گلے کی ہڈی

گلے کی ہڈی
صفدر علی حیدری
سینکڑوں نوابی اور آزاد ریاستیں ہڑپ کر جائے والے خونی بھیڑیے کے لیے کیسا حیرت انگیز واقعہ ہے کہ کشمیر جنت نظیر گلے کی ہڈی بن گیا ہے ۔جسے نہ اگل پاتا ہے نہ نگل۔پون صدی کی خون آشام تاریخ شاہد ہے کہ بھارتی سامراج کی چنگیزیت خاک چاٹتی رہی اور اشرار بو لہبی کی چراغ مصطفوی کے آگے کبھی ایک نہیں چلی۔حریت کی یہ شمع غیور کشمیریوں نے اپنے پاکیزہ لہو سے جلائی تھی پھر بھلا ظلم کی کوئی آندھی اسے کیوں کر بجھا پاتی۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اہل کشمیر کو تائید ایزدی حاصل ہے جبھی تو شمع _ حریت کی لو ہر گزرتے لمحے فروزاں سے فروزاں تر ہوتی چلی جاتی ہے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
جواں سال حریت پسند برہان وانی کی شہادت کے بعد سے تو بھارتی سرکار چین نہ کسی پہلو آئے کی جیتی جاگتی تصویر بن چکی ہے (اس حوالے سے ایک ذاتی دکھ آپ سے شئیر کرنا چاہوں گا۔ ہوا یہ کہ شہید وانی کی برسی کے موقع پر میں نے اپنی فیس بک آئی ڈی کی ڈی پی پر شہید وانی کی تصویر سجا دی۔ چند ہی گھنٹوں بعد مجھے پتہ چلا کہ میرا سات سالہ پرانا اکاؤنٹ ڈس ایبل کر دیا گیا ہے۔ اور میرا جرم یہ بتایا گیا کہ میں نے کمیونٹی اسٹینڈرڈ کی وائیلیشن کی ہے۔ آپ خود سوچ لیں کہ بھارتی اثر رسوخ کتنا شدید اور گہرا ہے)اور تحریک اس شدت سے عروج کی جانب گامزن ہے کہ محسوس ہوتا ہے آزادی کا سورج اب طلوع ہوا کہ تب
صبح روشن میں بہت دیر نہیں ہے لیکن
ابھی عجلت میں چراغوں کو بجھا مت دینا
بھارت کے حالیہ اقدامات سے ان کی بوکھلاہٹ واضح ہے۔ گویا اخلاقی طور پر شکست تسلیم کر چکے۔ بقول فراز
تو یہیں ہار گیا ہے میرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا
امریکہ میں مودی کا فلاپ شو اور اس کے جواب میں ہزاروں لوگوں کے امریکہ کی سرزمین پر امن احتجاج نے بھارتی نیتاوں کی نیند اڑا دی ہے۔ کشمیر کی گونج دور تک جاتی دکھائی دے رہی ہے اور ہندو بنیا چاہ کر بھی ظلم کی یہ خون رنگ داستان چھپا نہیں پایا
تم نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
سچ یہی ہے کہ آج دنیا میں صرف کشمیر گونجتا ہے۔ عالمی ضمیر کو جس نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ درد مند دل رکھنے والا ہر انسان آج اہل کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔وہ دن دور نہیں جب مظلوم کشمیری ظالم بھارتیوں سے اپنی آزادی چھین لیں گے۔کیسی عجیب بات ہے اور دلوں کو شکستہ کر دینے والی بھی کہ آج تین ماہ ہونے کو آئے ہیں کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ بھارتی درندوں کو ظلم و چنگیزیت سے روک پائیں۔
اقوام متحدہ اور انگلستان کو بطور خاص اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مسلمانوں کی بھی اتنی ہی ہمدرد ہے جتنی غیر مسلموں کی۔ اور یہ بھی کہ وہ انسانوں کے درمیان کسی امتیاز کی قائل نہیں۔ اور انگلستان پر آزادی ہند کے اس نامکمل ایجنڈے اور متنازعہ ترین مسئلے کو حل کرانے کی زمہ داری براہ راست عائد ہوتی ہے۔ انگلستان کو ماضی کی غفلت کا ازالہ کرنے کو آگے آنا ہو گا۔
بھارتی بزدل خود اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گئے اوراستصواب رائے کی آزادی کا وعدہ کیا۔ بعد میں حسب دستور مکر گئے۔ اور تب سے اب تک دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے پھرتے ہیں۔ جسے خود متنازعہ تسلیم کیا تھا اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہوئے انہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی۔کشمیر کے عوام بھیڑ بکریاں نہیں کہ انہیں پچھتر لاکھ نانک شاہی میں کوئی غاصب ہنکا لے جائے۔ حریت پسند عوام نے اس ظالمانہ اقدام کی ہر فورم پر نفی کی ہے۔
اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ اس فائل کو تہہ خانے سے نکالے جس پر ماہ وسال اور مجرمانہ غفلت کی گرد جمی ہے۔بھارت کے دماغ کی گرد جھاڑتے ہوئے اسے اس کا وعدہ یاد دلائے۔ کشمیریوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا پیدائشی حق انہیں واپس دلائے۔ پھر جو ان کا فیصلہ ہو گا وہ بھارت اور پاکستان کو بہر طور قبول کرنا ہوگا ۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کپتان کے خطاب کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ بھارت کے اگر بس میں ہوتا تو وہ یہ موقع آنے ہی نہ دیتا۔ کپتان کی تقریر پر جتنا لکھا گیا بہت و کافی و وافی ہے۔ شاید اس سے بہتر خطاب پاکستان کے کسی سربراہ مملکت نے نہیں دیا۔ کپتان کے مخالفین بھی اس کی خوب پزیرائی کرتے اگر اس میں ایک بڑی خامی نہ ہوتی۔ اور وہ یہ کہ یہ خطاب کپتان نے کیا ہے۔کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کاوشیں اپنی جگہ لائق تحسین لیکن جب تک اس کا عملی طور اثر سامنے نہیں آتا یہ کوششیں نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوں گی.اقوام متحدہ کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں کم از کم ‘ کرفیو کا خاتمہ، فوجیوں کا پچھلی پوزیشن پر لوٹنا اور کالے قانون کی واپسی جبکہ دوسرے مرحلے میں فوجیوں کا علاقے سے جلد از جلا انخلا اور تیسرے اور آخری مرحلے میں اہل کشمیر کو استصواب رائے کا حق دینا۔ ٹرمپ کو بھی اس سلسلہ میں اپنا پورا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس کی ثالثی کی پیشکش کوئی ڈرامہ نہیں تھی۔ رب العزت سے دعا ہے کہ سید الشہدا کی بے مثال قربانی کے صدقے کشمیریوں کی قربانیاں بھی رنگ لائیں اور وہ جلد از جلد آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔
آمین یا ربّ العالمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com