کرتارپور راہداری امن کی جانب ایک قدم

کرتارپور راہداری امن کی جانب ایک قدم
محمد عابد زید
وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا دروازہ کھول کے تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے ۔پاکستان کے اس شاندار کارنامے پر دنیا بھر میں سکھ مذہب سے وابستہ یاتریوں نے بے پناہ اظہار مسرت کیاہے اور وزیر اعظم کی امن کوششوں اور خیر سگالی کے جذبے کو سلام پیش کیا ہے۔افتتاحی تقریب گوردوارے کے احاطے میں منعقد ہوئی جس میں بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو ، فلمسٹار سنی دیول سمیت وفاقی وصوبائی وزرا، ممتاز سکھ مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔بلاشبہ پاکستان نے ایک ریکارڈ مدت میں کرتارپور راہداری اور گوردوارہ دربار صاحب کی تعمیر مکمل کرکے سکھوں کو دنیا کاسب سے بڑا گوردوارہ تحفہ میں دیا ہے ۔ دوسری جانب بھارتی عدالت عظمی نے فیصلہ سناتے ہوئے با بری مسجد پر مندر تعمیر کرنے کا اعلان کر کے انصاف کا قتل کیا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ جس دن پاکستان نے سکھ برادری کو راہداری دینا تھی بھارتی مذموم عزائم اس روز بھی چھپے نہ رہ سکے۔خطے میں امن واستحکام ، مذہبی رواداری اور انسان دوستی کا پیغام اپنے سفر کی نئی شاندار روایتوں کے تناظر میں کرتارپور راہداری کا بہترین استعارہ ہے۔ وزیراعظم کا اس موقع کی مناسبت سے یہ کہنا مناسب ہے کہ آج کا دن خطے کے امن کے لیے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کرتارپور راہداری کی تکمیل ایک کمٹمنٹ تھی اور اسے متعدد مشکلات کے باوجود مکمل کیا گیا یہ سکھ برادری سے کیا گیا وعدہ تھا جس کی تکمیل کی گئی۔سکھوں کے مقدس ترین رہنما بابا گرو نانک کے 550ویں یوم پیدائش پر پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری سکھ یاتریوں کے لیے کھولنے پر سوشل میڈیا پر بھی جشن کی سی کیفیت ہے۔ بلاشبہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کا اصل چہرہ، جہاں ہم بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کو قائداعظم محمد علی جناح کے تصور کے مطابق عملی شکل دیدی ہے ۔ کرتارپور وزیراعظم اور فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کا ایک تاریخی اور قابل تعریف اقدام ہے۔ ایک نئے دورکے آغاز کا دن ہے۔ بابا گورونانک جی کا دور، عظیم مغل خاندان کے بانی ظہیر الدین بابر کا دور تھا۔ بابر نے 1526ء میں پانی پت کی پہلی لڑائی میں ابراہیم لودھی کو شکست دی۔ اس وقت بابا گورونانک جی زندہ تھے اسی کرتارپور کے گاؤں میں بابا جی نے 18برس تک قیام کیا اور ان کا انتقال بھی یہیں ہوا۔ یہ گورو دوارہ 8برس کی مدت میں 1929ء میں مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ کے ہاتھوں پایہ ء تکمیل کو پہنچا۔ آج تقریباً ایک صدی (90برس) بعد نہ صرف اس کی تزئینِ نو کی گئی ہے بلکہ اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ یہ گورودوارہ جو پہلے صرف 42ایکڑ میں تھا، آج 420ایکڑ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اس گورودوارہ کے درشن کو 5ہزار سکھ یاتری روزانہ آیا کریں گے۔ سکھوں کی آبادی اب صرف انڈیا میں نہیں، ساری دنیا میں پھیل چکی ہے اور وہ ایک طاقتور طبقہ ء آبادی بن چکے ہیں۔ اب ہماری حکومت کا بھی یہ حق بنتا ہے’’ اس ہاتھ دو اور اس ہاتھ لو ‘‘ کے بین لاقوامی اصول پر عمل کرتے ہوئے جس طرح سکھوں کو ان کے مذہبی مقامات کی زیارتوں کی اجازت دے رکھی ہے، اسی طرح بھارت بھی پاکستانیوں کو انڈیا میں موجود مسلم اولیائے کرام کی درگاہوںکی زیارتوں کی اجازت دے اور پاکستانی زائرین کی بھی ایک بڑی تعداد کو ان ہندوستانی شہروں کا رخ کرنا چاہیے۔اگر بھارت اجازت نہیں دے گا تو دنیا میں اس کی رسوائی تو ایک لازمی حقیقت بن جائے گی۔ جب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان ہندوستانی سکھوں کو تو اپنے ہاں آنے اور مقدس مقامات کی زیارتیں کرنے کی اجازت دے رہا ہے لیکن مودی حکومت نے پاکستانی مسلمانوں کی بھارت میں آنے پر بے جا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تو بھارت کا یہ اقدام سکھ برادری کو اپنی حکومت سے دور لے جا سکتا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور کے تمام منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی محنتی ہے۔انہوں نے کہا میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے، جسے ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے‘، میں نے یہی کچھ نریندر مودی سے کہا تھا لیکن اب یہ مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، ’80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے انہیں 9 لاکھ فوج سے بند کیا ہوا ہے، اس وقت یہ انسانیت کا مسئلہ ہے یہ زمین کا مسئلہ نہیں، زبردستی ان کا وہ حق لے لیا ہے جو اقوام متحدہ کی قرادادوں نے انہیں دیا تھا۔ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف سے امن ہوتا ہے، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور سارے برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں۔عمران خان نے کہا کہ اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان 70 سال سے نفرتیں ہیں، جب کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا، ان کے حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی اور وہ دن اب دور نہیں ہے۔نوجوت سنگھ سدھو نے خطاب میںشاعرانہ انداز میں عمران خان کی تعریف کی اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج تاریخ رقم کر دی، سکندر اعظم نے اپنی طاقت سے دنیا فتح کی، عمران خان آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں، عمران خان نے سکھ برادری پر جو احسان کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ تاہم سکھ یاتری آزادانہ اور پْرامن ماحول میں خوش اسلوبی سے امیگریشن کا عمل مکمل کرنے کے بعد باحفاظت گوردوارہ دربار صاحب پہنچے تھے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ اور 20 ڈالر فیس کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل تھا۔یہی نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی جانب سے دْنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے وسیع پیمانے پر لنگر اور قیام کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com