ہم مہذب کب بنیں گے

ہم مہذب کب بنیں گے!
رائو غلام مصطفے
جنیوا کنونشن کے تحت ہسپتالوں پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیںماضی سے جڑی مثالیں موجود ہیں جب ہسپتالوں پر حملے کرنے والے ذمہ داروں کو عالمی عدالت کا سامنا کرنا پڑا ۔پی آئی سی پر وکلاء کے حملے کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع نے پوری قوم کے سر پر سوگ کی چادر تان دی ملکی تاریخ کا یہ پہلا دلدوز واقعہ ہے جس کے باعث ہسپتال میں زیر علاج مریض پڑھے لکھے طاقتور وکلاء کے احتجاج کی بھینٹ چڑھ گئے۔تعلیم یافتہ وکلاء جو عدالتوں میں مظلوموں کے لئے اپنے آئینی دلائل کے ذریعے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں ان کے ہاتھ میں پتھر اور اسلحہ دیکھ کر ہر ذی شعور فکر مند ہے جس معاشرے میں تعلیم یافتہ طبقے کے ہاتھوں ایسے واقعات رونما ہوں وہاں تربیت کے فقدان کی جھلک نمایاںنظر آتی ہے۔مہذب معاشرے اور اقوام کبھی بھی شہری شعور سے عاری نہیں ہوتیں وہ اقوام اور معاشرے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے کبھی نظام میں خلل ڈالنے کے جرم کا ارتکاب نہیں کرتیان کا کردار و عمل مہذب اقوام اور معاشرے کی دلیل بنتا ہے تعلیم ان کی اولین ترجیح اور مطالعہ ان کا شوق اور تحقیق و تصنیف ان کی روایت ہوتی ہے نظم و ضبط اور روشن خیالی ان کا بنیادی حوالہ ہوتا ہے۔ہسپتالوں پر حملے تو دور کی بات ہانگ کانگ کے مظاہریں کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جب ہانگ کانگ کی حکومت نے متنازع قانون سازی کا عمل معطل کیا جس کے تحت حکومت کسی بھی شخص کو عدالتی کارروائی کے لئے چین کے حوالے کر سکتی تھی جب مظاہرین مجوزہ قانون کو مکمل منسوخ کرنے اور نیم خود مختار علاقے کے سربراہ کیری لیم کے استعفیٰ کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر آئے تو دنیا نے دیکھا جب ایمبولینس کے ایمر جنسی سائرن کی آواز لاکھوں مظاہرین کی سماعتوں سے ٹکرائی تو مظاہرین نے احتجاج چھوڑ کر ایمبولینس کو گذرنے کے لئے راستہ ہموار کیا جب ایمبولینس گذر گئی تو مظاہرین نے دوبارہ احتجاج شروع کردیا اور اس انسانیت کا مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کے اس عمل کی جب سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تو پوری دنیا نے ہانگ کانگ کے ان لاکھوں مظاہرین کے اس عمل کو سراہا۔بد قسمتی سے المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے کردار و عمل سے اجتماعی طور پر شعور کو دفن کر دیا ہمیں شائد اب ادراک نہیں رہا کہ ہمارا عمل ملک و ملت کے لئے کتنا نقصان دہ ہے ہماری بہت سی بے حسی کی مثالیں اس دھرتی پر رقصاں ہیں اور یہ سب مناظر اس نکتے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ قوم کے بیشتر افراد میں شعور نام کی کوئی چیز نہیں ہم بحیثیت سماج اپنے ہر مسئلہ کا ذمہ دار ریاست اور اس کے اداروں کو ٹھہراتے ہیںلیکن شائد ہم بھول چکے ہیں کہ ہم تمدنی اور شہری ذمہ داریوں سے دستبردار ہوتے جا رہے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ جیسی زمینی سپر پاور کے اہلکاروںنے جب شہر قندوز میں ایک فلاحی تنظیم میڈیسنز سانز فرنتیئر کے ہسپتال پر فضائی حملہ کیا تھا تو امریکہ نے نہ صرف ٖجائی حملے میں ایک درجن سے زائڈ اہلکاروں کی سرزنش کی تھی بلکہ ان کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی گئی تھی اور پینٹا گون نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ہسپتال کو غلطی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ہم دوسرے ممالک کو تو غیر مہذب کا لقب دینے میں دیر نہیں لگاتے لیکن خود اپنے چاک گریباں کو سینے سے بھی کتراتے ہیں ۔