کسانوں کا نوحہ، شوگر مافیا اور دب تیلی سرکار

کسانوں کا نوحہ، شوگر مافیا اور دب تیلی سرکار
جام ایم ڈی گانگا
گنے کا کرشنگ سیزن سر پر آ چکا ہے.سنایا جا رہا ہے کہ صوبہ سندھ میں 10اکتوبر اور صوبہ پنجاب میں 15اکتوبر کو شوگر ملیں کرشنگ سیزن کا آغاز کرنے جا رہی ہیں.دوسری جناب صوبائی اور وفاقی حکومتوں، شوگر کین بورڈ کی جانب سے ابھی تک گنے کی نئی قیمت کا اعلان نہیں کیا جا سکا.گنے کی نئی قیمت کے تعین کے لیے کین بورڈ کے متعدد اجلاس ہو چکے ہیں.
ارباب اختیارگنے کے کاشتکاروں اور کسانوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں. گنے کی قیمت میں کتنا اضافہ کرتے ہیں. اب وقت قریب سے قریب تر آ چکا ہے. کسانوں کے ساتھ ماضی کے حکومتی رویے، شوگر ملز ایسوسی ایشن کی حکومتوں اور اداروں پر حکومت کسی سے ڈھکی چھپی حقیقت اور بات نہیں رہی. گذشتہ پانچ سالوں سے گنے کا ایک ہی ریٹ 180روپے من کلہ ٹھوک کے اس کے ساتھ باندھا کھڑا ہے.ملک کی طاقت ور ترین شوگر انڈسٹری سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے. 2015سے 2019کے دوران کسانوں کے گنے کی قیمت 180روپے فی من سے 180روپے فی من ہی پر رکی ہوئی ہے جبکہ صنعت کاروں شوگر ملز کی چینی اور دیگر متعلقہ آئیٹمز میں چینی 50روپے فی کلو سے 75روپے فی کلو، شیرہ 5500روپے فی ٹن سے 15000روپے فی ٹن، بگاس1800 روپے سے 3100روپیفی ٹن، مڈھ1200 روپے فی ٹن سے3000 فی روپے ٹن ریٹ ہو چکے ہیں.
مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر کسانوں کے گنے کا ریٹ 300روپے من بنتا ہیجو کہ ابھی تک انہیں نہیں دیا جا رہا. حکومتی ادارے اور حکمران ٹرخالوجی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں. شوگر مافیا کسانوں کے حق پر حکومت اور حکومتی اداروں کے تعاون سے مسلسل ڈکیتی ڈال رہی ہے. کسانوں کا مسلسل استحصال ہو رہا ہے. کسانوں نے متعدد بار وزیر اعلی پنجاب، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، آرمی چیف آف پاکستان، وزیر اعظم آف پاکستان کے درباروں کی بذریعہ اپیل اخبارات زنجیریں ہلا چکے ہیں. ابھی تک ان میں سے کسی بھی دربار کے اندر سے کسانوں کی شنوائی، حق رسی، محنت مشقے کی مزدوری دلانے بارے کوئی ولدی اور جواب موصول نہیں ہوا.کسان انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ ابھی تک بھی امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں. تبدیلی اور انصاف کی رسی کو بھی پکڑنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں. کسانوں کی چیں چاں چوں چاں بھی جاری ہے. شاید صاحبان سوئے ہوئے ہیں یا پھر محنت کش اور نحیف کسانوں کی آواز اتنی کمزور اور نحیف ہے کہ اندر پہنچ ہی نہیں پا رہی. اللہ خیر کرے، سب صاحبان خیریت سے ہوں.
