یوم تاسیس پارٹی سے تجدید وفا کا دن

یوم تاسیس پارٹی سے تجدید وفا کا دن
تحریر: ملک عاطف عطا
آج جب میں یہ تحریر لکھ رہاہوں تو پیپلز پارٹی کے قائدین، عہدیداران اور پارٹی کے تمام کارکنان پارٹی کا یوم تاسیس منا چکے ہیں ،پیپلز پارٹی ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے لیئے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے حقیقی معنوں میں جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں ، پیپلز پارٹی ملک میں اقتدار میں بھی رہی اور بہت ہی قابل لوگ پیپلز پارٹی کا حصہ رہے اور ہیں بھی ، لیکن پھر بھی وہ کونسی کمزوریاں یا خامیاں ہیں جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی آج ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، اس پر بات کرنے سے پہلے میں چاہوں گا کہ پیپلز پارٹی کے ماضی میں جھانک لیں ، پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد آج سے باون سال قبل 30نومبر1967کو لاہور میں رکھی گئی، اور پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو بنے جبکہ پارٹی کی بنیاد ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں رکھی گئی جو کہ لاہور کے رہائشی تھے، ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایک قابل شخص تھے اور انہوں نے ہمیشہ ملک وقوم کی بہتری چاہی ، اپنی ذہانت اور سحر انگیز شخصیت اور غریبو ں کے لیے پر کشش نعرے روٹی ، کپڑا اور مکان کی بدولت بہت جلد انہوں نے عوا م میں ایک نمایاں مقام بنا لیا، پارٹی کے وجود میں آنے کے تین سال بعد 1970میں ہونے والے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایک طاقتو ر سیاست دان بن کر ابھرے ، 1973کا آئین بھی ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا کارنامہ تھا ، بھٹو صاحب دلی طور پر پاکستان کی بہتری اور ترقی چاہتے تھے ، ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے سیاست کو گلیوں اور کوچوں تک پھیلایا ، 1977میں جب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک شاندار کامیابی حاصل کی، آئین کا نفاذ، ، ملک کو ایٹمی طاقت بنانا، عالم اسلام میں پاکستان کے وجود کی اہمیت، غریبوں کے لیئے کالونیاں ، سرکاری ملازمین کا محفوظ مستقبل، بڑھاپے کے لیئے پنشن کانظام ، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، ان تمام کاموں کے علاوہ بہت سارے ایسے کارنامے تھے جنہوں نے بھٹو صاحب کی شہر ت میں بہت اضافہ کردیا، بھٹو صاحب کی بڑہتی ہوئی مقبولیت اور ان کا پاکستان کی ترقی کا جنون وطن عزیز کے خلاف سازشیں کرنے والوں سے برداشت نہ ہوا ، ایک عالمی سازش تیار ہوئی اور 1979میں بھٹو صاحب کو عدالتی فیصلے پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ، یا اگر یوں کہیں کہ پاکستان کی ترقی کے عمل کو سزائے موت دیدی گئی تو بھی غلط نہ ہوگا، بھٹو شہید کو تو منظر سے ہٹا دیا گیا لیکن ان کا نظریہ اور ان کے افکار کی بدولت پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے ہر کونے میں موجود محروم طبقے کے دلوں میں بس گئی، بھٹو صاحب کے بعد جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء کا دور شروع ہوا جو کہ ایک طویل مدت تک چلتارہا اور اس کے بعدجنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد جب دوبارہ سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر الیکشن ہوئے تو محترمہ بے نظیر بھٹوصاحبہ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وارث کے طور پر پارٹی کمان سنبھالی اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی جو کہ دو سال میں ہی ختم ہوگیا اور 1990میں دوبارہ الیکشن ہوئے جس میں پاکستان مسلم لیگ نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی، اس کے بعد دوبارہ1993میں الیکشن ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی کچھ عرصہ کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کو چلتا کیا گیا اور 1997میں دوبارہ اقتدار مسلم لیگ کو ملا لیکن دو سال کے قلیل عرصے میں ہی جنرل پرویز مشرف نے پاکستان مسلم لیگ ن کے اقتدار کوختم کیا اور اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا، 2007میں محترمہ بے نظیر بھٹو جب ایک طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان