کشمیر کی تازہ ترین صورتحال!

کشمیر کی تازہ ترین صورتحال!
ملک شفقت اللہ
ستائیس اکتوبر تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب بھارت نے اپنی فورسز کو کشمیر میں اتارا تھا۔حالانکہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ نے استصواب رائے کا حق دے رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا لیکن جو تازہ ترین ذرائع سے خبریں وصول ہو رہی ہیں وہ انتہائی افسوس ناک اور قابل تشویش ہیں۔ بھارتی حکومتی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل کشمیر میں بی ڈی کونسل کے انتخابات منعقد ہوئے ، جس کا بائیکاٹ مقبوضہ کشمیر کی بڑی جماعتوں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کانگریس نے پہلے ہی کر دیا تھا جبکہ ٹوٹل 316 بلاکس میں سے 307بلاکس میں انتخابات ہوئے جن کی پولنگ صبح نو بجے سے ایک بجے تک رہی۔ان میں سے ستائیس بلاکس کے امید وار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے اور 81 پر بی جے پی جبکہ 217 سیٹوں پر آزاد امیدواروں کو کامیابی ملی۔اگر ہم اس الیکشن کا جائزہ لیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جب کشمیر بھر میں کرفیو نافذ ہے، جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں ، لوگوں کو زندگی گزارنے کیلئے بنیادی مسائل کا سامنا ہے اور کشمیر کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اس الیکشن کا بائیکاٹ کر رہی ہیں تو یہ انتخابات شفاف کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو ووٹنگ کی شرح بتائی جا رہی ہے اسکی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ سو لوگوں کی ریس میں کوئی تیسرے نمبر پر آتا ہے اور سو لوگوں میں سے صرف تین لوگ ریس میں حصہ لیتے ہوں۔کونسل چئیر پرنسنز کے انتخابات کیلئے ووٹ کاسٹ کرنے والے پنچوں اور سر پنچوں کو بی جے پی حکومت نے ہوٹلوں میں یرغمال بنا کر رکھا۔ ساٹھ فیصد بلاکس میں ووٹ کاسٹ کرنے والے پنچوں اور سر پنچوں کی نشستیں خالی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بی ڈی سی کروا کے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی آئین کے اندر انتخابات کو قبول کر چکے ہیںلہذا وہاں کسی رائے شماری کی ضرورت نہیں۔ لیکن حقیقتاََ یہ انتخابات وادی کے 1989کے الیکشن سے بھی بد تر رہے ہیں۔وادی میں 2375 سرپنچ وارڈوں میں سے 817 یا 34فیصد خالی ہیں۔ اور حکومت نے ان وارڈوں کیلئے لازمی طور پر دوبارہ انتخابات کا انعقاد بھی نہیں کیا۔وادی میں 137 بلاکس میں سے 9 بلاکس میں کوئی امیدوار نہیں تھا،جبکہ 24 بلاکس میں امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔وادی میں صرف گیارہ اور چھ ووٹ لے کر منتخب ہونے والے لوگ بھی موجود ہیں جن کے حلقوں کی نمائندگی انہی کے رشتے داروں میں بٹی ہے۔ اس بلاک میں 170 سے زیادہ پنچ اور سر پنچ وارڈز موجود ہیں جن میں سے بیشتر خالی ہیں۔صرف 33 حلقوں کی نمائندگی پنچوں اور سر پنچوں نے کی ہے۔ان نام نہاد انتخابات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گریش چندرا مرمو کو پہلا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کر دیا گیا جو 1985 آئی اے ایس بیچ سے ہے۔یاد رہے کہ جب نریندر مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو گریش چندر گجرات میں کئی اہم عہدوں کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری بھی رہ چکا ہے۔ اور نریندر مودی کے دور میں جس طرح گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی ، ان کے گھروں اور کاروباروں کو نظر آتش کیا گیا اس بات کا غماز ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مرمو جیسے شخص کو لیفٹیننٹ گورنر تعینات کرنا کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے اور انہیں بے گھر کر کے قتل عام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔یوں تو بھارت ایک لبرل اور ڈیموکریٹک ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کے ہندوتوا کا نظریہ اس بار کھل کر سامنے آ رہا ہے ۔ کبھی مسلمانوں پر تشدد کیا جا رہا ہے، کبھی اسلام مکت بھارت بنانے کے نعرے سنائی دیتے ہیں ، کبھی اپنے ہی کارکنوں کو مروا کر مسلمانوں کو مؤرد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ کملیش تیواری مرنے سے پہلے خود چیخ چیخ کر یوگی ادتیہ ناتھ کا نام پکار تا رہا کہ انہوں نے کملیش تیواری کو مروایا ہے۔ لیکن بھارتی پولیس اس وقت تک سات سے زیادہ مسلمانوں کو اس ہلاکت کی ذمرے میں حراست میں لے چکی ہے۔ جیسے سبھی لوگ اپنا اپنا غم و غصہ ہلاکت کی آڑ میں نکال رہے ہوں۔صرف زی نیوز کو حکومت اس وقت بیش بہا نواز رہی ہے کہ شاید زی نیوز کے پاس حکومت کے رافیل ڈیل اور ان بتیس ہزار کروڑ کے بھی ثبوت ہیں جو بی جے پی حکومت نے سابقہ دور میں عوام سے لوٹے ہیں۔ پہلے این ڈی ٹی وی جیسے غیر جانبدار ٹی وی چینلز کو بین کیا گیا اور اب کشمیر کے ان اخبارات پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کشمیر کے حالات کو غیر جانبداری سے عوام الناس اور دنیا بھر میں پہنچا رہے ہیں۔ اس کا پہلا قدم ان میڈیا مالکان کو ہراساں کرنے کیلئے ان سے اخبارات کی آمدن کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ جس کے بعد غیر آئینی اور قانونی چالوں کے ذریعے ان اخبارات کو بند کر دیا جائے گا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیاں 86ویں روز بھی برقرار ہیں اور لوگوں کو ہنوز مشکلات کا سامنا ہے۔ وہیں دارالحکومت سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی اور مرکزی جامع مسجد میں مسلسل بارہویں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔چھ سو سالہ قدیم مسجد کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے ۔ پانچ اگست کو جس دن مرکزی بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے آئین کی دفعہ 370 اور 35A کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کئے اور ریاست کو دو حصوں میں منقسم کیا اس دن سے یہ مسجد مقفل ہے۔مسجد کے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات ہیں جو کسی بھی شہری یا صحافی کو جامع مسجد کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دے رہے جبکہ مسجدکے خطیب میر واعظ عمر فاروق کو ان کی رہائشگاہ پر مسلسل نظر بند رکھا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں لا پتہ افراد اور ان کے لواحقین کے حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایبل پرسنز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں چھروں کے استعمال سے متاثرہ افراد کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی گئی ہے جو ایک سو گیارہ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ رپورٹ 2016 میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہوئے مظاہروں میں پیلٹ سے زخمی ہونے والے افراد کے حوالے سے بنائی گئی ہے۔ ’’میری دنیا اندھیر ہو گئی ‘‘ کے عنوان سے اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں ریاستی فورسز کی طرف سے پیلٹ تشدد کا نشانہ بننے والے افراد ایک تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اندھا پن، افسردگی، مالی رکاوٹیں ، غیر یقینی کیرئیر اور روز مرہ کی زندگی کے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ بھارتی فوج و نیم فوجی اہلکاروں نے مبینہ طور پر کشمیر میں پر امن مظاہرین اور عام شہریوں پر چھرے چلائے۔ ان چھروں نے سینکڑوں افراد کو معذور یا بینائی سے محروم کیا ہیں۔ ان متاثرہ افراد کی زندگی پیلٹ کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم کشمیر میں مظاہروں سے نمٹنے کیلئے پیلٹ گنز کا استعمال جاری ہے۔ پانچ اگست سے اسپتالوں میں پیلٹ کے زخموں کے متعدد مریض داخل ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com