محترم قارئین کرام،،وطن عزیز میں یہ بہت بڑا المیہ ہے.ہر فصل کی برداشت کے وقت کسان کسی نہ کسی کے ہاتھوں لٹ جاتا.کوئی اس کی دھاں فریاد سن کر حق رسی کرنے کی کوشش نہیں کرتا بس وقتی دلاسے دے کر پھر سُلا دیا جاتا ہے. بیچارا کسان بھی ہر بار اسے اللہ دی مرضی سمجھ کر پھر اپنی محنت اور کام میں جُت جاتا.فصل اچھی اور بمپر کراپ ہوتی ہے تو مارکیٹ میں کوئی لینے والا نہیں ہوتا، اسے پورا ریٹ نہیں ملتا. سرکاری گوداموں سے کسانوں کو گندم کا خالی باردانہ نہیں ملتا. کٹوتیاں لگتی ہیں. اگر خدا نخواستہ فصل کسی وجہ سے خراب ہو جائے یا پیداوار کم آنے کی وجہ سے مارکیٹ میں مانگ اور ریٹ بڑھ جائیں تو پھر طرح طرح کی پابندیاں لگا کر، ضلع بندی کرکے راستوں پر ناکے لگا کے کسانوں کی گندم کی ٹرالیوں کا رخ مارکیٹ سے سرکاری غلہ گوداموں کی جانب موڑا جاتا ہے.جبرا کم ریٹ پر گندم لیلی جاتی ہے.گذشتہ کچھ سالوں میں ہم یہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں اور دیکھ رہے ہیں. کسانوں کے دُکھوں کی داستان بہت طویل ہے. آج ہم گنے کے حوالے خصوصی بات کرنے چاہتے ہیں اس لیے باقی کو اگلے موقع اور ملاقات تک کے لیے رہنے دیتے ہیں
محترم قارئین کرام،، ایڈہک ازم کی سوچ اور اپنی مدت اور عدت پوری کرنے تک محدود سوچنے والے حکمران قومی زراعت اور کسانوں کا کچومر نکال رہے ہیں. کسانوں کا ماس نوچا اور خون چوسا جا رہا ہے. اس بات اور حقیقت کو شاید وہ بھول چکے ہیں کہ وطن عزیز ایک زرعی ملک ہے. اس کی معیشت کی بنیاد اور اس کی معشیت و انڈسٹری کا زیادہ انحصار زراعت پر ہی ہے. زراعت اور کسانوں کا گلہ گھونٹ کر، کسانوں کو رسی سے باندہ کر شوگر مافیائاور ٹیکسٹائل مافیاء کے سامنے پیش کرتے رہنے اور قربانی کا بکرا سمجھ کر ذبح کرنے کے عمل سے ملک اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے. چند سو گھرانوں کی ترقی اور خوشحالی کو قطعا قومی ترقی اور خوشحالی قرار نہیں دیا جا سکتا. حکمران اپنی قومی معیشت سدھارنا چاہتے ہیں برآمدات بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنی زرعی درآمدی و برآمدی پالیسی کا ازسرے نو جائزہ لے کر انہیں زراعت کسانوں اور ملکی معیشت کے لیے معاون بنائیں. ٹیکسٹائل مافیاء کو چار قسم کے ٹیکسز کی چھوٹ دے باہر کے ممالک سے انہیں روئی درآمد کرنے کی اجازت دینا کپاس کے کاشتکاروں اور مقامی جنرز کا سخت معاشی نقصان کرنے اور قومی زراعت دشمنی کے مترادف ہے. ایک طرف حکومت زیادہ کپاس اگاؤ مہم چلاتی ہے دوسری طرف زراعت دشمن اور احمق مشیروں کے کہنے پرکپاس کے کاشتکاروں کو نقصان پہنچانے والے احمقانہ فیصلے کرتی ہے.
میرے ضلع رحیم یار خان اور سرائیکی وسیب کو جوکہ پاکستان میں سب سے بڑا کاٹن زون ہے اسے قانونی اور غیر قانونی طور پر شوگر ملیں لگا لگا کر شوگر زون بنا کے رکھ دیا گیا ہے. ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے لیے جتنی کپاس کی اہمیت اور ضرورت ہے اتنی گنے کی ہرگز نہیں ہے.بس یہ شوگر انڈسٹری چند اجارہ دار گھرانوں کے گھر کا اسٹیٹ بنک اور خزانہ ہے. اسی وجہ سے کسانوں کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسوں کو نگلے جا رہا ہے.معاشی ڈکیتی کے ذریعے اربوں کھربوں کے نوٹ چھاپ رہا ہے. کوئی پوچھنے والا ہی نہیں. یہ ایک خطرناک ترین معاشی اژدھا بن چکا ہے. بغیر وردی والے ہر دور کے حکمران اس سے ڈرتے چلے آ رہے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں میں شوگر مافیا کا ہی ہولڈ ہے کسانوں کو لوٹنے کے لیے یہ سب باہم متفق و متحد ہے. یہی وجہ ہے کہ کسانوں کی شنوائی نہیں ہو پارہی. وردی والے اور گاؤن والے بھی چھپ ہیں.شاید کسانوں کی اپیلیں ردی کی ٹوکری سے ہوتی ہوئی دب تیلی کا شکار ہوکر جلی سڑی جا رہی ہیں.حکمرانوں کسانوں کی آہوں اور بددعاؤں سے ڈرو. کسان نے باہم متفق و متحد ہو کر جس دن کسی ایک اہم فصل کا بائیکاٹ کر دیا تو سب کی نکل چیخیں جائیں.شوگر ملوں کے یہ اڑانیں بھرتے جہاز بھی ریسٹ از بیسٹ پر عمل پیرا ہونے پرمجبور ہو جائیں گے.
