یوم تاسیس کوشش ویلفئیر ٹرسٹ رائیونڈ

یوم تاسیس کوشش ویلفئیر ٹرسٹ رائیونڈ
ظفر اقبال ظفر
کوشش کرنے والوں کی کامیابی کا راز کیا اس محنت کے پیچھے طاقت کون عطا کرتا ہے اس کا جواب اس بات میں پوشیدہ تھا جسے کھوجنے کے بعد میں ماننے اور بتانے کے قابل ہوا ہوں کہ انسان صرف گناہ اپنی طاقت سے کرتا ہے مگر نیکی کی توفیق صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے خدمت انسانیت سے لے کر ہر اچھے کام کی چاہت کرنے سے آپ اس کی تکمیل میں فوری کامیاب نہیں ہو سکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ نیکی وہ انمول نعمت ہے جو اپنا معیار رکھتی ہے اگر بندہ اچھے کام چنتاہے تو اچھے کام بھی بندے چنتے ہیںدیکھنے والی آنکھ ہو تو نیکی بندوں کی تلاش میں رہتی ہے بندہ بننا آسان تھوڈی ہے۔ سوچنے اور چاہنے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس کی قبولیت دعائوں التجاہوں سے عطا کروانی پڑتی ہے یعنی دل کا آئینہ آنکھوں کے عرق سے دھو کر اللہ کی عدالت میں ریاکاری خواہش نفس سے پاکیزہ حسرت پیش کرنا پڑتی ہے۔ درود پاک کی التجاہوں سے دستک دے دے کر قبولیت کا در کھلوانا پڑتا ہے تب جا کر مالک عنایت فرماتا ہے تو لوگوں کے دلوں کو آپ کی طلب نیکی کی تکمیلی مدد سے جوڑتا ہے ساتھی بناتا ہے یہی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے یقین مانیے میں نے ان گنت ایسے لوگ دیکھیے ہیں جن کے پاس لاتعداد دولت ہوتی ہے مگر انسانیت کی خدمت سے محروم ہیں اور ایسے تنہا خالی جیبوں والے انسان دیکھیے ہیں جن کا درد دل اللہ نے قبول کیا تو اسے پہلے دولت سے بھی قیمتی دولت مخلص جانثار ساتھیوں سے نوازا پھر ان کے دلوں دماغوں کو روحانی طاقت سے روشن کیا تو مال و دولت روپ اور انداز بدل بدل کر ان کو تلاش کرتا پہنچنے لگا جیسے دولت خود التجاہ کر رہی ہو کہ اللہ مجھے اپنے پسندیدہ بندے کے ہاتھوں ضرورت مند کی خدمت میں پہنچا کر عزت بخش دے۔ یہ وہ معجزے ہیں جنہیں اللہ قبول کر لیتا ہے تو رونما ہونے لگتے ہیں مگر کوئی بھی کوشش کرنے والایہ نہ سمجھے کہ یہ اس کی کوشش کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ میرے اللہ کی قبولیت کا نتیجہ ہے اور اللہ موجودہ کامیابی میں مگن رہ کر آگے بڑھنے والے کو احساس بھی دلاتا رہتا ہے کہ اس سے آگے تو تب بڑھے گا جب میری رضا کا ساتھ ملے گا اگر نہیں جا پا رہے ہو تو اپنے عملوں میں جانک کر دیکھ رکاوٹ کا علم ہو جائے گا اصلاح کا تقاضا سمجھ دولت شہرت ترقی دنیاوی غرض دب دبا سے متاثر ہوئے کئی اس کی طلب میں عافل پھرتے ہیں اور ایک طبقہ وہ بھی ہے جو نیکی راحت کا طلبگار ہے ۔دنیاوی خواہشات کے سارے طلب گار باہر کے معاملات پر محنت کرتے ہیں جب کے نیکی کے طلب گار اپنے اندر کے معاملات پر محنت کرتے ہیں۔میرے جیسا بندہ جو نہ دنیا کے مزاج کا بن سکا نہ قدرت کے انداز قبولیت کو سمجھ کر عمل کے قریب ہو سکا وہ بس نیت بنانے میں مارا مارا بھٹک رہا ہے اسے نیکی کے لیے قبول ہوئے لوگوں کی صحبت میں سیکھنے سمجھنے کی توفیق ملنا بھی قدرت کی انمول عطا ہے کیونکہ میرے لیے یہ مانگنے کا سلیقہ مہیا کرتا ہے جس میں رہ کر میں نے قبول ہوئے خاکساروں کی سلامتی مانگی ہے۔ اچھائی کا مجھ ہی سے ہونا تو ضروری نہیں مگر کسی کے ہاتھوں بھی ہوتے رہنا معاشرے کا بھلا ہی تو ہے میرے دل میں نیکی کا حصہ بننے والے نیکی کا ظاہری روپ ہی تو ہیں کہ اللہ کے ہاں مقام صرف دل کی کیفیت کا ہے درجنوں ادبی اور علمی تقریبات کا مہمان بن کر وہ سکون اور راہنمائی نہیں ملی جو سامعین بن کر کوشش ویلفیئر ٹرسٹ کے یوم تاسیس کی تقریب میں میسر ہوئی آپ کو جب بھی موقع ملے ایسے لوگوں سے ملنے کا جو اللہ کے لیے اللہ کی حاجت مند مخلوق کی خدمت میں لگے ہوں وہ کوئی بھی ہو کہیں بھی ہو ان کی صحبت میں وقت ضرور گزاریں یہ وہ درویش ہیں جو بوریے پر بیٹھ کر مٹی کے پیالے میں آب حیات پلاتے ہیں ان کی زندگانی کا یہ حسن ضرور جاننے کی کوشش کریں جس کی بدولت یہ نوازے گئے ہیں یقین جانیے یہی وہ راز ہے جو دنیا کی دولت کو آخرت کی دولت میں بدل دیتا ہے یہ منی ایکسچینجر اللہ کے وہ بنک ہیں جس کے نمائندے خود پھونک پھونک کر زندگی گزارتے ہیں مگر بھوکے پیٹ ننگے جسم اور ضرورتوں کے ستائے لوگوں کا خیال رکھنا اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا ڈیوٹی ہو سکتی ہے کہ جس پر عبادتیں بھی ناز کرتی ہوں اگر معاشرہ ایسے خادموں سے بھر جائے جو اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ جیتا ہو۔ تو کوئی لاچار بیمار غریب موت سے اس لیے مہلت نہ مانگے کہ اس کے بچے کسی قابل ہو جائیں۔اللہ کی طرح اللہ کے بندوں پر بھروسہ ہو جائے اللہ کریم ہر دکھ میں مبتلا اور ہر دکھوں کا مداوا کرنے والے کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے بے شک وہ چاہے تو خود بھی مدد و امداد کے اسباب پیدا فرما سکتا ہے مگر وہ اپنے بندوں کی اپنے بندوں سے مدد کروا کر ہمیں بخشنا اور اپنا محبوب بنانا چاہتا ہے کاش ہم سمجھ جائیںکہ راستے تب تک راستہ نہیں دیتے جب تک ہم آقا کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کا واسطہ نہیں دیتے۔دوسروں کے لیے کوشش کرنے والوں کو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com