”ہدایت کی کرنیں“

”ہدایت کی کرنیں“ نے مجھے بے حد متاثر کیا،یہ واقعی اپنے اندر ہدایت کا خزانہ رکھتی ہے۔
تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی
حافظ محمد زاہد اوچی لمبی شخصیت کے مالک ہیں۔چہرے پہ نورانیت کی کرنیں، کالے سیاہ گھنے بالوں سے سجی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،مسکراتے لب، ہشاش بشاش طبیعت اور ہنس مکھ شخصیت والے ہیں۔پہلی ملاقات سے ہی دل میں گھر کر گئے۔محبتوں کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا میرے دل کو اپنے رنگ میں ڈبو گیا۔چند لمحوں کی ملاقات میں حافظ محمد زاہد نے اپنی دو عدد کتب کا تحفہ عنایت کیا۔ ہم نے بھی لگے ہاتھوں ”قفس میں رقص“پیش کر دی۔مزے کی بات یہ کے آج تک حافظ محمد زاہد نے اس پر چند لفظ نہیں لکھے اور کسر ہم نے بھی نہیں چھوڑی۔ہم نے بھی ایک لفظ بھی ان کی کتب پر نہیں لکھا۔
یہ ماضی کی ملاقات تھی جس کے حسین نقش آج تک میرے ذہن اوردل کی سکرین پر روز اول کی طرح محفوظ ہیں۔نام پڑھتے ہی فورا وہ مناظر میری آنکھوں کی سکرین پر گھومنے لگے تھے۔بے حد پیار آیا۔
”ہدایت کی کرنیں“ان کی کاوشوں کا ثمر ہے۔کارڈ کور پر شائع ہونے والی بہترین اور عمدہ کتاب ہے۔328صفحات کی ضخیم کتاب جس کی ہر سطر،ہر لفظ سے ہدایت کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔مکتبہ خدام القرآن لاہور نے اس کی اشاعت مئی 2019میں کی ہے۔کتاب کی قیمت 300روپے ہے۔
ہدایت کی کرنیں“میں انتساب سے پہلے ”پیش لفظ“دیا گیا ہے جس میں مصنف لکھتے ہیں ”میرے اندر لکھنے کی صلاحیت کا اُجاگر ہونا ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی روحانی سرپرستی اور حافظ خالد محمود خضر صاحب کی رہنمائی کا ثمر ہے۔انتساب تین شخصیات کے نام کیا گیا ہے جن میں صاحب قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،مبلغ قرآن ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ اور والد محترم ماسٹر منور حسین جنہوں نے دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف راغب کیا،شامل ہیں۔ اگلے صفحے پر لکھاری کا مختصر تعارف دیا گیا ہے جس میں تاریخ پیدائش،ایڈیٹر شب،تعلیم،صحافتی عہدہ،مطبوعہ کتب،کالم،تحقیقی مضامین کے ساتھ خط و کتابت اور ای میل ایڈریس دیا گیا ہے۔
”ہدایت کی کرنیں“کا پہلا مضمون”مکاتیب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی دریافت،حقانیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت ہے۔میرے دل سے خصوصی حافظ محمد زاہد کے لیے دعائیں نکلتی رہیں کے انہوں نے عربی متن،اردو ترجمہ اور عکس کے ساتھ مکتوب پیش کیے ہیں۔جن کو پڑھ کر روح تک سرشار ہو گئی۔ہدایت کی کرنیں تاریخی پس منظر پیش کرتی عمد ہ کتاب ہے۔جس میں لکھاری موجودہ مسلمانوں کی حالت زار پر رنجیدہ ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے حوالے دے کر ان کے ضمیروں کو جھنجوڑ رہا ہے۔اپنے جذبات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔حافظ محمد زاہد مسلمانوں کو ایک طرح سے آئینہ دِکھا رہے ہیں کہ آپ کے اسلاف کیسے تھے اور آپ کس سمت چل پڑے ہیں۔اب بھی نہیں سنبھلے تو پھر کب سنبھلیں گے۔
