یوم تاسیس کشمیر اور آزادی کی منزل

یوم تاسیس کشمیر اور آزادی کی منزل
عابد ضمیر ہاشمی
اقوام کی زیست میں چند ایسے مواقع آتے ہیں جو نہ صرف انہیں ماضی کی یاد دلاتے ہوئے مستقبل کے سفر میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ یہ مواقع قوم کی تقدیر بدلنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چوبیس اکتوبر صرف آزاد جموں وکشمیر کا یوم تاسیس ہی نہیں ہے، بلکہ یہ وہ خاص دن ہے جو یاد دلاتا ہے کہ کشمیریوں نے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جو لہو کے دیپ جلائے تھے وہ تاحال روشن ہیں۔
ریاست جموں و کشمیر کے شما ل میں جمہوریہ چین، شمال مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان اور جنوب مشرق میں انڈیا کی سرحدیں منسلک ہیں۔ا ِن تمام ممالک کے درمیان گھرا ہوا یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانی تاریخ رکھنے والا خوبصورت ترین علاقہ جسے ایشیا ء کا سو یٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے، مختلف ادوار میں غلامی، ظلم، جبر، ناانصافی اور استحصال کا شکار رہا ہے۔
تاریخ کے تلخ حقائق بتاتے ہیں کہ؛ 84471 مربع میل پر محیط اس ریاست پر مختلف ادوار میں مختلف حکمران براجمان رہے۔ جہاں ہندو حکمرانوں نے 4000 سال تک کشمیر پر حکمرانی کی تو وہیں سکھ، مسلمان افغان، مغل حکمرانوں نے بھی اس خطہ ارض پر اپنی حکمرانی کی ۔مزید یہ کہ 1310 ء اور 1553 ء کے درمیان کشمیر میں مقامی مسلمان حکمران برسرِ اقتدار رہے۔ 1515 ء اور 1717 ء کے درمیان تخت حکمرانی مغلوں کے حصے میں آیا۔ جبکہ 1718 ء سے 1819 ء تک افغان حکمران کشمیر پر حکمرانی کرتے رہے۔ کشمیر پر برائے راست مسلمانوں کو دورِ حکومت پانچ سو سال سے زائد عرصہ پر محیط رہا۔
1819 ء میں سکھ حکمرانوں نے افغانیوں سے تخت حکمرانی چھینا اور 1819 ء سے لیکر 1846 ء تک اس پر قابض رہے۔سکھوں کے دورِ حکومت نے ظلم، جبر اور ناانصافی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی۔ اس کی گواہی ویلیم مور کرافٹ کی وہ تحریرہے جو اس نے 1824 ء میں کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد لکھی۔:
’’سکھ کشمیریوں کو گائے سے تھوڑا بہتر تصور کرتے تھے۔ اگر کوئی سکھ کسی مقامی باشندے کا قتل کر دیتا تو اس پر حکومت وقت کی طرف سے سولہ یا بیس روپے جرمانہ عائد ہوتا۔ جس میں سے چار روپے اگر مرنے والا ہندو ہوتا تو اس کے خاندان کو دیئے جاتے اور اگر مرنے والا مسلمان ہوتا تو اس کے خاندان کے حصہ میں دوروپے آتے۔‘‘
اسی کے تسلسل میں ڈوگرہ راج کا آغاز ہوتا ہے اور اس دور کے آغاز معاہدہ امرتسر معاہدہ1846 ء مہاراجا گلاب سنگھ اور برطانوی گورنمنٹ کے درمیان طے پایا۔جس کے مطابق اس حسین خطے وادیِ کشمیر کو صرف75 لاکھ نانک شاہی کے عوض گلاب سنگھ کو بیچ دیا گیا۔ ریاست کا علاقہ پونچھ اس معاہدے کا حصہ نہیں تھا جس کی وجہ سے مہاراجا کو پونچھ کے علاقے پر جبراً قابض ہونا پڑا گو کہ اسے پونچھ کے لوگوں سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
معاہدہ امرتسر کا طے پانا تھا کہ ڈوگرہ کے مظالم اپنے عروج پر جا پہنچے۔ ریاست کے لوگوں باالخصوص مسلمانوں کے لئے جینا محال کر دیا گیا۔ عام آدمی پر مختلف قسم کے ٹیکس لگائے گئے ۔
19 ویں صدی کے آخر اور بیسوی صدی کے آغاز میں ریاست کے لوگوں میں ڈوگرہ کے خلاف نفرت پل رہی تھی۔پاکستان کی تحریکِ آزادی بھی زور پکڑ چکی تھی اور ۱۹۳۲ میں ریاست جموں کشمیر میں مسلم کانفرنس کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی گئی اور اسی کے ساتھ چوہدری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ کی صورت میں مسلمانوں کو پڑھی لکھی قیادت ملی۔
بعد ازاں شیخ محمد عبداللہ اور مسلم کانفرنس کی قیادت کے درمیان اختلافات ہو گے اور شیخ محمد عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے نام سے اپنی الگ جماعت بنا لی۔ تحریک آزادی دن بدن زور پکڑتی جا رہی تھی۔ بالآخر تقسیمِ برِ صغیر کا وقت آن پہنچا۔تقسیم برصغیر کے وقت انگریز حکمرانوں نے مکاری سے کام لیتے ہوئے مسلم اکثریت کا ضلع گورداسپورہند کے حوالے کردیا۔اس طرح بھارت کو کشمیر کے لیے راستہ مل گیا۔ریاست جموں و کشمیر کے راجا نے پہلے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کر لیا لیکن بعدازاں نہایت ہوشیاری سے بھارت سے ساز باز کر لی اور ہندوستانی فوجوں کو کشمیر پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کردیا لیکن یہ کشمیر کے بہادر اور غیور لوگوں کو کیسے منظور ہوسکتا تھا۔
’’نہرو، گاندھی اور باؤنڈری کمیشن حتمی طور پر ریاست کو ہندوستان کی جھولی میں ڈالنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ہندوستان کی اُس وقت کی مجموعی سیاسی فضا میں پاکستان، مسلمانوں کے خوابوں اور آدرشوں کا مرکزبن چکا تھا۔ پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں سے ملحق ریاستی باشندے پاکستان کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرنے کے بے تاب تھے۔ اِسی حوالے سے ۱۹/ جولائی ۱۹۴۷ء کو سردار محمد ابراہیم خان کے گھر قرارداد الحاق پاکستان منطور ہوئی تو مسلم سیاست واضح طور پر دو دھڑوں میں منقسم ہو گئی۔مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس۔

