گوجرانوالہ میں ٹریفک کے مسائل اور ان کا ممکنہ حل

گوجرانوالہ میں ٹریفک کے مسائل اور ان کا ممکنہ حل
عتیق انور راجہ
شہر کی سڑکوں پر اتنے زیادہ رش کی وجہ جاننا مشکل نہیں ہے۔شہرکی آبادی میں بے تحااشا اضافہ ہو رہا ہے۔اچھے کاروبار اور بچوں کی اچھی تعلیم کے لیے ملک بھر میں لوگوں کا گاوں سے شہروں کو منتقل ہونا ایک عام سی بات ہے اسی وجہ سے شہری آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔اور شہروں کی آبادی بڑھتی ہے تو گاڑیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔یعنی بیشمار لوگوں کے پاس بیحساب گاڑیاں ہیں اور وہ اُنہیں اِسی محدود جگہ پر چلانا چاہتے ہیں۔انسانوں کے گاڑیوں پر انحصار کرنے کا مطلب ہے کہ شہروں کو گاڑیوں کی تعداد میں روزبروز اضافے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔لیکن جدید بڑے شہروں میں بھی صبح اور شام کے اوقات میں ٹریفک کے رش کی وجہ سے چوڑی سڑکیں بھی چھوٹی دکھائی دینے لگتی ہیں۔جتنی تیزی سے کاریں اور موٹر سائیکل فروخت ہورہے ہیں اُتنی تیزی سے سڑکیں تعمیر نہیں کی جا سکتیں۔اس حساب سے انتظامیہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں کامیاب پلاننگ سامنے نہیں لا پا رہی ہے ۔۔شہر میں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے پاس پارکنگ کی سہولتیں بلکل بھی نہیں ہیں۔بچوں کو پک کرنے والے ڈرائیور گاڑیوں کو کئی کئی گھنٹے سڑک پہ کھڑا کیے رکھتے ہیںیوں گاڑیاں پارک کرنے کی سہولیات میں کمی بھی ٹریفک کے رش کو بڑھاتی ہے۔ آپ کسی بھی وقت دیکھ لیں کئی گاڑیاں سڑکوں پر محض پارکنگ کے لئے جگہ تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔گوجرانوالہ میں ٹریفک کا حال اتنا بگڑ چکا ہے کہ کسی سلجھے ہوئے ڈرائیور کے لیے شہر کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا بھی تقریباً ناممکن ہے۔ آپ کسی ڈرائیور سے کچھ دیر ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر بات کر کے دیکھ لیں۔ مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ سڑکوں کا حال کافی بہتر ہو چکا ہے مگر بہت سے یو ٹرن ,شہریوں کا جگہ جگہ سے پیدل سڑک کراس کرنا اور سلپ روڈ نہ ہونے سے شہر کی سڑکیں اکثر و بیشتر عجیب منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔اسی بے ہنگم ٹریفک کا رش اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ قریب ہر سڑک پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام ہونے لگا ہے۔کیا عجیب مذاق ہے کہ ہماری حکومتیں اور انتظامیہ شہر کی سڑکوں پر دھماچوکڑی مچانے والی چاندگاڑیوں اور رکشوں کو پاسنگ ,روٹ اور ڈرائیونگ لائسنس دینے کو تیار نہیں ہے لیکن یہی رکشے بنا کسی اجازت پورے شہر میں ہر وقت بنا روک ٹوک دوڑتے نظر آتے ہیں ۔ان کے پائیلٹ اتنے جی دار ہوتے ہیں کہ کہیں سے بھی یوں ٹرن لے لیتے ہیں اچانک بریک لگا لیتے یا پھرآپس میں ریس لگ لیتے ہیں اور اسی وجہ سے کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ حادثات نہ ہوتے ہوں۔ قانون تو بہت عرصے سے موجود ہے کہ دن کے وقت بڑی گاڑیاں شہروں میں داخل نہ ہوں گی مگر کیا کیجیے ٹریفک پولیس کی نرم دلی یا گرم جیبی کا کہ سارا دن ہیوی ٹریفک شہر میں چلتی نظر آتی ہے۔ موٹر سائیکل، رکشہ تانگہ، گدھا گاڑی، ٹریکٹر، کار، بس اور ہیوی ٹریفک سبھی ایک ساتھ سفر کرتے ہیں اور شہر میں کہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بھائی کسی قاعدے قانون کو دیکھ لو ۔ہونا تویہ چاہیے کہ ہیوی ٹریفک ,رکشے اور موٹر سائیکل سڑک کے انتہائی بائیں چلے ,مگر افسوس ایسا ہو نہیں رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ٹریفک جام میں پھنسے لوگ روز ہی اس مصیبت سے دوچار رہتے ہیں۔ پھر سڑکوں پر آئے دن گاڑیوں کا خراب ہونا، ایکسڈنٹ ہونا، گدھا گاڑیوں کی کم رفتار، سائیکل، موٹر سائیکل کا اچانگ سڑک کے بیچوں بیچ آجانا، پیدل چلنے والے حضرات کا اچانک تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے سے سڑک پار کرنا، اور ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کا دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ اسی طرح ماحول میں پلوشن pollution بھی اس ٹریفک کی وجہ سے اتنا بڑھ گیا ہے کہ کئی لوگوں کو گلے اور آنکھوں کی سوزش رہنے لگی ہے۔ بچے اس بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے نہ تو سکول سیفٹی کے ساتھ آجا سکتے ہیں اور نہ ہی باہر کھیل سکتے ہیں جو بچوں کی نشونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رات کی ٹریفک میں ہیڈ لائٹز کا استعمال جو کہ باقی ساری دنیا میں ایک سنگین جرم ہے، میرے پیارے شہر میں بلا خوف و خطر کیا جارہا ہے جس سے سامنے سے آنے والی گاڑی کے ڈرائیور کی آنکھوں میں روشنی کی شدت سے ڈرائیور کے لیے گاڑی چلانا شدید خطرہ بن جاتا ہے۔
دنیا کے ہر ملک میں لوگ گاڑیاں چلاتے ہیں بلکہ بہت سے ممالک ہمارے ملک سے حجم میں بہت چھوٹے ہونے کے باوجود ہم سے زیادہ گاڑیوں چلا رہے ہیں لیکن وہاں ٹریفک کے حادثات کی شروع اور ٹریفک جام ہمارے ملک کی نسبت بہت کم ہے۔
ٹائم میں تبدیلی کر کے اور بازاروں کی ٹائمنگ میں بھی کچھ تبدیلی کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر گاڑی ضبط کی جائے اور چلانے والے کو بھاری جرمانہ کیا جائے۔ ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔چنگچی رکشہ اور اس طرح کے باقی خطرناک سواریوں کو بند کرنا اب ممکن نہیں رہا ہے اس لیے بہتر ہے انہیں روٹ اور پاسنگ کے مراحل سے گزار کے مخصوص تعداد میں مخصوص علاقوں میں کسی قاعدے سے چلنے کی اجازت دی جائے۔اس کے ساتھ شہریوں کی سہولت کے لیے سول سرکار پارٹنر شپ کے تحت بڑی گاڑیوں کا انتظام کرتے ہوئے رکشہ والوں کے لیے متبادل روزگار کا بندوبست کیا جائے۔ شہر کی سڑکوں پر کارپارکنگ کا سلسلہ بھی ٹریفک پولیس کی محبتوں کی وجہ سے چل رہا ہے ۔کوئی انہیں یاد کروادے کے سڑکیں سفر کے لیے ہوتی ہیں گاڑیاں پارک کرنے کے لیے نہیں ۔اب کچھ عرصے سے شہر میں سگنل ایکٹو نظر آرہے ہیں لیکن کیا کیجیے ہمارے لوگ اشارہ بند ہونے پہ رکنے کی بجائے تیز رفتاری سے اشارہ توڑتے ہوئے گزرتے رہتے ہیں ۔آئے روز حادثات ہوتے ہیں بلکہ چوکوں میں ٹریفک پھنسی بھی نظر آتی ہے ۔ٹریفک وارڈن عمومی طور پر اشارے سے زرا دور کھڑے گاڑیوں کے چلان کررہے ہوتے ہیں یا موبائل فون پہ کسی سے گفتگو میں مگن دکھائی دیتے ہیں ۔ٹریفک مسائل کو کم کرنے کے لیے ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا دن میں شہر داخلہ بند ہونا چاہیے ۔شہر میں کاروں اور دوسری ٹریفک کو لائن کی پابندی کا حکم ہونا چاہیے ۔تعلیمی اداروں کوپابند کیا جائے کہ وہ اپنے طالب علموں کی پک اینڈ ڈراپ کے لیے پارکنگ کا انتظام بھی کریں۔ایک نقطے کی بات عرض کرتا چلوں کہ حضور ٹریفک پولیس کا کام ٹریفک کو بہتر چلوانا ہوتا ہے ۔یعنی پہلی ترجیعی گاڑیوں کو بہتر انداز میں سفر کی پاسداری کروانا اور پھر پاسداری نہ کرنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جانا تا کہ لوگ خطیر رقم کے ڈر سے سدھرنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آوارہ کُتے
گھر سے نکلتے ڈر لگتا ہے
لیں گے لُوٹ لٹیرے، لُچے
اِن سیاگر بچ جاتے ہیں تو
کاٹتے ہیں آوارہ کُتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com