آئیں تو پیپلز پارٹی میں جیسے ایک نئی روح پھونک دی گئی ہو، عوام کا ایک سمندر اپنی عظیم لیڈر کے ساتھ تھا اور اس کے ایک اشارے پر جان نچھاور کرنے کو تیار تھا، مگر 2007میں بی بی کی شہاد ت نے پیپلز پارٹی کے لیئے جان دینے والوں کا حوصلہ توڑ دیا، بی بی کی شہادت کے بعد جب 2008میں الیکشن میں ہوئے تو پیپلز پارٹی بھرپور قوت کے ساتھ اقتدار میں آئی اور پارٹی کے قیام کے بعد پہلی دفعہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے مدت پوری کی، لیکن یہ ایک ایسی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ شہید بی بی بھٹو کے نام پر ووٹ لیکر اقتدار تو حاصل کر لیا گیا مگر ان کے افکار اور ان کے فلسفے کو بالکل نظر انداز کردیا گیا، بھٹو صاحب کی سوچ اور غریب دوستی والی طبیعت کو مدنظر رکھ روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ تو ضرور لگایا گیا مگر یہ نعرہ صرف نعرہ ہی رہا ، عملی طور پر اس پر کوئی کام نہ ہوا، ا ور جس سیاست کو بھٹو صاحب نے جاگیرداروں اور وڈیروں کے گھروں سے اٹھا کر عام انسان تک پہنچایا وہی سیاست اور اقتدار ایک دفعہ پھر سے انہیں جاگیر داروں کی دہلیز پر جا پہنچا ، غریب اور نادار کارکنوں کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ان جیالوں کو نظر انداز کردیا گیا جنہوں نے پارٹی کے لیئے ساری زندگی کام کیا اور بی بی شہید کا فلسفہ گھر گھر پہنچایا، جب سچے کارکنوں اور پکے جیالوں کو مسلسل نظر انداز کیا جانے لگا تو پارٹی میں تنظیمی معاملات میں پھوٹ پڑنا شروع ہوگئی اور جو ایک عام کارکن یا جیالہ جو اپنے ساتھ پورے خاندان کا ووٹ بھی لا کر پیپلز پارٹی کو ڈالتا اس نے پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے پر کنارہ کشی اختیار کرلی ، اور یہی وہ وقت تھا جب پیپلزپارٹی کی مشکلات میں اضافہ اور مقبولیت میں کمی آنا شروع ہوگئی، کارکنان،عہدیداران اور پیپلز پارٹی پر جان نچھاور کرنے والے پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے جس کا نقصان پاکستان پیپلز پارٹی کو 2013کے الیکشن میں اٹھانا پڑا جب پیپلز پارٹی کو سندھ کے علاوہ تمام صوبوں میں نہ صرف بدترین شکست ہوئی بلکہ پیپلز پارٹی کے بہت سارے امیدواروں کی ضمانتیں بھی ضبط ہوئیں ، کسی وقت میں وفاق کی علامت اور پورے پاکستان کی مقبول ترین جماعت ایک صوبہ تک محدود ہوکر رہ گئی، اور صوبہ بھی ایسا جس کو نظر گھما کر دیکھاجائے تو چارو ں جانب کرپشن ،لوٹ مار، نہ انصافی نظر آتی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پاکستان پیپلز پارٹی کہیںنظر نہیں آتی، آج حالات یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی کے وزراء اور کئی عہدیداران نیب میں کرپشن کے کیسز کا سامنا کر رہے ہیں ، کچھ کیسز سے بچنے کے لیئے ہسپتالوں کا سہارا لینے کے لیئے مجبور ہیں ، پیپلز پارٹی سے دل سے محبت کرنے والے لوگ آج بھی خون کے آنسوئوں سے روتے ہیں کیونکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی شہید کی پیپلزپارٹی آج کہیں نظر نہیں آتی جو اپنے لوگوں کو اپنے کارکنان کو بھٹوازم سکھاتی تھی، جو انسانیت اور انصاف کادرس دیتی تھی جو غریبوں اور ہاریوں کی پارٹی تھی، پیپلز پارٹی کی موجودہ حالت کو دیکھ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے کہ جو پارٹیاں اپنے کارکنان اور جانثاران کی قربانیوں کا ادراک نہیں کرتیں وہ قصہ پارینہ بن جاتی ہیں ، اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کو دوبارہ ایک مضبوط سیاسی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ اپنے نانا اور اپنی والدہ کے افکار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے لیں جو کہ پارٹی اور ملک و قوم کے مفاد میں ہوں، جس سے پارٹی کی عوام میں کھوئی مقبولیت واپس لانے میں مد د مل سکے کیونکہ میرے خیال میں پچاس سال سے زائد عمر کی ایک تجربہ کار سیاسی جماعت کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ نظریاتی سیاست میں طاقت کا سرچشمہ عوا م ہوتے ہیں اور اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم ہی جمہوریت اور پارٹی کی جڑوںکو مضبوط کر سکتی ہے ، کیونکہ یوم تاسیس پارٹی سے تجدید عہد وفا کا دن ہوتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com