال کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے کہ کیا کھویا ؟کیا پایا؟ بہتر تو یہ ہے کہ نئے سال کی خوشی کے ساتھ اسے سال گذشتہ کے احتسا ب کے طور پر منایا جائے ۔
کیا ہم نے جو گزشتہ سال اہداف مقرر کیے تھے وہ پورے ہوئے ؟ہمیں اس بارے لازمی غور کرنا چاہیے کہ اس سال ہم سے کون بچھڑ گیا اور کتنے نئے دوست ملے، ان کے لیے دعا بھی کیجئے جو ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ پاکستان پر اپنی رحمتیں ،برکتیں نازل فرما ۔اے اللہ اے خدائے کارساز ہماری قوم کو ہدایت دے مل جل کر مصیبت کے ماروں کی مدد کرنے کی توفیق دے، ہمارے حکمرانوں کو ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اچھے اور نیک کام کرنے کی توفیق دے ،یا اللہ میرے ملک کو تمام آفات سماوی و ارضی سے محفوظ رکھے ۔آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com