یمن اور معاہدہ ریاض

یمن اور معاہدہ ریاض
بادشاہ خان
یمن میں جاری خانہ جنگی ختم کرنے کے لئے ریاض معاہدہ طے پانے کی خبریں ہیں، اس معاہدے سے مشرق وسطی بلخصوص سعودی عرب ، یمن میں جاری تلخی کسی حد تک کم ہوسکتی ہے ، اور خطے میں جاری فرقہ وارانہ پراکسی وار کے شعلے بھی کم ہوسکتے ہیں ، معاہدہ ریاض کرانے میں بنیادی کردار خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کا نام سامنے آرہا ہے ، ان کی کوششوں اور سرپرستی میں (معاہدہ ریاض) یمن کے سٹریٹیجک مفاد، استحکام اور یمن کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے سعودی قیادت کی اہلیت و اخلاص کی عکاسی کرتا ہے۔ یمن کے صدر عبد ربہ منصورہادی، حکومت اور عبوری کونسل کے دونوں وفود، جو (معاہدہ ریاض) پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، اس معاہدے کی جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ،اس میں سعودی عرب کی موجودگی اس معاہدہ کومکمل طور پر نافذ کرنے کی ضمانت ہے۔ اس معاہدے میںشیخ محمد بن زید کی شمولیت، متحدہ عرب امارات کی ریاستی معائدے کی مکمل حمایت سے یمن کی قومی اتحاد و یک جہتی اور یمن کی قانونی حیثیت کی بحالی، ایرانی فرقہ وارانہ ایجنڈا کو مسترد کرنے کا ثبوت ہے۔ اس معاہدہ ریاض میںمعاشی استحکام کے حصول اور اخراجات کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے ملکی مالی وسائل کے انتظام کے لیسے سخت اقدامات پر زور دیتا ہے۔ اور تشخیص اورکنٹرول کے شعبوں میں پارلیمنٹ کے کردار کو متحرک کرتا ہے۔ معاہدہ ریاض میں یمن میں سلامتی کے استحکام، خود مختاری کی بحالی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔ یہ ہدف انسداد دہشت گردی کی خصوصی قوتوں کی تنظیم نو اور تربیت سے حاصل ہوگا۔ جو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے مقاصد کے مطابق ہے۔
خطے میں قیام امن کے لیے سعودی عرب کا کردار کلیدی ہے جس نے اس تنازعے کو دانش مندی سے حل کیا، یمنیوں کے درمیان خون ریزی کو روکا اور اہم اصولوں پر مبنی اتفاق رائے کی جانب رہنمائی کی۔
عرب اتحاد نے یمن میں جائز حکومت کی بحالی، امن اور استحکام کی خاطر پرامن معائدے تک پہنچنے کے لیے تمام فریقوں کے تعاون کو سراہا۔
اللہ کرے اس معاہدے پر عمل ہو اور خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو،سوچنے والے اور نظر رکھنے والے خوب سمجھ رہے ہیں، مگر قلم کا اور کیمرے کا دور اور زور ہے،قلم کاطوفان اور میڈیا کی دجالی آنکھ اپنے مرضی کی خبریں اور تصاویر جاری کرتی ہے، اس لئے سب کچھ وہ نہیںہے ، جو دیکھایا جارہا ہے اور لکھا جارہا ہے ۔بلکہ پس منظر میں عالمی سازشیں ، مفادات کی جنگیں ، معاشی فوائد ،حریفوں کو ناکام کرنا اپنے مذموم عزائم کی تکمیل ،خطے میں طاقت بننا،مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کا دوہرا معیاروغیرہ وغیرہ ،اور اس کے لئے میڈیا کے سرکش گھوڑے کا استعمال بہترین ٹول بن چکا ہے ، اور پھر سوشل میڈیا نے تو طوفان برپا کردیا ہے ،جس میں سچ ڈوب چکا ہے ،جس کئی مثالیں سامنے ہیں ،کشمیر،برما،افغانستان،پاکستان ،شام،اور یمن جہاں حالات اور واقعات کو مغربی میڈیا اپنی عینک سے دیکھتا ہے اور پیش کرتا ہے،جس کی وجہ سے مسلم ممالک اور عوام جنگوں سے دوچار ہیں ،اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔یمن میں جاری جنگ جس کا اگلا ہدف سعودی عرب تھا، یمن وہ ملک ہے جس کا طویل بارڈر سعودی عرب سے لگتا ہے اور کئی بار یمن کے راستے سعودی عرب کو نشانہ بھی بنایا گیا ،جس کی وجہ سے سعودی عرب کو اپنی دفاع کے لئے خطے میں سرگرم ہونا پڑا ۔
