کنے کنے جاناں بلو دے گھر گانے کی سوشل میڈیا پر دھوم

90 کی دہائی میں ابرار الحق کے شہرہ آفاق گانے’بلو دے گھر‘ نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا اور آج 24 برس بعد بھی یہ گانا اپنی مقبولیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔
’بلو دے گھر‘ گیت 1995 میں پاکستانی پاپ اور بھنگڑا موسیقی کے معروف گلوکار ابرار الحق نے گایا تھا جسے خوب پزیرائی ملی تھی جس کا اب ریمیک کر کے کوک اسٹوڈیو سیزن 12 کی دوسری قسط میں پیش کیا گیا ہے۔کوک اسٹوڈیو میں ’بلو‘ کے ریمیک نے جہاں 90 کی دہائی کے افراد کی 24 برس بعد یادیں تازہ کیں وہیں اس نے نئی نوجوان نسل کی دلچسپی بھی اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔اس گیت کا ریمیک پیش کرنے سے قبل ابرار الحق کا کہنا تھا کہ یہ گانا ان کے لیے ’گیم چینجر‘ تھا اور اب اس کو پیش کرنے کا انداز پرانا روایتی نہیں بلکہ پہلے سے مختلف ہے یعنی اسے آج کی ’بلو’ سمجھیں۔

1995 میں ’بلو دے گھر جانے‘ کی کہانی بتاتے ہوئے ابرارالحق کا کہنا تھا کہ ’میری عادت تھی کہ ہر شام کو واک کرنے جاتا تھا، میں ایک مقام پر پہنچا تو وہاں بہت ساری وینز تھیں جہاں وین والا بول رہا تھا کہ ’کنے کنے جاناں‘ تو اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ ’اساں تے جانا بلو دے گھر‘ تو اس پر میں خود ہی ہنسنا شروع ہوگیا تھا‘۔گفتگو جاری رکھتے ہوئے ابرارالحق نے کہا کہ ’پھر جب میں واپس آرہا تھا تو سنا ’ٹکٹ کٹاؤ لین بناؤ جنے جنے جانا‘ تو جب یہ بنچ لائن مکمل ہوئی تو میں نے اسے سنجیدہ لیا پھر سوچا کہ یہ تو ایک گانا بن سکتا ہے اور اس طرح سے یہ گانا بنانے کا خیال میرے ذہن میں آیا‘۔ابرار الحق کا کہنا تھا کہ یہ زندگی کا پہلا گانا تھاجب بنا تو میں بہت ہنسا۔ اسے سب سے پہلے میں نے اپنے بڑے بھائی کو سنایا جس کے بعد میں نے پوچھا اچھا ہے؟ تو انہوں نے کہا ہاں واقعی اچھا ہے جس پر میں نے بتایا یہ میرا ہے انہوں نے کہا کہ آگے سناؤ تو میں نے کہا بس اتنا ہی اس وقت میرے بھائی نے کہا اسے مکمل بناؤ۔گلوکار نے مزید بتایا کہ بھائی کے کہنے پر ہی گانے میں بھنگڑا شامل کیا اور اس طرح یہ گانا ٹکڑوں میں بنتے ہوئے دوسال میں مکمل ہوا جسے 1995 ستمبر میں ریلیز کیا گیا۔ تاہم اب کوک اسٹوڈیو سیزن 12 میں بھی نئی بلو نے ٹکٹ بھی کٹادی اور لائن بھی بنا ڈالی۔مداحوں کی جانب سے ’ ’بلو دے گھر‘ کو قابل ستائش ریمیک قرار دیا جارہا ہے جس پر دلچسپ تبصروں کا سلسہ جاری ہے۔مجادلہ نامی صارف لکھتی ہیں کہ ’1995 سے 2019 وقت گزرگیا لیکن کل بھی بلو زندہ تھی آج بھی بلو زندہ ہے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com