یٰسین ثاقب ؔ بلوچ کی مذہبی شاعری

تو حال کے فرعون سے اک بار تو ٹکرا۔۔تیرا بھی مددگار خدا ہو کے رہے گا
یٰسین ثاقب ؔ بلوچ کی مذہبی شاعری
ایمان و ایقان کی روشن قندیلوں کا جگمگاتا سلسلہ

یٰسین ثاقبؔ بلوچ نے استدلالی شاعری کے مقابلے میں باکمال روحانی واردات پر مبنی شاعری کی ہے
شاعری کا حسن دل و دماغ پرعجیب اثرات مرتب کرتا ہے جو جذبات و احساسات کی تازہ کاری بھی ھے
اسلوب میں سادگی اور سلاست کے ساتھ ساتھ روانی اور بے ساختگی کے جوہر جگہ جگہ نمایاں نظر آتے ہیں

مبارک علی شمسی
تاریخ اسلام کے قاری خوب جانتے ہیں کہ بعض روایات میں وارد ھوا ھے کہ سب سے پہلے حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام نے اپنے لخت جگرہابیل کیلئے سریانی زبان کی نثر میں مرثیہ کہا جب یہ مرثیہ ھوتے ھوئے یعرب ابن قحطان تک پہنچا تو اس نے اس نثر سریانی کو عربی کا جامہ پہنا دیا اور نظم کی صورت میں چند اشعار اپنی طرف سے بھی کہہ دیئے، گویا وھاں سے شاعری کی ابتداء ھوئی حقیقت یہ ھے کہ ادب شعور و شاعری کے ملبوس میں جلوہ نمائی کرسکتا ھے کیونکہ ادب زندگی کی قدروں کو متعین کرنے میں کارفرما ھوتا ھے ادب انسانی کرداروں کو اجاگر کرتا ھے اور زندگی کے ایک ایک گوشہ میں جھانکتا ھے ادب ھماری زندگی میں ھماری خوشی اور غمی دونوں میں شریک ھوتا ھے یہ ایک اٹل حقیقت ھے کہ ادب کا بنیادی کام انسانی جذبات کی عمیق ترین بنیادوں کو منظر عام پر لانا ھے اس لیئے ادیب یا شاعر کا اچھا انسان ھونا ضروری ھے کیونکہ شاعر یا ادیب اپنے زمانے کی زبان اور دماغ ھوتا ھے اور بلا تردید شاعر کے کلام میں اپنے زمانے کے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ھے کیونکہ شاعری اظہار کا وہ وسیلہ ھے جس میں سمندر کو کوزے میں بند کیا جا سکتا ھے ھماری خوش قسمتی یہ ھے کہ ھمارے ھاں ایسے شعراء اور تخلیق کار موجود ہیں جو نہ کسی فکری ابہام میں مبتلا ہیں اور نہ کسی روحانی بحران کا شکار ہیں اور یسٰین ثاقبؔ بلوچ کا شمار انہی بالغ النظر باشعور باھمت اور حقیقت پسند قلم کاروں میں ھوتا ھے یٰسین ثاقب بلوچ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ان کا کلام ان کے ھونے کا منہ بولتا ثبوت ھے اور لاکھوں شعراء میں ان کا کلام پہچانا جاتا ھے یٰسین ثاقب ؔبلوچ کا اصل نام غلام یٰسین ھے جو کہ ان کے مرشد سید غلام اکبر شاہ(مرحوم) نے رکھا تھا اور ان کا ادبی نام یٰسین ثاقب ؔھے اور ھوت بلوچ قبیلہ سے ان کا تعلق ھے یہی وجہ ھے کہ یہ یٰسین ثاقبؔ نلوچ کے نام سے جانے جاتے ہیں ان کے والد(مرحوم) کا نام امیر عباس بلوچ ھے جو کہ ایک پرہیزگار شخصیت کے مالک تھے ان کے آباؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر میں ٹانک سے ہجرت کر کے میانوالی میں مقیم ھوئے یٰسین ثاقب ؔبلوچ کا مقام پیدائش ضلع میانوالی کا ایک چھوٹا سا گاؤں دورخیلانوالہ ھے لیکن اب وادی غنڈی میانوالی میں مقیم ہیں۔ آپ نے دوران تعلیم دو مرتبہ ضلع بھر میں اول پوزیشن حاصل کی اس کے علاوہ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ھے کہ آپ نے پی، او، ایف(POF) واہ کینٹ سے تین سالہ مکینیکل کورس کر کے وہیں پی، او،ایف (POF)میں ملازمت اختیار کی اور بر اعظم ایشیاء کی سب سے بڑی اسلحہ ساز فیکٹری میں زندگی کی چھبیس بہاریں ملک و ملت کی خدمت میں گزار دیں ان کو یہ بھی اعزاز حاصل ھے کہ ان کو 2012 ء میں منہاج القرآن ھائی سکول غنڈی کی طرف سے میڈل برائے حسن کارکردگی بھی ملا ھے جبکہ قائداعظم ڈے کے حوالہ سے انہیں میانوالی کے پریس کلب کی جانب سے قائداعظم ایوارڈ بھی مل چکا ھے اور لکی ایرانی سرکس کی طرف اے انہیں بہترین شاعر کی سند بھی ملی ھے اور 2019 ء میں ادبی تنظیم بزم شمسی ؔ پاکستان کی جانب سے انہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ(Life Time Acthivment Award) بھی مل چکا ھے۔