کمسن بچوں پر جنسی تشدد،مگر کب تک؟

کمسن بچوں پر جنسی تشدد،مگر کب تک؟
محمد اقبال عباسی
گزشتہ ماہ میرے آبائی علاقے کے نواح میں ایک معصوم بچی سے ریپ کا مذموم واقعہ ہوا لیکن ضلع بہاولپور کی پولیس نے انتہائی کامیابی سے متعلقہ مجرم کو تلاش کر لیا اور آج صبح تیز بارش میں اپنی سو چوں میں غلطاں بیٹھا تھا کہ ایک اور خبر بجلی بن کر گری کہ اچ شریف سے دس روز قبل اغوا ہونے والی فاطمہ کی لاش ملی ہے اور حسب دستور مقامی ڈی پی او نے ایک ٹیم بنا دی ہے جو انتہائی جانفشانی سے کام کر رہی ہے ۔ میرے دماغ میں ایک سوال بجلی کے کوندے کی طرح لپکا کہ ہم کب تک اس طرح کے سانحات کے لئے تفتیشی ٹیمیں بناتے رہیں گے او ر کب تک عمران جیسے معاشرتی ناسوروں کو پھانسی پر لٹکاتے رہیں گے؟کیا اس کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکتا ؟ اس موقع پر مجھے تاریخ کے اوراق سے ایک واقعہ یاد آگیا جو اکثر میں اپنے مضامین میں لکھتا ہوں کہ 8جولائی 1187ء کو عکرہ پر قبضے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی ؒکی افواج نے صلیبی انٹیلی جنس کے جرمنی نڑاد سربراہ ہرمن کو فرار ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا۔گرفتاری کے وقت ہرمن نے کماندار فرار کروانے کے بدلے میں خوبصورت لڑکیاں اور بہت سا سونادینے کی پیشکش کی،مگر کماندار نے اسے ٹھکراتے ہوئے سلطان کے دربار میں پیش کردیا،ہرمن کو جب سلطان صلاح الدین ابوبی کے سامنے لایا گیاتو اس نے گرفتار کرنے والے کماندار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا’’سلطان معظم!اگر آپ کے تمام کماندار اِس کردار کے ہیں جو مجھے پکڑ کر لایا ہے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کو بڑی سے بڑی فوج بھی یہاں سے نہیں نکال سکتی،آپ کا جاسوسی کا نظام نہایت ہی موثر ہے،سلطان معظم! یہ جنگ جو ہم لڑرہے ہیں،یہ میری اور آپ کی،یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں، یہ ہلال اور صلیب کی جنگ ہے جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی،اب ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے،ہم کوئی ملک فتح نہیں کریں گے،ہم مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کریں گے،ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کامحاصرہ کریں گے، ہماری لڑکیاں،ہماری دولت،ہماری تہذیب کی کشش جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں،اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالے گی،پھر مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے،سلطان معظم! وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے،میں نہیں دیکھوں گا،ہماری روحیں دیکھیں گی۔”یہ ہیں وہ الفاظ جو اہل کلیسا کے موجودہ منشور کی نہ صرف عکاسی کرتے ہیں بلکہ اپنے ان مذموم مقاصد میں وہ یوں کامیاب ہوئے کہ وہ جنسی فحاشی جس کو پھیلانے کا کام وہ ماضی میں اپنی تربیت یافتہ جاسوس حسینائوں سے لیتے تھے ، اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لئے انہوں نے پورن انڈسٹری قائم کی جس کا باقاعدہ آغاز 1748ء میں فینی ہل کے فحش ناول سے ہوا اور اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی 1857ء مین برطانوی راج میں ہوئی جس کا اطلاق آئرلینڈ اور برطانیہ جیسے ممالک میں کیا گیا ۔ موجودہ پورنوگرافی صنعت کا باقاعدہ آغاز 1896ء میں ہوا جس کے بعد اس صنعت کی ترقی کو ایسے پر لگے کہ چند ہی سالوں میں اس متنازعہ انڈسٹری نے لاکھوں ڈالر کا بزنس کیا لیکن دیکھا جائے تو اس کا سب سے بڑا شکار مسلمان حکمران اور عوام ہی ہوئے۔
گزشتہ چند سالوں سے انٹر نیٹ اور سمارٹ فون کی ایجاد کے ساتھ ہی ہمارے ملک میں فحاشی اور عریانی کا وہ طوفان آیا جس کا اندازہ ہر وہ ذی ہوش پاکستانی آسانی سے لگا سکتا ہے جس کے دل پاکستان اور اسلام کی محبت سے سرشار ہیں ، جو اپنی آنے والی نسلوں کی تباہی پرنوحہ خواں ہی نہیں بلکہ شدید غم و غصے کا شکار ہیں ۔ اقبال کا وہ شاہین جس کی منزل چر خ نیلی فام سے پرے تھے اب وہ کسی نہ کسی آن لائن حسینہ کی زلفوں کا اسیر ہے یا پھر روزانہ پورن سائٹس اور فحش موویز کو دیکھ کر اپنی راہ کھوٹی کرنے کے درپے ہے ۔ پورن دیکھنے کا سب سے بڑا نقصان نہ صرف چڑ چڑا پن ، تنہائی ، مایوسی اور ذہنی و جسمانی کمزوری ہے بلکہ جنسیت کا وہ لاوہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ پڑنے کو تیار رہتا ہے اور ایسے درندوں کو جیسے ہی موقع ملتا ہے تو ان کا سب سے بڑا شکار ننھی اور معصوم کلیاں ہوتی ہیں۔ مدارس ، سکولوں اور گھروں میں مخلوط محفلیں اور تعلیم نے ہمارا جو بیڑا غرق کیا ہے اس کا آج تک ہمارے معاشرے کے پالیسی سازوں کو احساس نہیں ہو سکا ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ روش نے ایسے حادثات کا بااعث بن رہی ہے ۔ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں ہم اپنے خرمن کو بچانے کی بجائے اس کو ہوس زدہ درندوں کے منہ میں پھینک دیتے ہیں جس کا لامحالہ انجام یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی جنسی درندے کی ہوس ناکی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔
پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق 2018ء میںملک میں ہر روز 9 سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے تھے اور 2017ء کے مقابلے میں یہ اضافہ 11فیصد تھا ۔2019ء کی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سابقہ ششماہی میں جنوری تا جون بچوں سے زیادتی کے 1304مقدمات درج ہوئے ، جس کا مطلب ہے کہ روزانہ 7بچوں کے ساتھ جنسی زیاتی ہوتی ہے جس کے ذمہ دار اس ملک کے بہت سے بے لگام جنسی درندے ملوث ہیں۔حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر روز 9 سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔اس رپورٹ کو 91 اخبارات کی رپورٹس کو مانیٹر کرنے کے بعد مرتب کیا گیا ہے لیکن اس رپورٹ کاسب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ 76 فیصد کیس دیہی علاقوں میں جبکہ 24 فیصد شہروں میں پیش آئے۔ ہمارا کوئی بھی شہر نیا گلی محّلہ ایسا نہ ہو گا جہاں کسی نہ کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی نہ ہوئی ہو لیکن والدین اور معاشرے کے غیر ذمہ دارانہ رویئے میں کوئی فرق نہیں پڑرہا ، ہماری حکومت اور ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ ہماری عوام نے بھی اس سلسلے میں کسی حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس طرح کی وارداتوں کو سختی سے روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ میری رائے میں والدین ، اساتذہ ، معاشرہ ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اعلیٰ عدالتیں نہ صرف اس جرم کی شریک گردانی جاتی ہیں بلکہ ہماری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ، اساتذہ اور میڈیا پرسن بھی اس میں برابر کے شریک ہیں ۔
معاشرے میں جب بھی کوئی جرم تیزی سے پنپ رہا ہوتا ہے تو اس جرم کے پھیلنے اور تیزی سے بڑھنے کے اسباب کی تلاش کرنا اور بروقت ان اسباب کا سد باب کرنا ہی ایک ترقی یافتہ قوم کا شیوہ ہوتا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں جنسی ہوس کی سب سے بڑی وجہ مادر پدر آزاد معاشرہ ، جنسی ویڈیوز اور غلط صحبت اور جہالت ہے ، ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اکثر مجرمان غیر تعلیم یافتہ ہی تھے جو ننھے اور معصوم بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ، اگر والدین اپنے بچوں کی درست خطوط پر تربیت کریں اور کسی بھی فرد سے کوئی چھوٹا موٹا تحفہ یا چیز نہ لینے دیں اور اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں تو میرے خیال میں یہ ناممکن نہیں کہ بچے کی بھی شخص کے بہلاوے میں آئیں ۔ بچوں کو جدید اور درست انداز میں تربیت ہی اس قسم کے جرائم کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے ۔لیکن عوام کو ڈارک ویب جیسے گھنائونے الفاظ سے ڈرانے کی بجائے ملک سے فحاشی کے خاتمے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیا جائے اورقانون نافذ کرنے والے تمام ادارے مربوط طریقے سے تمام سائٹس کو نہ صرف بلاک کر دیں بلکہ پورن پھیلانے والے عناصر کا کڑا احتساب کیا جائے تو ایک دن ایسا آئے گا جب اس طرح کے واقعات کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ فحاشی کے اس طوفان کے سامنے جلد از جلد بند باندھا جائے اور انسداد دہشت گردی ٹیموں کی طرح کوئیک ریسانس فورس تشکیل دی جائے جو والدین ، اساتذہ اور اداروں کا کڑا احتساب کر سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com