کشمیر۔۔۔ گر فردوس بروئے زمین است

کشمیر۔۔۔ گر فردوس بروئے زمین است
: عدنان عالم
آج کی دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور قوت انسان کی خود مختاری اور آزادی کی ابدی خواہش ہے ۔(جان ایف کینیڈی ۱۹۵۷)
کشمیر میں تعینات بنیاد پرست ہندوفوج کی رگ رگ میں مسلمانوں نے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ان کی ابتدائی تربیت میں ہی نصاب کے ذریعے اسلام اور مسلمان کے خلاف نفرت کا درس ملا ہے انہیں سپیشل ٹاسک فورس کہا جائے ،بارڈر سکیورٹی فورس کا نام لیا جائے یا سنٹرل ریزرو پولیس فورس کہا جائے ان کی اکثریت انتہائی مناسب ،فرقہ پسند تنظیموں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد کی ہے ۔یہ بھارتی حکومت سے داد پانے کے علاوہ تنظیمی وفاداری بھی کھل کر ادا کرتے ہیں ۔کشمیری مسلمانوں کی ہڈیاں توڑ کر جسم کاٹ کر اورخون بہا کر اپنی درندہ صفت جبلت کی تسکین کرتے ہیں مردوں کی مار پٹائی اور عورتوں کی عصمت دری کرنے کے بعد گھر وں کا سامان لوٹ کر لے جاتے ہیں اگر کوئی مسلمان بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کی زندہ کھال کھینچ لی جاتی ہے اور کھال کھینچنے کی کاروائی سر کی طرف سے نہیں بلکہ پائوں کی طرف سے شروع کی جاتی ہے ۔بچوں بوڑھوں سمیت تمام مظلوم کشمیریوں پر اسلحہ گردی معمول بن گئی ہے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کے بعدجو رپورٹس جاری کی ہیں انہیں پڑھ کر انسانیت کی تذلیل اور بربریت کی انہتا جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کو ملتی ہیں
کہانی ۱۸۱۹سے شروع ہوتی ہے جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر فتح کیا تومسلمانوں پر ظلم و ستم اور وحشیانہ تشدد کے نت نئے طریقے آزمائے جانے لگے اور کشمیر کی بد نصیبی و محکومی کا ایک اور دور شروع ہوگیا ۔تاریخ نے اس دور کو ’’سکھ گردی‘‘کے نام سے محفوظ کرلیا ۔سکھوں نے مسجد اور خانقاہوں سے مسلمانوں کو بے دخل کرکے ان پر قبضہ کرلیا ۔گائے کی قربانی پر مسلمانوں کو پھانسی دے دی جاتی یا سنگسار کردیا جاتا۔اگر کوئی سکھ کسی مسلمان کوقتل کردیتا تو اس مقتول مسلمان کے لواحقین کو دو روپے دے کر حساب بے باک کردیا جاتا۔۱۸۴۶میں انگریزوں نے کشمیر پر قبضہ کرکے نام نہاد معاہدہ امرتسر کے ذریعے کشمیر مہا راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ صرف ۵۷ لاکھ نانک شاہی روپوں کے عوض فروخت کردیا ۔سرزمین کشمیر کے ساتھ انگریزوں نے وہاں رہنے والے مسلمانوں کو بھی بیچ ڈالا۔چنانچہ گلاب سنگھ اور اس کے سارے خاندان نے مسلمانوں کے ساتھ غلاموں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا ۔سو برس بعد جب اس بربریت سے نجات حاصل کرنے کا موقع آیا تو لارڈ مائونٹ بیٹن ،پنڈت نہرو ،ولبھائی پٹیل اور مہا راجہ ہر ی سنگھ کی ملی بھگت سے ظلم و ستم اور وحشیانہ درندگی کا نیا دور شروع ہوگیا جو ابھی تک جاری ہے ۔سر ریڈ کلف نے نہایت رازداری سے تقسیم سے صرف دو دن پہلے (۱۲ اگست ۱۹۴۷ )بٹالہ اور گورداسپور کے مسلم اکثریت والے علاقے ہندوستان کے حوالے کردیے تاکہ کشمیر میں پنجے گاڑنے میں انہیں آسانی رہے ۔اس پر فریب اور غیر قانونی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷کے روز بھارتی حکومت نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کا اعلان کردیا اور اس سے پہلے ہی (۲۶اکتوبر )سرینگر کے ہوائی اڈے پر اپنی فوجیں اتاردی تھیں ۔تاریخی حقائق شاہد ہیں کہ اس وقت تک مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کاالحاق ہندوستان کے ساتھ منظور نہیں کیا تھا۔پنڈت نہرو اور سردار ولبھائی پٹیل نے بے بس مہا راجہ سے یہ دستخط کروائے جب اس کی حکمرانی ختم ہوچکی تھی اور وہ بھاگ کر جموں میں پناہ گزیں ہوچکا تھا اورجب سرینگر پوری طرح ہندوستانی فوج کے قابو میں آچکا تھا ۔یہ نام نہاد ’’دستاویزالحاق ‘‘محض ایک (parforma)ہے جس سے کوئی حتمی چیزثابت نہیں ہوتی ،پروفیسر لیمب کی تحقیق کے مطابق بھارت نے آج تک اصل دستخط شدہ دستاویز کی بین الاقوامی فورم پر پیش نہیں کی۔لارڈ مائونٹ بیٹن کے ایما پر متعدد انگریز ملٹر ی افسران نے اس غیر قانونی لشکر کشی میں حصہ لیا ۔۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ سے جنوری ۱۹۴۸کے آخر تک دہلی ملٹری ڈسٹرکٹ کے جی سی اوLT.GEN.DUDLEY RUSSELLنے اس ساری کاروائی کو کمانڈکیا ۔