آٹھ لاکھ ایکڑ گندم اور کپاس کاشت کرنے والا ضلع رحیم یار خان چار لاکھ ایکڑ تک آچکا ہے.یہ گنے کی زیادہ مٹھاس اور ریکوری کی وجہ ہے.یہاں بھی ایک اور ستم ظریقی ملاحظہ فرمائیں کہ اس زیادہ مٹھاس اور ریکوری کا کسانوں کو قطعا کوئی فائدہ نہیں مل رہا بلکہ اس کا تمام تر فائدہ شوگر ملز مالکان ہی اٹھا رہے ہیں. اسی لیے تو شوگر ملز مالکان نے لاہورہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرکے کئی سالوں سے لٹکایا ہوا ہے. جس میں گنے کیکسانوں کو بمطابق مٹھاس و ریکوری ریٹ دینے کا فیصلہ سنایا گیا تھا.گنے کا بنیادی کم ازکم جو ریٹ بنایا اور انوؤنس کیا گیا ہے. اس کی مٹھاس کی بیس و بنیاد اپر پنجاب کے اضلاع کی ریکوری کے پیش نظر رکھی گئی ہے. اپر پنجاب کی ریکوری آٹھ فیصد ہے جبکہ رحیم یار خان، راجن پور، بہاول پور، مظفر گڑھ اور سرائیکی وسیب کے دیگر اضلاع کے گنے کی ریکوری 9فیصد سے شروع ہو ساڑھے تیرہ چودہ فیصد تک ہے. ظلم تو یہ ہے کہ اب ایک ہی لکڑ سے سب کو ہانکا جا رہا ہے. یہ بہت بڑا دائمی استحصال ہے.کسانوں کو کب اور کیسے انصاف ملے گا.کون دے گا یا دلائے گا انصاف?
محترم قارئین کرام،، شنید اور افواہ یہی گردش کر رہی ہے کہ کسانوں کو ٹرخاؤ اور مل کے کھاؤ. موجاں کرو. ٹرخالوجی پالیسی کو بدستور جاری رکھو. کسان آہستہ آہستہ چھپ ہو ہی جائیں گے.زیادہ سے زیادہ جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھانے کے ان کے مطالبے پر کچھ عمل درآمد کروا دیا جائے گا مطلب یہ کہ شوگر ملوں سے نومبر کے پہلے اور دوسرے عشرے میں کرشنگ شروع کرنے کا اعلان کروا دیا جائے. اگر کسانوں کی ریٹ کے حوالے سے چیں چاں چوں چاں بند نہ ہو. مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے بعد اگر کسان بربادی مارچ کرنے کے لیے کسانوں کا اسلام آباد نکلنے کا خطرہ ہوتو پھر گنے کے ریٹ میں بیس روپے فی من تک کے اضافے کا اعلان کر دیا جائے.
کسان بچاؤ تحریک پاکستان ماہ اکتوبر میں ہی گنے کا ریٹ بڑھوانے کے لیے اسلام آباد میں بڑے احتجاج اور دھرنے کا فیصلہ کر چکی تھی. صرف موجودہ ملکی حالات کا احساس کرتے ہوئے، اپنے آپ کو سیاست اور سیاست دانوں سے الگ تھلک رکھ اپنا احتجاج مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کی وجہ سے 27اکتوبر کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا ہے. کیا ہی اچھا ہو گا کہ ملک کے لیے اتنا اچھا سوچنا والے کسانوں کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے موقع ہی نہ دیا جائے. حکومت ٹیکس خور شوگر انڈسٹری کو ڈنڈا دے کر گنے کا ریٹ 300روپے من کرنے کا اعلان کر دے.تبدیلی زندہ باد یا دب تیلی?
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com