                    (جاری  بَر صفحہ ۲)
مہاراجاکی گومگو کیفیت اور شیخ محمد عبداللہ کی الحاق ہندوستان کی خواہش کے نتیجے میں ریاست کے اندر مزاحمت، ردّ عمل اور کشمکش کی تحریک زور پکڑنا شروع ہو گئی۔ پونچھ، باغ اور سدھنوتی میں شخصی راج کے خلاف باضابطہ بغاوت کا اعلان ہو گیا۔ اِس بغاوت کا آغاز 15/ اگست 1947ء کو راولاکوٹ کے مقام پر سابق فوجیوں کی ایک عظیم الشان ریلی کی صورت میں ہوا۔بعد ازاں  18/ اگست پیر، 23/ اگست نیلا بٹ اور 29/ اگست معرکہ دوتھا ن اور ہڈا باڑی باغ کے نتیجے میں یہ تحریک مسلح بغاوت میں بدل گئی‘‘ (ماہنامہ ’’ویگاز ٹائم‘‘اکتوبر 2012 میں شائع ہونے والے ظفر حسین ظفر کے مضمون’’24 اکتوبر کچھ غور طلب پہلو‘‘ سے اقتباس)۔
 اسی مسلح جدوجہد کے نتیجہ میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا علاقہ آزاد کراد دیا گیا۔ چوبیس اکتوبر 1947ء کو غازی ملت بانی آزاد کشمیر سردار محمد ابراہیم خان نے چونجال ہل کے مقام پر ایک انقلابی اور باغی حکومت کا قیام عمل میں لایا۔
آج 72 سال گزر جانے کے باوجود بھی کشمیری مظلوم و محکوم ہیں۔دُنیا گلوبل ویلیج کے سانچے میں ڈھل چکی لیکن مقبوضہ کشمیر میں آج بھی بنیادی انسانی حقوق پامال کئے جاتے ہیں۔ اس طویل عرصہ میں ریاست کے دونوں اطراف حکومتیں بنی ختم ہوئیں لیکن آزادی کشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اقوام متحدہ میں متعدد قرارداریں بھی منظور کی گئیں لیکن اقوام ِ عالم کی بے رخی ٗ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج تک اں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ بھارت اب تک اپنا راگ الاپنے میں مصروف ہے اور وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ اس کے لئے وہ یہ جواز رکھتا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دیا تھا۔ اگر اسی کو حقیقت مان لیا جائے تو ریاست کا الحاق اکتوبر 1947 میں کیا گیا ہے جبکہ بھارت سرکار خود ریاست جموں کشمیر کے مسلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا اور سیکورٹی کونسل کی متعدد قراردادیں بھارت کے اس دعویٰ کو مسترد کر دیتی ہیں جو مختلف اوقات میں منظور کی گئی ہیں جن کو نہ صرف پاکستان بلکہ 

بھارت نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔ 13 اگست 1948 کی قرارداد کا ایک حصہ جس سے ہندوستانی موقف کی صاف نفی ہوتی نظر آتی ہے:
‘‘The Government of India and the Government of Pakistan reaffirm there wish that the future status of the State of Jammu and Kashmir shall be determined in accordance with the will of people and to that end, upon acceptance of the truce agreement, both Governments agree to enter into consultations with the Commission to determine fair and equitable conditions whereby such free expression will be assured.’’
1948 میں بھارتی حکومت کی طرف سے وائٹ پیپر شائع کیا گیا تھا جس کی تحریر میں درج ہے کہ ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ عارضی طور پر کن بنیادوں پر کیا گیا ہے اور آئندہ اس کا فیصلہ کس طرح کیا جائے گا۔ تحریر مندرجہ ذیل سطور میں درج ہے۔
‘‘In Kashmir as in other similar cases, the view of the‘Government of India has been that in the matter of disputed accession the will of the people must prevail. It was for this reason that they accepted only on a provisional basis the offer of the Ruler to accede to India, backed though it was by the most important political organization in the State (Sheikh Abdullah’s National Conference). The question of accession is to be decided finally in a free plebiscite; on this point there is no dispute.’’
بھارت کی حکومت پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ کو بھی جواز بنا کر مسئلہ کشمیر پر کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے لیکن شملہ معاہدہ میں کبھی بھی یہ تحریر نہیں کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی بھی کشمیر کا مسلہ عالمی فورم پر نہیں اٹھا سکتا یا کوئی اور قوت ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔
بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی ٗ ظلم کی آخری حدیں چھوتا ہوا 79دن سے جبری کرفیو ئٗ آزاد کشمیر کے مختلف سکیٹر میں بلااشتعال سول آبادی کو نشانہ بنانا ٗ مذاکرات سے راہ فرار دو اٹیمی قوتوں کو جنگ کی خوفناک وادی میں دھکیل سکتا ہے۔ جو عالمی امن کے لیے بھی خطرہ کا موجب بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com