یٰسین ثاقب ؔبلوچ کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ھے بقول ان کے انہوں نے شاعری کی ابتداء 1971 ء میں ساتویں جماعت میں وطن کے عنوان سے کی جس کا پہلا شعر یہ ھے
؎ جان اپنے وطن پہ لٹائیں گے ھم
اس کے دشمن کو نیچا دکھائیں گے ھم
اس وقت ان کے اردو کے استاد سید گلزار بخاری تھے جو بعد میں پروفیسر بن گئے جب یٰسین ثاقبؔ بلوچ نے اپنی یہ نظم ان کو دکھائی تو انہوں نے موصوف کی بہت حوصلہ افزائی کی جس کے بعد انہوں نے اپنی یہ نظم اپنے حقیقی ماموں ندان علی مقبول بلوچ (مرحوم) کو سنائی جو کہ ھیڈ ماسٹر تھے اور ایک منجھے ھوئے شاعر اور ادیب تھے انہوں نے یٰسین ثاقبؔ بلوچ کی حوصلہ افزائی کی جس کے بعد ان کا یہ شعری سفر شروع ھو گیا جو کہ تا حال جاری و ساری ھے اگر دیکھا جائے تو یٰسین ثاقب ؔبلوچ کے مندرجہ بالا شعر سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ وہ ایک محب وطن شخصیت کے مالک ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ھے اس سے یہ بات بھی عیاں ھوتی ھے کہ شروع سے ہی یٰسین ثاقبؔ بلوچ کی شاعری میں رجائیت کا زاویہ بالخصوص نمایاں ھے۔وہ مایوسی سے نفرت کرتے ہیں ان کا رخ شروع ھی سے عامتا ناس کی طرف ھے انہوں نے اس برے اور مادیت پرست معاشرے کے کانوں پر مسلسل زور سے دستک دینے کی کوشش کی ھے اس ضمن میں ان کا یہ شعر دیکھیں
؎ تو حال کے فرعون سے اک بار تو ٹکرا
تیرا بھی مددگار خدا ھو کے رہے گا
اسلامی شاعری کے روحانی سفر میں انہوں نے ایک سچے عاشق کی طرح محمد و آل محمدﷺ کی شان میں اس قدر خوبصورت شعر کہے ہیں کہ ان کے اندر فکر و بصیرت کے ساتھ ساتھ پھوٹنے والی شعاعیں بھی روحانی تجربات کا عکس جمیل معلوم ھوتی ہیں ایسے لگتا ھے کہ ان کو موضوع اور اسلوب پر قدرت حاصل ھے مثلاً حضرت امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کی شان میں وہ کچھ یوں کہتے ہیں کہ
بے شک بڑا مقام ھے مولا حسین ؑ کا
دنیا میں چرچا عام ھے مولا حسین ؑکا
دشت بلا کواس نے معلی بنا دیا
لیکن حسن امام ھے مولا حسین ؑ کا
یٰسین ثاقبؔ بلوچ کی اسلامک شاعری احساس مؤدت کی زبان ھے جو شاعر کو عظمت و توقیر بخشتی ھے اور عقیدت میں محبت کی بھلاوٹ روح سخن کو پیکر حسن اور پیکر شعر کو خلعت فاخرہ عطا کرتی ھے یٰسین ثاقب ؔبلوچ نے چہاردہ معصومین علیہم السلام اور حسینیت کے ایسے خوبصورت مرقع سجائے ہیں جو ان کے سچے جذبات کی رنگ آمیزی اور فکر و شعور کی دلکش مصوری سے دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتے ہیں وہ اپنی ایک نظم بعنوان ” ماتمی” کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ
کہتی ھے رات کالی یہ جہان ماتمی ھے
کالے حروف جس کے یہ قرآن ماتمی ھے
زندہ کی ھے نشانی آئے جہاں میں رو کر
فطرت کی رو سے دیکھو انسان ماتمی ھے
کالی ردا میں جو کہ مستور ھو گیا ھے
سوچو ذرا تو بیت رحمن ماتمی ھے
آخر میں میں یسٰین ثاقب ؔ بلوچ کے روشن مستقبل اور ان کی مزید کامیابی و کامرانی کے لیئے دعا گو ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com