کچھ تو آخر کرنا ہو گا۔۔۔۔

کچھ تو آخر کرنا ہو گا۔۔۔۔
صفدر علی حیدری
ایک مولوی صاحب نے یہ جملہ ” تہتر کے آئین کے تناظر میں ” میں اس تواتر اور کثرت سے بولا ہے کہ لگتا ہے جیسے سارے کا سارا آئین صرف اسی ایک آدمی نے پڑھ رکھا ہو۔ جبھی تو اسے آئے روز اجتہاد کا عارضہ لاحق رہتا ہے۔ آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں۔ اس مولوی صاحب کے پاس تہتر کے آئین کی دو کاپیاں ہیں۔ دو نمبر کاپی وہ آدمی تب نکالتا اور کام میں لاتا ہے جب جب اسے عوام مسترد کر دیتے ہیں۔ ایسے میں وہ دو نمبر کاپی اٹھاتا اور دو نمبری شروع کر دیتا ہے۔ ارے آپ کو یقین نہیں آرہا۔ چلیں ایسا کریں کہ اس آدمی کی دو ہزار چودہ میں عین دھرنے کے دوران کی جانے والی تقاریر کا ریکارڈ اٹھا لیں جو قومی اسمبلی کی لائبریری میں محفوظ ہو گا اور مکرر سننے کا حوصلہ بھی پیدا فرما لیں۔ یقینا آپ میرے ہم خیال ہو جائیں گے۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ راستے دھرنا پارٹی نے بند کر رکھے تھے اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جاری تھا تو انہی حضرت کو لمبا چکر کاٹ کر پیدل اجلاس میں آنا پڑا۔ بس پھر کیا تھا مولوی جی کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا اور ہانپتے کانپتے انہوں نے دھرنا گروپ کو خوب کھری کھری سنائیں۔ انہی مسلح جتھے تک کہ ڈالا۔ یہ مفت مشورہ بھی دے دیا کہ ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنے کے کیلیے سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ ایسی کہ آئندہ کسی کو ایسا کرنے کی ہمت نہ ہو۔ اگر مولوی صاحب ناراض نہ ہو تو اس ناچیز کا بھی یہی مطالبہ ہے اور احقر مولوی صاحب کی ہاں میں ہاں ملانا چاہتا ہے۔ مولوی صاحب وہ الفاظ تہتر کے آئین کی کتاب نمبر ایک کھول کر پڑھ رہے تھے۔ لیکن آج کے تناظر میں تہتر کے آئین کی دو نمبر کتاب کھولنے کا وقت ہے۔ مولوی جی کے ہاتھ میں بھی دو نمبر کتاب ہی ہے۔ اور وہ اس کتاب کو کسی اور کتاب کے طور پر عوام کے سامنے لہرا لہرا کر حسب دستور مذہب کا بھونڈا استعمال فرمانا چاہتے ہیں۔ ہم مولوی جی کی اپنی زبان میں اس حرکت کو” کنڈم
کرتے ہیں۔ حق تو یہی بنتا ہے اور انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مولوی صاحب کے دو ہزار چودہ کے ارشادات کو حرف بہ حرف بروئے عمل لایا جائے اور اس جھتے کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کچھ اس نے فرمایا تھا۔دو نمبر کتاب بحق سرکار ضبط کر لی جائے اور کوئی ایسی قانون سازی کی جائے آئندہ کسی کو بھی لوڈ بلاک کر کٹ دھرنے دینے اور شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کی جرات کبھی نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com