ہماری ریت کی فصیلیں

ہماری ریت کی فصیلیں
عمران امین
ایک حکایت کے مطابق،حلب شہرکے بازار میں ایک بھکاری صدا لگا رھا تھا‘‘دولت مندو!اگر تم لوگوں میں انصاف ھوتا اُور تمہیں صبر کی توفیق ھوتی تو دُنیا سے سوال کی رسم ہی اُٹھ جاتی‘‘۔انسان کی تخلیق کی بنیاد ی وجہ ربوبیت کا عتراف کرواناہر گز نہ تھا اور نہ ہی خدائی طاقت کاا ظہارمقصود تھا۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کو پہچانتا اور مانتا ھے۔دنیاکی تمام مخلوقات کے اندر فطری طور پراپنی ذمہ داریوں اور دائرہ کار سے روگردانی کی سوچ کو پیدا ہی نہیں ھونے دیا گیا۔ ایک حکم خداوندی کے تحت چلنے والی مخلوقات میں صرف حضرت انسان کو عقل اور شعور کا تحفہ ملا۔جزا اور سزا کی تخلیق بھی اس نوع انسانی کے لیے کی گئی۔ طاقت اور اختیار کے مناسب استعمال کا درس بھی اس کو ہی دیا گیا۔اس حقیر اور پلید انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بخشا گیا۔اس انسان کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد انبیاء اکرام کا ظہور ھوا۔مگر اس مخلوق نے اپنی پسند کا راستہ چنا۔’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ والا اُصول اپنایا۔طاقت ور نے کمزور کو زیر کیا۔بھوکے نے روٹی کے لیے عزت بیچی۔مال و دولت کے انبار کے نشے میں غربت کی آھوں اُور سسکیوں کی بنیادوں پر بلند علیشان محل تعمیر ھوئے۔انصاف کے تقاضوں نے ننگے کو مزید بے لباس کیا اور امیروں کو خلعت شاہی عطا کیا۔آنکھوں والے اندھے،کانوں والے بہرے اور زُبان والے بے زُباں ھو گئے۔’’جدھے گھر دانے، اُوھدے کملے وی سیانے‘‘ھو گئے۔نہ کوئی خواب،نہ کوئی خواھشات،نہ کوئی منزلیں۔بس غلامی کا سفر،چل سو چل۔وقت کروٹ لیتا ھے تُو پُرانی سیاسی اور مذہبی اشرافیہ نئی سوچ اور نئے انداز متعارف کرواتی ھے ۔یعنی پُرانے نظریات ڈرائی کلین ھو کر مارکیٹ میں لائے جاتے ھیں۔غلاموں کی فوج پھر ’’لبیک‘‘ کہتے ھوئے اُمڈ آتی ھے۔رنگ بدلا،انداز بدلا،چہرہ بدلا،وقت بدلا ،مقام بدلا مگر نہ بدلا تو طاقت کا بے جا استعمال نہ بدلا،لالچ نہ بدلاسوچ نہ بدلی،نیت نہ بدلی۔ سیاسی و مذہبی پیشوائوں کا دوسرا نا م ،ھوس کا پجاری اور زمین کا غلام۔
کسی کا حکم ھے کہ ساری ہوائیں
ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں
کہ اُن کی سمت کیا ھے
کدھرجا رہی ھیں
ہوائوں کو یہ بھی بتانا ھوگا
کہ چلیں گی جب
تو کیا رفتار ھو گی
کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ھے
ہماری ریت کی سب فصیلیں ھیں
اور کاغذ کے یہ جو محل بن رہے ھیں
حفاظت کرنا ان کی ھے ضروری
اور آندھی ھے پُرانی ان کی دشمن
یہ سبھی جانتے ھیں۔۔۔۔
نہ کبھی آندھی آئی نہ آئے گی۔وجہ صاف ظاہر ھے کہ ہر طرف ناانصافی کا بول ھے،کمی ناپ تول ھے،کردار میں جھول ھے،میرٹ انمول ھے۔جب سب کچھ ایک خاص طبقہ کے مفادات کی خاطر ترتیب دیا گیا ھو تو وھاں’’کوئی ہونی ،انہونی نہیں ھوتی‘‘۔مفاداتی گروہ کی سیاست،شاہی ٹبروں کی سیاست اور اسی طرح مذہبی ٹھیکیداروں کی اجارہ داریاں اوردینی گماشتوں کی نافرمانیاں، اس معاشرے کا اہم حصہ بن چکی ھیں۔پاکستان ایک ایسا ملک ھے جہاںاگر ظلم ھوتا ھے تو اُس کا نہایت عمدگی سے مداوہ بھی کیا جاتا ھے۔