ماضی قریب میںیمن میں جاری خانہ جنگی میں حزب اللہ اور ایران کے کردار کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات بھی میڈیا میں کئی باررپورٹ ہوئے ، ان رپورٹس میں یمنی شہریوں کے انٹرویو بھی شامل تھے، جو اس جنگ میں گرفتار ہوئے تھے، ان گرفتار باغیوں کے جو بیانات میڈیا پر آئے تھے اس کے مطابق اس خانہ جنگی میں ایران اور حزب اللہ باغی حوثیوں کی نہ صرف پشت پناہی کررہے ہیں بلکہ وہ انہیں باقاعدہ جنگی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں بھاری اسلحہ وبارودبھی دیتے ہیں ۔ اور اسکو نصب کرنے اور چلانے کی تربیت بھی دیتے ہیں ۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران اور لبنان سے تربیت یافتہ لوگ اس کام معمور تھے،اور ان کو سعودی افواج کے خلاف مشتعل کیا جائے ۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی ،سعودی عرب نے ہمیشہ اپنے برادر ملک یمن کی ہر میدان میںمدد کی ہے خواہ وہ تعلیم کا میدان ہو یا یمن کو معاشی طورپر اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے منصوبہ جات سعودی حکومت اور عوام ہمیشہ اس سلسلے میں پیش پیش رہے ہیں لیکن دوسری طرف سعودی حکومت کو نہ صرف جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے بلکہ اسے بدنام کیا جا رھا ہے۔مذکورہ بالا لوگوں نے باقی یمنی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کو مزید تباہی کی طرف نہ لے کے جائیں اور سعودی عرب جو کہ اس کا خیرخواہ ہے کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوں۔
عالمی طاقتوں کے علاوہ مشرق وسطی کی صورت حال خراب کرنے میں چند برسوں سے اسرائیل و ایران کا کردار بھی دنیا کے سامنے آچکا ہے ،ایران ایسا ملک کہ جس نے گذشتہ تیس سالوں میں جنگوں کی پشت پناہی کی اور خود بھی نو سال عراق سے لڑتا رہا جس کے انقلابی لبنان سے شام تک اور عراق سے یمن تک موجود رہے اور ماضی قریب میںیہ کہتے نظر آئے کہ اب ریاض کی باری ہے،امریکہ مرگ بر ،بزرگ شیطان سے نعرہ تبدیل ہوکر آل سعود مرگ بار،ریاض کی باری کا مطلب کیا تھا؟چار برس قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی عرب پر خطے میں نفرت کے بیج بونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کو جلد یا بدیر اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،۔ اور پھر اس کے بعد سعودی عرب کے کئی شہروں کو نشانہ بھی بنایا گیا،اور جس خطے کے حالات بگڑتے چلے گئے ،اب چار سال بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خط لکھا ہے،جب پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے ،ایرانی صدر نے خطے کی صورت حال پر ایران کے موقف کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ، جس کی ایک بنیادی وجہ عراق اور یمن میں ایران کے لئے سازگار فضا کا خاتمہ بھی ہے ،عراق اور یمن کی عوام نے ایرانی پراکسی وار میں مزید جلنے سے انکار کردیا ہے، اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں عراقی شہر کربلا میں ایرانی قونصلیٹ پر مشتعل عوام نے عراقی جھنڈا لہرا دیا،مشرقی وسطی میں جاری جنگ کے پہلے مراحلے میں معاہدہ ریاض کی اہمیت بڑھ گئی ہے ، اگر اس معاہدے پر دستخط ہوجاتے ہیں ، تو اس سے کسی حد تک سعودی عرب محفوظ ہوجائے گا۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ ریاض امن دشمنوں کو قبول ہوگا ؟یا اسے ایک بار پھر سبوتاژکرنے کی کوشش کی جائے گی؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com