ہم اپنی کی گئی غلطیوں کا شاخسانہ اس نظام کو ٹھہراتے ہیں ایسی سوچ رکھنے والی قوم کے ہوتے ہوئے ملک کیسے درست سمت کی جانب گامزن ہو سکتا ہے ہم اپنے رویوں اور اصولوں کے تابع اس معاشرے کو ہانکنا چاہتے ہیں جب ایسی صورتحال جنم لے گی تو یقیننا ہم کبھی مہذب اقوام اور معاشروں کی صف میں جگہ نہیں بنا سکتے خود غرضی‘مادیت پرستی اور نفسا نفسی کی دلدل میں اس حد تک دھنس چکے ہیں کہ ہمیں انفرادی مفادات سے آگے کچھ نہیں سوجھتا ہمارے رویوں اور کردار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم اجتماعی مفادات کا تصور تک بھول چکے ہیں۔مہذب اقوام اور معاشرے ملکی املاک کو اپنے گھر کی املاک کی طرح سمجھتے ہیں کتنے کرب کی بات ہے کہ وکلاء کی جانب سے پی آئی سی پر کئے حملے کے دوران جہاں قیمتی جانیں چلی گئی وہیں تقریبا ملکی املاک کا تقریبا سات کروڑ روپے کا نقصان بھی ہوا آخر اس قومہ املا ک اور بے گناہ جانوں کے ضیاع کا کون ذمہ دار ہے کیا وکلاء کی قیادت اس بارے فیصلہ کر پائے گی کہ قومی املاک کو نقصان پہنچانے والے اور قیمتی جانوں سے کھیلنے والے وکلاء کو سزاوار سمجھتے ہوئے قانون کے مطابق ٹرائل کے لئے کٹہرے میں لائیں گے اور اس وردی کے تقدس کے لئے آخری حد تک پہرہ دے کر ایک مہذب کیمونٹی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایک مثال بنیں گے۔ضروری ہے کہ ہم اس بات کا اعادہ کریں کہ صرف ندامت اور مذمتوں سے کام چلانے کی بجائے عملی طور پر میدان میں اتر کر قوم کو اجتماعی شعور کی ذمہ داری کا بار اٹھائیں تعلیم کے ساتھ تربیت اور اس کا عملی مظاہرہ کسی بھی معاشرے کے مستقبل کے لئے اور ایک اچھا شہری بننے میں معاون ثابت ہوتا ہے تمدنی شعور اور شہری ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنے کے لئے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رلھنے والے افراد‘والدین‘اساتذہ‘طلباء تنظیموں‘ڈاکٹرز‘وکلاء‘مذہبی طبقے اور سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی سطح پر اپنے ذرائع سے معاشرے میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لئے کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا معاشرے میں اساتذہ‘طلباء‘طلباء تنظیموں اور سیاستدانوں پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ طبقے مسلسل سماج‘سیاست اور شعور و آگاہی سے وابستہ ہوتے ہیں۔جب تک ہم اپنے رویوں اور اصولوں کو معاشرے کو مہذب بنانے کے لئے عملا اس معاشرے کے تابع نہیں کریں گے تب تک ہم مہذب اقوام اور معاشروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتے اس کے لئے ہمیں عملی جدوجہد کی اشد ضرورت ہے ایسے واقعات سے بچنے کے لئے ہمیں اجتماعی اور انفرادی طور پر عملی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے واقعات کے اثرات معاشروں کی اخلاقیات اور انسانیت کو زمین بوس کر کے ہمیشہ کے لئے تاریخ میں عبرت کا رزق بنا دیتے ہیں اپنی انائوں‘ضد‘ہٹ دھرمیوںکی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کے لئے معاشرے کو شعور دیتے ہوئے اجتماعی طور پر ایسے دلدوز واقعات کا راستہ روکنا ہو گا اور ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داری سماج کو اجتماعی شعور دینے کے لئے کلیدی کردار کی طرح نبھانی ہو گی ۔ماضی میں اگر ایسے واقعات پر انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے تو شائد آج پی آئی سی سانحہ پیش نہ آتا اس ایک واقع نے پاکستان کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے گہنا کر رکھ دیا ہے ہسپتال یلغار کرنے کی جگہ نہیں بلکہ وہاں تو زخموں پرمرہم رکھا جاتا ہے ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہو گا کہ ہم کس سمت جارہے ہیں؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com