مظلوم کو سہنے کے لیے غم اورآنسوؤں کے علاوہ ایک عدد حکومتی امداد کاCHEQUEبھی دیا جاتا ھے جبکہ ظالم کوعمدہ عہدہ یا مقدمہ سے برات کا تحفہ مل جاتا ھے۔یہ ایک ایسا مُلک ھے جہاں چیف جسٹس سپریم کورٹ خود ہسپتال کے کمرے سے شراب برآمد کرتے ھیں اور اگلے دن وہ شراب لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد شہد بن جاتی ھے ۔نظام موجود ھے،انصاف کے محافظ موجود ھیں،قوانین موجود ھیں۔مگر تشریحات سب کے لیے الگ الگ۔ہمارا انصاف کا ترازو ڈانواڈول رہتا ھے۔کبھی دائیں اور کبھی بائیں۔ کبھی امارت کے سبب، کبھی عہدے کے سبب،کبھی دھمکی کے سبب،کبھی چمک کے سبب،کبھی دھمک کے سبب۔پاکستان کی جیلوں میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد قیدی بند ھیں۔وہ سب مختلف ملکی عدالتوں سے سزا یافتہ ھیں۔وہ سب بھی پاکستانی ھیں اور اُن کے پاکستانی کردار پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔لیکن شائد اُن قیدیوںکے پاکستانی کردار کی ٹانگیں ٹوٹی ھیں۔شائد اُن کا کردار بہرہ ھے یا پھر اُن کا کردار اندھا ھے۔ جس بنا پر وہ سالوں سے انصاف کے منتظر جیلوں میں بیٹھے اپنی عمریں گزار رھے ھیں۔کئی قیدیوں کے کالے بالوں میں سفیدی کا ظہور ھو چکا ھے مگر ابھی تک عدالتوں کے پراسس مکمل نہیں ھوئے۔ یاس و اُمید کے درمیان لٹکے یہ لوگ،آزاد اور انصاف پسند عدالتوں کے در پر سسک رہے ھیں۔مگر دوسری طرف اس غلام قوم کے آقاؤں کو چھینک بھی آجائے تو ساری کی ساری ذہنی غلام قوم کی جان پر بن جاتی ھے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچ جاتی ھے ھے۔عدالتیں بھی خصوصی اقدامات کرتے ھوئے سپیشل فیصلے صادر کرتی ھیں۔ایک انوکھا اور نرالا اقدام بھی دیکھنے کو ملا جب عدالتوں نے حکومت کو عزرائیل کا ہم پلہ اور ہم نوالہ سمجھ لیا کہ اب وہ کسی بھی شخص کی زندگی کی ضمانت دے سکیں گی ۔یہ حقیقت ھے کہ پلیٹ لیٹس کسی مریض کے نہیں گرے بلکہ یہ حکومت کے گرے ھیں اور انجائنا کا ہلکا سا اٹیک کسی مریض کو نہیں ھوا بلکہ حکومت کو ھوا ھے۔اب پلیٹ لیٹس اور انجائنا کی لسٹ میں چند نیک لوگوں کے مزید نام شامل ھونے والے ھیںایک ٹریلر حاضر خدمت ھے’’بہت بیمار
ھوں،اپنے خرچے پر علاج کی اجازت دی جائے‘‘ (شاھد خاقان عباسی)میرے والد زرداری صاحب سخت بیمار ھیں،لیکن وہ عوام کے لیے پریشان ھیں‘‘(بلاول زرداری)عارضہ قلب میں مبتلا خورشید شاہ کی عوام سے دعا کے لیے درخواست۔لگتا یہ ھے کہ ہماری عدالتوں نے ایک لمبی ریسرچ کے بعد جان لیا ھے کہ امیروں کی زندگی ھے تو ملک میں دولت کی ریل پیل ھو گی ،سرمایہ کار زندہ ھے تو ملک کی معیشت سانس لے گی،سرمایہ کار آزاد فضاء میں گھومے گا تو سرمایہ کاری میں اضافہ ھو گا۔عام قیدی جن کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں وہ تو اس معاشرے کے پاک صاف دامن پر سیاہ دھبہ ھیں ۔قانون کے اس دوہرے معیار نے ماجھے،ساجھے، گامے اُورگنگو تیلی کے حقوق ہی متاثر نہیں کئے بلکہ اس سوسائٹی کے خدوخال ہی بدل کر رکھ دیے ھیں ۔ہمارے معاشرے کی ریت کی فصیلیوں کو گرانے کا وقت آگیا ھے۔اب ضرورت ھے آندھی کی،طوفان کی ،جو سب کو اُڑا کر اور بہا کر لے جائے۔اللہ ہمیں انصاف پسند دولت مند اورمنصف عطا فرمائے(آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com