حافظ محمد زاہد نے ”ہدایت کی کرنیں“لکھ کر اپنی دُنیا اور آخرت کا بہترین ساماں کر لیا ہے۔ہمیں اس کتاب کو پڑھ کر عمل کرکے ان کی پیروی کرنی چاہیے۔اس کتاب میں کل اکتیس31مضامین ہیں جن میں چند کے عنوان یہ ہیں۔موافقات عمر اور اولیات عمر رضی اللہ عنہ،صدقہ فطر اور عید الفطر،مصافحہ،معانقہ،تقبیل اور قیام،اپریل فول اور جھوٹ کی بربادیاں،دعوت ولیمہ ایک جائزہ،گالی فساد کی جڑ اور بدترین گناہ کے ساتھ ہر مضمون اپنے اندر حقیقت کے ساتھ ایک جہاں آباد رکھتا ہے۔اگر آپ غور کریں تو عنوانات سے ہی کتاب کے اسلوب کو جان سکتے ہیں۔
حافظ محمد زاہد کا قلم حُب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوبا ہوا ہے۔آپ کا قلم حق اور سچ لکھنے سے نہیں گھبراتا۔”ہدایت کی کرنیں“آسان اور عام فہم میں لکھی گئی ہے۔سب سے اہم بات یہ کہ جو بھی اسے پڑھے گا بے شمار نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں جمع کر لے گا۔آپ حیران ہو رہے ہوں گے۔ضرور ہوں لیکن یہ گتھی بھی میں سلجھا دیتا ہوں۔حافظ محمد زاہد نے جہاں جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لکھا ہے ساتھ درودوشریف بھی لکھا ہے۔اب جو بھی پڑھے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودوشریف کا نذرانہ پیش کرے گا۔ہیں نا مفت کی نیکیاں۔
”ہدایت کی کرنیں“پڑھنے کے لیے بڑا دل چاہے۔آپ گھبرائیے مت میری طرح آپ بھی یہ کتاب لفظ بہ لفظ ضرور پڑھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔بس تھوڑی سی ہمت کرکے ابتداء کر لیجئے،اختتام تک یہ کتاب خود ہی لے جائے گی۔صفحہ نمبر102سے 106تک کمپوز نگ اور پرنٹینگ کی غلطیاں موجود ہیں۔اس میں لکھاری کا کوئی قصور نہیں ہے۔”ہدایت کی کرنیں“میں حافظ محمد زاہد نے حدیث شریف کوڈ کرتے ہوئے مکمل حوالے جات دئیے ہیں اور کہیں کہیں تکرار لفظی بھی ملتی ہے۔کہیں کہیں حوالہ جات کی تشنگی رہتی ہے جن کی نشان دہی میں کرچکا ہوں۔”ہدایت کی کرنیں“کا حسن یہ ہے کہ سیدھی دل میں اُتر جاتی ہے۔اس کتاب میں جن مسائل اور ان کا حل بتایا گیا ہے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آپ ”حافظ محمد زاہد“کی شخصیت کو ڈھونڈرہے ہیں تو ”ہدایت کی کرنیں“پڑھ لیجئے۔ان کا اسلوب ہی ان کی شخصیت ہے۔ان کی شخصیت مکمل طور پر سامنے آجاتی ہے۔میرے دُعا ہے اللہ تعالیٰ ان کو تمام نعمتوں اور رحمتوں سے نوازے اور ”ہدایت کی کرنیں“کو شرف ِقبولیت عطا فرمائے۔انسان خطا کا پُتلا ہے اللہ کرے ”ہدایت کی کرنیں“حافظ محمد زاہد کے لیے ذریعہ نجات بن جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ”ہدایت کی کرنیں“پڑھ کر سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق و ہدایت عطا فرمائے آمین!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com