کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن

کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن

انشال رائو
اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی دودھ کا رنگ کالا قرار دے دے اور اگر تمام لوگ دودھ کے رنگ کو کالا سمجھنا شروع کردیں تو دودھ کا رنگ کالا نہیں ہوجائیگا ہمیشہ سفید ہی رہنا ہے بالکل اسی طرح عدالت کے جانبدارانہ فیصلے میں ملک و ملت کے لیے تین تین جنگیں لڑنے والا، اللہ کے گھر (خانہ کعبہ) کا دفاع کرنے والا، ملک و ملت کو ترقی کی راہ پہ لے جانے والا محض اس بنا پہ غدار نہیں ہوسکتا کہ اس نے چند مفاد پرست سیاستدانوں کے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی تھی، خصوصی عدالت جتنا چاہے زور لگالے کاغذوں کے کاغذ کالے کردے، دلائل کے انبار لگالے مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی، سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدالت کی طرف سے سپہ سالار پاکستان کے لیے غدار کا لفظ استعمال کیا گیا جس پر سب سے زیادہ شادیانے بھارت میں بجائے جارہے ہیں، ہندوتوا اینکرز چیخ رہے ہیں، ہندوتوا اخبارات چنگھاڑ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے کردکھایا وہ ایجنڈہ جو 1999 میں بھارتی ایجنسی را لیکر چلی اب پاکستانی ججز و وکلا کے ہاتھوں پورا ہورہا ہے جیسا کہ سابق بھارتی جنرل وی پی سنگھ نے اپنی کتاب ”بھارت کے عسکری تنازعات اور سفارتکاری” میں بھارتی اہداف کا اظہار کیا کہ پاک آرمی کو بدنام کرنا، مورال ڈاون کرنا، دنیا میں تنہا کرنا اہم ترین ہدف رکھا، یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کو ہر سطح پہ نشانہ بنایا جاتا آرہا ہے ایک طرف تو عالمی سطح پہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ عسکریت پسندی کے پیچھے پاک فوج ہے جبکہ دوسری طرف عوام کے ذہنوں میں فوج مخالف سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اگرچہ دشمنان ملک و ملت کامیاب تو نہیں ہوپائے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ملک و ملت کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا ازالہ ممکن نہیں، بات ہورہی ہے کہ غدار کون؟ سب سے پہلے تو یہ تعین کیا جائے کہ غداری کسے کہا جانا چاہئے اور حب الوطنی کا پیمانہ کیا ہے؟ اس کا جواب انتہائی سادہ سا ہے کسی انسائیکلوپیڈیا یا کسی اور چیز کی مدد کی ضرورت نہیں، دنیائے تاریخ سے ثابت ہے کہ کوئی بھی دانستہ فیصلہ یا پالیسی یا راز لیک کرنا یا ملی حساس معلومات دشمنوں کو فراہم کرنا یا دانستہ دشمن کو فائدہ پہنچانا یا ایسا کام دانستہ طور پر کرنا جو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف ہو یا ملک و قوم کے لیے نقصاندہ ہو غداری کے زمرے میں آتا ہے اور بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک و ملت کی فکر، مادر وطن کے لیے قربانی دینا، دشمن کی سازشوں کے آڑے آجانا، ملک و ملت کے لیے ہمہ وقت خود کو پیش کرنا حب الوطنی ہے اب اگر اس بنیاد پہ موازنہ کرتے ہیں کہ کون کیا ہے اس بات سے کون ہے جو واقف نہیں کہ بھارت و دیگر دشمن قوتیں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگ نہیں کرسکتے لہٰذا پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور سفارتی سطح پہ کمزور کرنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پہ پاکستان کے خلاف محاذ گرم کردیا گیا جس میں سب سے زیادہ ٹارگٹ پاک آرمی رہی اور یہ راز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پاکستان و پاک فوج کو عالمی سطح پہ بدنام کرنے میں بیرونی عناصر سے زیادہ اندرونی لوگ سرگرم ہیں جن میں کچھ سیاستدان، کچھ میڈیا پرسنز، کچھ کالے کوٹ والے اور کچھ نام نہاد سماجی کارکن سرفہرست ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان میر جعفر و میر صادقوں نے پہنچایا اتنا نریندر مودی، بن گوریان یا نیتن یاہو نے بھی نہیں پہنچایا تھا اس ضمن میں اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ
بوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن
کہ اپنے ہی غدار ہوتے ہیں جو مادر وطن کے راز بیرونی دشمن کی خوشنودی کے لیے دے دیتے ہیں اسی کے مصداق ڈان لیکس ہو یا خواجہ آصف کی امریکہ میں ایشیائی سوسائٹی کے سیمینار میں کی گئی تقریر، نوازشریف کے ممبئی حملوں کے حوالے سے دئیے گئے بیانات ہوں یا انٹرویو، بلاول کے وار ہوں یا کسی اور کے پروپیگنڈے جن کا سہارا لیکر دشمن قوتیں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جواز بنانے کی کوششیں کرتی ہیں اور اس سوچے سمجھے منصوبے کا اصل ہدف نشانہ پاک آرمی ہی ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاک آرمی انکل امریکہ کے ڈو مور کا جواب نومور سے دیتی ہے جس بنا پر عالمی قوتیں کسی بھی قیمت پر پاک فوج کی حیثیت پولیس کے مترادف کرنا چاہتی ہیں جسکے لیے ایک بار پھر آزمایا ہوا کارتوس چھوڑا گیا ہے جیسے 2007 میں عدلیہ بحالی کی آڑ میں کالے کوٹ کو استعمال کیا گیا بالکل اسی طرح ایک بار پھر وہی کالا کوٹ استعمال کیا جارہا ہے یاد رہے کہ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک امریکی پالیسی برائے Regime Change in Pakistan یعنی پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے بطور آلے کے استعمال ہوئی، امریکہ کی یہ پالیسی کامیاب رہی کہ مشرف کے بعد پاکستان میں جو دہشتگردی کا بازار گرم ہوا وہ رب العزت کسی اور قوم کو نہ دکھائے، اس کے علاوہ لاقانونیت، کرپشن و لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دئیے گئے اور قرضوں کے انبار لگادئیے گئے جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ اٹھوانا اور جغرافیائی تقسیم تھا لیکن پاک فوج نے اسے دوسرے دور میں ناکام بنادیا تو اب ایک بار پھر اسی اقتدار کی تبدیلی والی پالیسی کے تحت پاکستان میں افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کچھ میڈیا پرسنز اس سازش کا حصہ ہیں، زرا سوچئے کہ مشرف ان کے نزدیک ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے غدار جبکہ اربوں کھربوں لوٹنے والے، راز دینے والے، مختلف بیانات و انٹرویوز سے پاکستان کو بدنام کرنے والے محب وطن ہیں، زرا سوچئے مشرف تو ایمرجنسی لگا کر غدار ٹھہرا لیکن سیاستدان لاکھوں نااہل افراد کو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر بھرتی کرکے آئین پاکستان کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے، من پسند ٹھیکے دیکر اور کچھ صحافیوں کو مالا مال کرکے محب وطن، حال ہی میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنایا گیا اور اب مشرف کو غدار لکھا گیا اس عدالتی فیصلے کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے موصوف جج صاحبان طاقت کے نشے میں شراب کو حلال قرار دیکر سوچنے لگیں کہ شراب جائز ہوگئی، جس طرح شراب کو ساری دنیا حلال سمجھنے لگے تو حلال نہیں ہوجاتی اسی طرح امریکی اخبار سے Bitches Of The Riches کا خطاب پانے والی عدلیہ کی طرف سے کرپٹ مافیا کو بری و ڈھیل دینے