کشمیر یوں کے حق میں صدائے احتجاج

           کشمیر یوں کے حق میں صدائے احتجاج

کالم :صدائے سحر
تحریر :شاہد ندیم احمد
بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو وحشیانہ مظالم سے خاموش کر رہا ہے، تاہم ٹام لینٹس کمشن کے اراکین اور پینلسٹ نے بھارت کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا پول کھول دیا ہے۔ کمشن کی ان کاوشوں کا ایک خاص پہلو یہ ہے، کہ اس نے نہ صرف بھارتی حکمرانوں کی جابرانہ پالیسیوں کے پس منظر میں موجود آمرانہ اور قومی انتہا پسندانہ نظریات و خواہشات کو بے نقاب کیا ،بلکہ کمشن نے بھارت کی جانب سے دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیاہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی کرتوتوں اور مظالم کو چھپانے کے لئے انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دے رہا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ بڑی طاقتوں اور عالمی اداروں کو علم نہیںکہ بھارت نے گزشتہ 107 دن سے مقبوضہ کشمیر کو وسیع جیل خانہ میں تبدیل کر رکھا ہے۔ کشمیریوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی حتیٰ کہ نماز جمعہ تک پڑھنے کی اجازت نہیں، بڑی طاقتوں اور عالمی اداروں کو یہ خدشات لاحق ہیں، کہ اگر مسئلے کے حل کے لئے بھارت پر دبائوڈالا تو ہماری ایک ارب بیس کروڑ انسانوں کی منڈی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ یوں سرمایہ دار ذہنیت حق کی آواز بلند کرنے میں آڑے آ رہی ہے، انسانی حقوق کی پاسداری کی لاٹھی صرف کمزور ملکوں کیلئے ہے ،حالانکہ اگر امریکہ، برطانیہ، روس اور چین مل کر ہی بھارت پر تجارتی پابندیاں لگا دیں تو بھارتی معیشت زمین بوس ہوجائیگی،مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے، مگر افسوس تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار بھی اقتصادی مفادات کے اسیر ہیں، خودغرضی کی انتہا ہے، کہ 80 لاکھ کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر عالمی برادری اور ادارے اپنے اپنے مادی مفادات کے تحفظ کی خاطر اُن کا نوٹس لینے پر آمادہ نہیں،اگر ان حالات میں امریکی کانگرس اپنے ادارے ٹام لینٹس ہیومن رائٹس کمشن کی آواز بھارت پر دبائوڈالے تو مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دنیا ئے عالم میںامریکہ انسانی حقوق کا چمپئن بنا ہوا ہے، دنیا کے جس خطے میں شورش برپا ہو اسے تشویش لاحق ہوتی ہے، لیکن دوسری طرف 70برس سے کشمیری عوام انصاف کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں ،مگر وہ اس ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا رہا، صرف اسی لئے کہ کشمیر میں ظلم و ستم کا شکار ہونے والے مسلمان ہیں۔ امریکہ نے اگر مسلم امہ کے ساتھ ایسا ہی رویہ اپنائے رکھا،مظلوم کی حمایت کرنے کی بجائے اس کا تماشہ دیکھنے کی پالیسی اپنائے رکھی تو پھر دنیا میں امن ایک ڈرائونا خواب بن جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں ،لیکن مودی سرکار ہر بار راہ فرار اختیار کر جاتی ہے۔ اس بار امریکی انسانی حقوق کی نامور تنظیم ٹام لینٹس نے بھارتی مکاریوں سے امریکی حکام کو بھی آگاہ کیا ہے،لیکن بدقسمتی سے امریکی حکام کا وہی نیم دلی سے مذمت والا رویہ سامنے آیا ہے۔ سابق بھارتی میجر جنرل نے پوری دنیا کے سامنے ٹی وی پروگرام میں اس بات کا اعتراف کیاہے کہ بھارتی فوج کشمیری خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ اس اعتراف کے باوجود سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری کا بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ستربرس سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موجود ہے، جبکہ کشمیر کے بعد اس سے ملتے جلتے مسائل اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر آئے جنہیں فوری حل کر دیا گیا۔ سوڈان کا مسئلہ بھی کشمیر کے مسئلے کی طرح تھا ،لیکن اس میں بنیادی فرق تھا کہ وہاں پر آزادی مانگنے والے لوگ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس پر عالمی برادری فوراً بیدار ہوئی اور سوڈان کی تقسیم کا اعلان کر دیا گیا۔ کشمیر میں تو معاملات بہت خراب ہیں،لیکن اقوام متحدہ کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

پاکستان کی طرف سے ممکنہ حد تک کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے دنیا کومسلسل آگاہ کیا جارہا ہے۔ بھارت پاکستان کے اس کردار پر دہکتے کوئلوں پر لوٹ رہا ہے، اس نے پاکستان کو خاموش کرانے کیلئے دھمکیوں کا سلسلہ شروع کردیا ،لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ اس کا روز کا معمول ہے جس میں اب تیزی آگئی ہے، پاکستان کی مغربی سرحد پر بھی اپنے نمک خواروں کو متحرک کر دیاگیا ہے۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے بھارت عرصہ سے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد کی ہے ،اس پر بھارت پاکستان کو دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دیتا ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو بھی بھارت دہشت گردی قرار دکے ساتھ جوڑتاہے۔ بھارت کے اس لغو اور بے بنیاد پراپیگنڈے میں 5‘ اگست کے بعد مزید تیزی آگئی ،مگر پاکستان نے اسکے مذموم عزائم اور کشمیریوں پر بڑھتے مظالم کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو بھارت کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان اپنے موقف سے سرِمو پسپائی پر تیار نہیں،جنگ کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں،جبکہ بھارت کے لغو پراپیگنڈے کا اندازہ بھارتی وزیرخارجہ کے مقبوضہ کشمیر میں سب اچھا ہے کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے اس کا پوری طرح پوسٹمارٹم کرکے حقائق دنیا کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے ایسا ہی جھوٹ سپریم کورٹ میں بھی بولا گیا تھا کہ کشمیر میں سب اچھا ہے تو غیرجانبدار میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت وادی میں جانے سے کیوں روک رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال نارمل قرار دینا بھارت کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، اب سرکاری طور پر ایک اور ستم توڑے جانے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ایک سابق جرنیل کشمیری خواتین سے جبری زیادتی کو پالیسی کا حصہ بنانے پر زور دے رہا ہے۔ یہ انسانیت کے چہرے پر طمانچہ ہوگا اور عالمی برادری سمیت اقوام متحدہ کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہوگا،پا کستان مسلسل کشمیر یوں پر بھار تی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہا ہے ،عالمی دنیا کوبھی بھارتی بھیانک سوچ کے عملی صورت اختیار کرنے سے قبل نوٹس لینا ہوگا،کیو نکہ اب محض تشویش‘ اظہار افسوس اور مطالبات کافی نہیں،اس سے آگے مو ثر عملی اقداما ت کی راہ اختیار کرنا ناگزیر ہوگیاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com