کرتار پورراہداری اور مسئلہ کشمیر

کرتار پورراہداری اور مسئلہ کشمیر
سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک دیو جی برصغیر پاک و ہند کی وہ ہستی ہیں جو کہ اس خطے کے ہر مذہب کے ماننے والوں کے لیئے یکساں قابل احترام اور معتبر ہیں، سکھ مذہب میں مول منتر کو سب سے زیادہ مقدس سمجھا جاتاہے جس کا مطلب ہے کہ خداایک ہے، اس ہی کا نام سچ ہے اور وہی قادر و مطلق ہے، سکھوں کی بابا جی کے لیئے عقیدت و محبت کتنی ہے اس بات کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ بابا گرونانک کی ذات ہی ان کے لیئے وسیلہ ہے، تقسیم ہند کے وقت پاک بھارت کی سرحد سے تقریبا چھ کلومیٹر فاصلے پر موجود یہ مقام( گردوارہ ) پاکستان کا حصہ بن گیا اور یہ وہی جگہ ہے جہاں باباجی نے اپنی زندگی کے اٹھارہ سال گزارے اور اس ہی مقام پر وہ دنیا سے رخصت ہوئے، کرتار پور راہداری کھولنے سے جہاں دنیا بھر کے تما م سکھوں میں خوشی پائی جاتی ہے وہاں دنیا کے بہت سے ممالک نے پاکستان کے اس اقدام کو جرات مندانہ قدم کہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے کو بہت سراہا ہے یایوں کہیں کہ دنیا اس وقت عمران خان کو امن و محبت باٹنے والا لیڈ ر کہہ رہی ہے، جہاں پوری دنیا نے پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا وہیں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن نے بھی کرتارپورراہداری کھلنے کی بہت تعریف کی، کرتار پورراہداری ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی تعریف نفرتیں پھیلانے والے مودی کو بھی کرنی پڑی، اچھائی اور برائی کی جب بھی جنگ ہوئی ہے اس میں جیت ہمیشہ اچھائی اور حق کی ہوتی ہے، پاکستان نے سچے د ل اور جذبے کیساتھ کرتار پورراہداری کو کھولا جس سے نہ صرف سکھ کمیونٹی کی خوشیوں میں اضافہ ہوا بلکہ ایسے لوگوں میںبھی خوشی کی ایک تازہ لہر دوڑ گئی ہے جو پوری دنیا میں امن کے خواہاں ہیں ، جو محبتوں کو بکھیرنا چاہتے ہیں اور ان کی اولین ترجیح انسانیت ہے، رواں ماہ کی 9تاریخ کو کرتار پور اپنے پورے حسن و جمال کے ساتھ چمک رہا تھا ایسے میں سورج کی روشنی اس کے حسن میں چار چاند لگارہی تھی ،کرتار پور گوردوارے کی بائونڈری کے ساتھ ہی دودھا گائوں ہے، کرتار پور راہداری کھلنے کی خوشی میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد خوشی سے جھوم رہی تھی اور پاکستان سے چنیدہ لوگ بھی موجود تھے تو بھارتی صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی، کرتار پورراہدار ی سلسلے میں دو تقاریب کا انعقاد ہوا ، بڑی تقریب گوردوارہ کرتارپور اور دوسری تقریب ڈیرہ بابا نانک بارڈر کے پاس ، کرتارپور میں مذہبی رواداری کے تحت محبتوں کی نشانی جسے پاکستانی ماہرین نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچا کر جہاں حاضرین کو حیران کردیا وہاں پوری دنیا میں پاکستان کی جانب سے ایک محبت اور امن کا ایک ایسا پیغام گیا جس کو عالمی برادری نے بہت سراہا، کرتار پورراہداری کھولنا پاکستان کی طرف سے نفرتوںکے سوداگر اور مسلمانوں کے دشمن نریندر مودی کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی ، وزیراعظم عمران خان نے موجودہ حالات کے باوجود کرتار پور راہداری کو مکمل کر کے سکھ یاتریوں کی دلی تمنا پوری کی ، کشمیر میں حالات کی کشیدگی اور پوری دنیا میں کشمیر کے سفیر کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں جاری خون ریزی اور بھارتی دہشت گردی کو بند کروانے کے