گھر ایک محفوظ جہاں …تحریر۔ زنیرہ اکرام

گھر ایک محفوظ جہاں …تحریر۔ زنیرہ اکرام
مریم کو خوابوں سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے نہ جانے کتنا وقت بیت گیا کہ موذن کی آواز بھی اسے جگا نہ سکی۔ اس حد تک پر یشان تھی۔ آنکھ لگ گئی۔ کب آنکھ لگ گئی۔ کچھ پتا ہی نہیں چلا۔
دراصل یہ خواب صرف خواب نہیں تھے بلکہ صرف پیچھا نہ چھوڑنے والی پریشانیوں کا بہترین زریعہ ہے۔
” کچھ وقفے بعد عائشہ آئی اور کہا”۔آپی اٹھ جاؤ۔ تین گھنٹے ہو گئے،رات کو بھی سونا ہے۔ پہلے ہی رات کو سوتی نہیں ہو۔
”مریم نے کہا”۔ مدہم آواز میں۔ کب آنکھ لگ گئی کچھ پتا ہی نہیں چلا۔
”عائشہ نے کہا”۔ خیر کوئی بات نہیں آپ سوئی تو سہی۔ اب اٹھ جاؤ۔ سب دسترخوان پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ کھانا لگ گیا ہے۔ جلدی سے آ جاؤ۔
”مریم نے جواب دیا”۔ بھوک زرا بھی نہیں ہے۔ آپ سب کھانا کھاؤ۔
”عائشہ نے کہا”۔ آپی تھوڑا سا ہی لیکن کھاؤ ضرور۔ ورنہ بیمار ہو جاؤ گی۔ امی بھی ڈانٹ رہی ہے۔ اس نے بیمار ہونا ہے۔
آ جاؤ۔
اچھا آتی ہو۔ جاؤ تم۔ ”مریم نے کہا”۔
”امی جان نے کہا”۔ آجاؤ۔ میری بیٹی۔ آج میرے ساتھ کھانا کھائے گی۔ آج سوئی تھی توخیر سے اٹھنا نہیں تھا۔ (لاڈیا کرتے ہوئے)۔
چلو کھانا کھاو۔
عائشہ بیٹا دسترخوان اٹھالو۔
”امی نے کہا”۔ عائشہ بیٹا، یہ کیا معجرہ ہے۔ بہن کو کیا ہوا ہے۔ اگر تمہیں کچھ علم ہے تو مجھے بھی بتاؤ۔
اچھا امی جی آپ کو صبح اکیلے میں بتاؤ گی۔ جب آپی ادھر ادھر ہو گی۔ آپ فکر مند نہ ہو۔ بس آپ اب سو جا ئے۔ لیکن یاد رہے۔ آپی کے سامنے کچھ مت پوچھنا۔ ”عائشہ نے امی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا”۔
امی جان اپنے پریشان خیالوں میں کوئی نہ کوئی اندازے لگاتے ہوئے سو گئی۔ لیکن ان کو یہ بات اندر اندر کھائی جا رہے تھی۔ آخر ایسی کیا بات ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ پہلے بروز اتوار صبح صبح ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ہوا اپنی خوشبو کو سمیٹے جھوم رہی تھی۔
”مریم” اتنا وقت ہو گیا۔ آج فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی۔ یہ کیسے ہو گیا۔
(امی جان سے ناراضگی والے لہجے میں مخاطب ہو کر) آپ نے اٹھایا ہی نہیں۔
امی جان تسلی دیتے ہوئے۔ بیٹا پریشان نہ ہو۔ اٹھ جاؤ۔ منہ ہاتھ دھو لو۔ میں ناشتہ بنا دیتی ہو۔ کر لو۔
یا د ہے نہ آج تم نے سب کے کپڑے استری کرنے ہے۔ اتنے دنوں سے ٹال مٹول کر رہی ہو۔ ”امی نے کہا”۔
ہاں جی امی یاد ہے۔ بے فکر ہو جا ئے۔ آج کام ہوا لیں سمجھے۔ (شرارتی ہنسی ہنستے ہوئے)
دیکھ لینا آج اگر نہ ہوا تو پھر دیکھنا۔ ”امی نے غصے والے لہجے میں جواب دیا”۔
دوپہر کا وقت ہوا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ فون کی سکرین پر اپنی بہترین دوست کا نام دیکھ کر خوشی سنبھال نہ پا رہی تھی کہ جلدی سے فون اٹھایا۔ فون سننے کے دوران ہی مریم کے چہرے کے تاثرات مزید خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ فون بند کرنے پر معلوم ہوا۔ نیلم(مریم کے بچپن کی دوست) نے ایک مختصر سی صرف دوستوں کی دعوت رکھی ہے۔
دعوت بروز منگل شام چھ بجے کی تھی۔ مریم پھولے نہیں سماں رہی تھی کی اتنے دنوں بعد اپنی دوست سے ملنے جا رہی ہو۔ مریم سے یہ ایک دن گزارنا نہایت مشکل ہوا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آنکھ جھپکے اور جب کھولے تو منگل کے چھ بجے ہو۔
لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ مریم نے یہ ایک دن سارا کپڑے چننے اور خیالوں میں دعوت کے تمام مزے اڑانے میں گزار دیا۔ تصورات میں تمام پل بننا شروع کر دیئے۔
اگلے دن جیسے ہی منگل کا دن شروع ہوا۔ اس کو اپنی خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ تین بجے کے قریب عورت ہونے کی حیثیت سے تمام آرائش زیب تن کر کے دعوت پر جانے کی تیاری میں مشعول تھی۔
کب چھ بج گئے، کچھ معلوم تک نہ ہوا۔
حد ہے مریم دعوت پہ جا رہی ہو یا شادی پر۔ اتنی دیر۔ پتا نہیں جب کسی کی شادی پر جاؤں گی۔ اس وقت کیا حال ہو گا۔ ” امی نے برہم ہوتے ہوئے کہا”۔
احمد بہن تیار ہو گئی ہے۔ اسے اس کی دوست کی طرف چھوڑ آؤ۔ دوست کے گھر کا راستہ یاد ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو بہن کو پتا ہے۔ اس سے پوچھ لینا۔ ”امی نے کہا”۔
نہیں ماں جی۔ مجھے اچھی طرح راستہ یاد ہے۔ میں چھوڑ آتا ہو۔ آپ فکر نہ کریں۔ ”احمد نے جواب دیا”۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com