سے وہ پاک صاف نہیں ہوجائینگے خیر قصہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی دودھ کا رنگ کالا قرار دے دے اور اگر تمام لوگ دودھ کے رنگ کو کالا سمجھنا شروع کردیں تو دودھ کا رنگ کالا نہیں ہوجائیگا ہمیشہ سفید ہی رہنا ہے بالکل اسی طرح عدالت کے جانبدارانہ فیصلے میں ملک و ملت کے لیے تین تین جنگیں لڑنے والا، اللہ کے گھر (خانہ کعبہ) کا دفاع کرنے والا، ملک و ملت کو ترقی کی راہ پہ لے جانے والا محض اس بنا پہ غدار نہیں ہوسکتا کہ اس نے چند مفاد پرست سیاستدانوں کے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی تھی، خصوصی عدالت جتنا چاہے زور لگالے کاغذوں کے کاغذ کالے کردے، دلائل کے انبار لگالے مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی، سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدالت کی طرف سے سپہ سالار پاکستان کے لیے غدار کا لفظ استعمال کیا گیا جس پر سب سے زیادہ شادیانے بھارت میں بجائے جارہے ہیں، ہندوتوا اینکرز چیخ رہے ہیں، ہندوتوا اخبارات چنگھاڑ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے کردکھایا وہ ایجنڈہ جو 1999 میں بھارتی ایجنسی را لیکر چلی اب پاکستانی ججز و وکلا کے ہاتھوں پورا ہورہا ہے جیسا کہ سابق بھارتی جنرل وی پی سنگھ نے اپنی کتاب ”بھارت کے عسکری تنازعات اور سفارتکاری” میں بھارتی اہداف کا اظہار کیا کہ پاک آرمی کو بدنام کرنا، مورال ڈاون کرنا، دنیا میں تنہا کرنا اہم ترین ہدف رکھا، یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کو ہر سطح پہ نشانہ بنایا جاتا آرہا ہے ایک طرف تو عالمی سطح پہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ عسکریت پسندی کے پیچھے پاک فوج ہے جبکہ دوسری طرف عوام کے ذہنوں میں فوج مخالف سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اگرچہ دشمنان ملک و ملت کامیاب تو نہیں ہوپائے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ملک و ملت کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا ازالہ ممکن نہیں، بات ہورہی ہے کہ غدار کون؟ سب سے پہلے تو یہ تعین کیا جائے کہ غداری کسے کہا جانا چاہئے اور حب الوطنی کا پیمانہ کیا ہے؟ اس کا جواب انتہائی سادہ سا ہے کسی انسائیکلوپیڈیا یا کسی اور چیز کی مدد کی ضرورت نہیں، دنیائے تاریخ سے ثابت ہے کہ کوئی بھی دانستہ فیصلہ یا پالیسی یا راز لیک کرنا یا ملی حساس معلومات دشمنوں کو فراہم کرنا یا دانستہ دشمن کو فائدہ پہنچانا یا ایسا کام دانستہ طور پر کرنا جو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف ہو یا ملک و قوم کے لیے نقصاندہ ہو غداری کے زمرے میں آتا ہے اور بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک و ملت کی فکر، مادر وطن کے لیے قربانی دینا، دشمن کی سازشوں کے آڑے آجانا، ملک و ملت کے لیے ہمہ وقت خود کو پیش کرنا حب الوطنی ہے اب اگر اس بنیاد پہ موازنہ کرتے ہیں کہ کون کیا ہے اس بات سے کون ہے جو واقف نہیں کہ بھارت و دیگر دشمن قوتیں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگ نہیں کرسکتے لہٰذا پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور سفارتی سطح پہ کمزور کرنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پہ پاکستان کے خلاف محاذ گرم کردیا گیا جس میں سب سے زیادہ ٹارگٹ پاک آرمی رہی اور یہ راز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پاکستان و پاک فوج کو عالمی سطح پہ بدنام کرنے میں بیرونی عناصر سے زیادہ اندرونی لوگ سرگرم ہیں جن میں کچھ سیاستدان، کچھ میڈیا پرسنز، کچھ کالے کوٹ والے اور کچھ نام نہاد سماجی کارکن سرفہرست ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان میر جعفر و میر صادقوں نے پہنچایا اتنا نریندر مودی، بن گوریان یا نیتن یاہو نے بھی نہیں پہنچایا تھا اس ضمن میں اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ
بوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن
کہ اپنے ہی غدار ہوتے ہیں جو مادر وطن کے راز بیرونی دشمن کی خوشنودی کے لیے دے دیتے ہیں اسی کے مصداق ڈان لیکس ہو یا خواجہ آصف کی امریکہ میں ایشیائی سوسائٹی کے سیمینار میں کی گئی تقریر، نوازشریف کے ممبئی حملوں کے حوالے سے دئیے گئے بیانات ہوں یا انٹرویو، بلاول کے وار ہوں یا کسی اور کے پروپیگنڈے جن کا سہارا لیکر دشمن قوتیں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جواز بنانے کی کوششیں کرتی ہیں اور اس سوچے سمجھے منصوبے کا اصل ہدف نشانہ پاک آرمی ہی ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاک آرمی انکل امریکہ کے ڈو مور کا جواب نومور سے دیتی ہے جس بنا پر عالمی قوتیں کسی بھی قیمت پر پاک فوج کی حیثیت پولیس کے مترادف کرنا چاہتی ہیں جسکے لیے ایک بار پھر آزمایا ہوا کارتوس چھوڑا گیا ہے جیسے 2007 میں عدلیہ بحالی کی آڑ میں کالے کوٹ کو استعمال کیا گیا بالکل اسی طرح ایک بار پھر وہی کالا کوٹ استعمال کیا جارہا ہے یاد رہے کہ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک امریکی پالیسی برائے Regime Change in Pakistan یعنی پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے بطور آلے کے استعمال ہوئی، امریکہ کی یہ پالیسی کامیاب رہی کہ مشرف کے بعد پاکستان میں جو دہشتگردی کا بازار گرم ہوا وہ رب العزت کسی اور قوم کو نہ دکھائے، اس کے علاوہ لاقانونیت، کرپشن و لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دئیے گئے اور قرضوں کے انبار لگادئیے گئے جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ اٹھوانا اور جغرافیائی تقسیم تھا لیکن پاک فوج نے اسے دوسرے دور میں ناکام بنادیا تو اب ایک بار پھر اسی اقتدار کی تبدیلی والی پالیسی کے تحت پاکستان میں افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کچھ میڈیا پرسنز اس سازش کا حصہ ہیں، زرا سوچئے کہ مشرف ان کے نزدیک ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے غدار جبکہ اربوں کھربوں لوٹنے والے، راز دینے والے، مختلف بیانات و انٹرویوز سے پاکستان کو بدنام کرنے والے محب وطن ہیں، زرا سوچئے مشرف تو ایمرجنسی لگا کر غدار ٹھہرا لیکن سیاستدان لاکھوں نااہل افراد کو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر بھرتی کرکے آئین پاکستان کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے، من پسند ٹھیکے دیکر اور کچھ صحافیوں کو مالا مال کرکے محب وطن، حال ہی میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنایا گیا اور اب مشرف کو غدار لکھا گیا اس عدالتی فیصلے کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے موصوف جج صاحبان طاقت کے نشے میں شراب کو حلال قرار دیکر سوچنے لگیں کہ شراب جائز ہوگئی، جس طرح شراب کو ساری دنیا حلال سمجھنے لگے تو حلال نہیں ہوجاتی اسی طرح امریکی اخبار سے Bitches Of The Riches کا خطاب پانے والی عدلیہ کی طرف سے کرپٹ مافیا کو بری و ڈھیل دینے سے وہ پاک صاف نہیں ہوجائینگے خیر قصہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com