لیئے کوششیں کرنے والے انسان کے لیئے یہ فیصلہ لینا نہایت مشکل تھا کیونکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں کرتار پور منصوبے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو بہت سارے سوالات کا سامنے کرنا پڑتا ، اس ساری صورتحال کو بھانپتے ہوئے عمران خان نے ایک تیر سے دو شکار کردیئے ، کرتارپور راہداری کا افتتاح کر کے جہاں انہوں نے پوری دنیا کو یہ بتا یا کہ پاکستانی امن پسند قوم ہے تو وہیں کشمیریوں کے حقوق اور ان کی سیاسی آزادی کا ذکر بھی نہیں بھولے ،تقریب سے خطاب میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے اسی لاکھ عوام پر نو لاکھ بھارتی فوجیوں کی نشاندہی کی، تین ماہ سے جاری کرفیو اور وہاں کے باشندوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے بالکل بجا فرمایا کہ کشمیر اب زمین کے ایک ٹکڑے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے، کشمیری عوام ایک ٹکڑے کے لیئے نہیں بلکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ، عالمی دنیا کو اس وقت کشمیر کی آزادی اور ان کے حقوق کے لیئے مودی حکومت کو ڈائیلاگ کے لیئے آمادہ کرنا ہوگا، اب ہونا تویہ چاہیے کہ نریندر مود ی جوکہ پوری دنیا میں نفرتوں کے سوداگر کے نام سے مقبول ہیں ، وہ بھی ایک زیر ک سیاستدان ہونے کا ثبوت دیں اور پاکستان کی حکومت کی طرح جرات مندانہ فیصلہ کریں اور کشمیر کی بنیادی حیثیت کی بحالی کے ساتھ ساتھ وہاں سے بھارتی فوج کو واپس بلا کر معمولات زندگی کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کریں ، پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے اٹھائے گئے ہر قدم کے بدلے میں بھار تی ہندوازم اور انتہا پسند بی جے پی حکومت نے ہر وہ کام کیا جس سے خطے کے استحکام ، سلامتی اور امن و امان خراب ہونے کیساتھ انتشار کا خدشہ پیدا ہو، بھارت نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو انصاف کے تقاضوں ، کشمیریوں کی خواہش اور پاکستان سے مشاورت سے حل کرنے کے بجائے نا انصافیاں کیں اور ظلم وجبر کی بد ترین مثالیں قائم کیں ،بھارتی حکمران فی الحال تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدگی کا مظاہر ے کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے لیکن حالات جس سمت بڑھ رہے ہیں اس سے یہی انداز ہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں بھارتی حکمرانوں کو راہ راست پر آنا پڑیگا کیونکہ بھارت کی جانب سے اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی سے بھارت میں بسنے والی اقلیتوں اور امن پسند لوگوں کے دلوں میں جو لاوا اس وقت ابل رہا ہے وہ بہت جلد ایک ایسی طاقتور تحریک میں بدل جائے گا جس سے بھارت میں حقوق اور آزادی کی ایسی جنگ مچے گی جو خون کی ندیاں بہا دے گی اور بھارت کے بہت سارے ٹکڑے ہوجائیں گے یا پھر تمام اقلیتی و اکثریت کے لوگ آپس میں امن و امان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں گے اور یہی تحریک مقبوضہ کشمیر کو ان کا سیاسی حق دلوانے میں اہم کردار ادا کر یگی، ظلم ، طاقت کے ناجائز استعمال اور جارحیت نہ صرف بھارتی حکمرانوں کو لے ڈوبے گی بلکہ یہ روش بھارت کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے اور تاریخ اس با ت کو ثابت کریگی کہ عدل و انصاف اور رواداری سے ہی ریاستیںو حکومتیں قائم رہ سکتی ہیں اور چل سکتی ہیں ،۔ ختم شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com