نومبر کے آخر میں لیفٹیننٹ جنرل نے بذاتِ خود کشمیر اور جموں جا کر اپنی فوجوں کا معائنہ کیا اور ان کی ہمت بڑھائی۔جنرل رسل کی یہ حرکت اس عہدنامے کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی جو مسٹر نیل بیکر سیکٹری آف سٹیٹ برائے روابط دولت مشترکہ نے برطانوی دارالعوام کے ساتھ کیا تھا ۔اس عہد نامے میں صاف صاف کہا گیا تھا کہ برطانوی افسران کشمیر میں کسی فوجی مہم میں حصہ نہیں لیں گے ۔دوسری طرف قائداعظم نے اس فوج کشی کے جواب میں جنرل گریسی کو ،جو پاکستانی افواج کا کمانڈر انچیف تھا ،کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حکم دیاتو اس نے مختلف حیلے بہانے تراش کرپاکستانی فوج کو کشمیر بھیجنے سے انکار کردیا ۔ظاہر ہے کہ جنرل گریسی انگریز تھااور کشمیر میں ہندوستانی فوج کا کمانڈر بھی انگریز تھا اور ان ممالک میں دونوں افواج کافیلڈمارشل سر کلاڈ آرکینلک بھی انگریز تھا ۔اسی لئے کشمیر میں مائونٹ بیٹن کی منافقانہ پالیسیوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے جنرل گریسی نے پاکستانی افواج کا کمانڈر انچیف ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے ساتھ غداری کی۔کشمیر کی حکمت ِعملی کی منصوبہ بندی اورنگرانی بھی انگریز جنرل رسل نے کی لیکن لارڈ مائونٹ بیٹن اپنی اشیر باد اور وقتاًفوقتاًاپنے مشوروں سے جنرل رسل کو نواز تا رہا۔جب یہ سب کچھ ہورہا تھا عین اس وقت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے مائونٹ بیٹن نے اور اس کے فوراًبعد ارتھ شاسترکے مکارانہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ۲نومبر ۱۹۴۷کے روز پنڈت نہرو نے اعلان کردیا کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق ہوگا۔نہرو کا اعلان محض اعلان تک ہی رہااورکشمیریوں کو آج تک ان کی خواہش کے مطابق ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق نہ دیا گیا۔حکومتیں آتی گئیں اور مسئلہ جوں کا توں رہا۔مذاکرات کی گولی کشمیریوں سے سینے چھلنی کرتی رہی۔
۵اگست ۲۰۱۹ کے بھارتی اقدام نے کشمیر کے مسئلے کارخ حل کی جانب موڑ دیا ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آئینی طور پر کشمیر کو دولخت کیااوربھارت کا حصہ قرار دے کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے خود ہی تحریک آزادی کشمیر کو جلا بخش دی ، اس اقدام سے کشمیری مزید ولوے اور جوش سے مزاحمت کرتے سامنے آئے ۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے جاری کرفیو میں بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔گھروں میں قید کشمیریوں کو خوارک اور ادویات کی دستیابی روک کر کمزور اور لاغر کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعے نسل کشی کا بھیانک کھیل جاری ہے ۔مودی سرکار کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔جنگ کی گیدڑ بھبکھیوں کی آڑ میں کشمیر میں ظلم ستم جاری ہے ۔شدید مزاحمت کا سامنا ہے مگر بھارتی حکومت ڈھٹائی سے اپنی طاقت منوانے میں مصروف ہے۔ دنیا بھر میں اسے دو ممالک کا اندرونی مسئلہ قرار دے کر حالات سے منہ موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جنت کا یہ ٹکڑا آہوں اور سسکیوں سے خون آلود ہ وادی کا منظر پیش کرہا ہے ۔
یہ زمین کا وہ ٹکڑاہے جسے دنیا بھر کے سیاحوں نے جنت نظیر کہا ہے ۔کشمیر کی معاشی ،اقتصادی اور سیاسی اہمیت بہت اہم ہے یہی وجہ رہی ہے کہ زمین پر جنت کے اس خوبصورت ٹکڑے کو مفادات کے لیے استعمال کرکے کشمیر کے باسیوں کوحقِ آزادی سے بھی محروم کردیا ہے ۔اب نوبت آگئی ہے کہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کاسیلاب بھارت کے ہر بند کو توڑ دے گا اور آزادی کاسورج طلوع ہوگا ۔بیان کئے ئے تاریخی پس منظر کے مطابق کشمیر سازشوں کا مرکز رہا مگر طاقت سے لی گئی چیز کو طاقت سے ہی واپس لیا جاتا ہے ۔کشمیر کا حل کشمیر کے عوام کے پاس ہے جس ک وہ اعلان کر چکے ہیں۔کیونکہ کشمیر ،کشمیری عوام کی ملکیت ہے اور تاریخ ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کے ظلم اور جبر کے شہ تیروں سے آزادی کی روح کبھی گھائل نہیں ہوئی ۔اور کشمیر تو وہ خطہ ارض ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ :
گر فردوس بروئے زمیں است
ہمیں است وہمیں است وہمیں است
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com