کتاب گھر اور کتاب

عمران امین
دین الٰہی کاپہلا پیغام اپنے پیارے محبوب کے نام”اپنے رب کے نام سے پڑھ“۔محبوب بھی ایساجو مکمل عجمی یعنی ”چٹا ان پڑھ“۔عجیب بات ہے کہ خالق کائنات اور حاکم الحاکمین جو ہر بات کے نکتہ آغاز سے انجام تک کے بارے میں علم رکھتا ہو۔جوعلم کا ماخذ،ابتدا اُور انتہا ہو اُور اُس کے علم کی بھی کوئی حد نہیں۔فرشوں پر کیے گئے فیصلے،عرشوں کے اسرار ورموز،فرشتوں کی چہ مگوئیاں،جنات کی کارستانیاں،انسانوں کی حشر سامانیاں،چرند پرند کے معاملات غرضیکہ کائنات ایک شیشہ کی مانند اُس کے سامنے ہے۔مگر محبوب چُنا تو۔۔۔مکمل ”ان پڑھ“۔پھر اُس کو کہا کہ اب اُٹھو اور علم کے چراخ کو اپنے سینے میں جلاؤ اور ساری دنیا کو اس کی روشنی سے منور کر دو۔نبی پاکﷺ نے فرمایا ”علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے“۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں زیادہ تر نومسلمان غلام اور ان پڑھ تھے۔آپ ﷺ کو علم کی اہمیت کا اندازہ تھا اسی لیے مختلف جنگوں میں پکڑے جانے والے کفارقیدیوں کو آپﷺ نے صرف چندمسلمانوں کو پڑھانے کے عوض رہائی بھی دی۔یہ حکمت عملی دراصل علم کی حاکمیت کا واضع ثبوت تھی۔اسی طرح ہمارے اسلاف بھی تمام عمر علم کی تلاش میں در بدر بھٹکتے پھرے۔جہاں خبر ملتی کہ علم کا سمندر بہہ رہا ہے وہاں کا رختہ سفر باندھ لیتے۔ خدمت کرتے،مشقت اُٹھاتے، جان جوکھوں کے مراحل سے گزرتے،عبادتیں اور ریاضتیں کرتے اور یوں علم کے موتی اکھٹے کر تے ہوئے اپنی زندگیاں دوسروں کے لیے وقف کر کے، اگلے جہاں کا سفر اختیار کر لیتے۔ اگر ہم اپنی تاریخ کو پڑھیں تو پتا چلتا ھے کہ امام غزالی،الفارابی،ابن سیناء،ابن رُشد،ابن خلدون،ابن الہیثم،جابر بن حیان اور دیگر مسلم اکابرین کی تحقیقات اُورلکھی ہوئی کُتب، آج دنیا کے مختلف ممالک میں باقاعدہ نصابوں میں شامل ہیں اُور بڑی بڑی تعلیمی درسگاہوں کی لائیبریریوں کا حصہ بن کر اپنا علمی فرض ادا کر رہی ہیں۔یہ تو گئے وقتوں کی بات ہے جب لوگ علم حاصل کرنے کے لیے مشقتوں اور مصیبتوں والا ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے اپنی علمی تشنگی پوری کرتے اوریوں باقی کی زندگی دوسروں میں علم پھیلاتے گزار دیتے۔مگرآج کے اس دور میں جب جدید ٹیکنالوجی نے ہر چیز کو آپ کی دسترس میں دے دیا ہے اور صرف ایک کلک سے ساری دنیا کی وسعتیں سمٹ کر آپ کے سامنے بے نقاب ھو جاتی ہیں۔اب علم کے خزانے منہ کھولے پڑے ہیں ”کوئی تو راہزن بن کر آئے اور ہمیں رزق شب کر لے“۔مگر افسوس آج نہ توعلم سے محبت نظر آتی ہے، نہ ہی علم والے سے اور نہ ہی کتاب سے۔”کتاب انسان کی بہترین دوست ہے“۔یہ وہ جملہ ہے جو ہم اپنے بچپن سے سنتے آرہے ہیں۔کتاب کی اہمیت کو بیان کرتے ھوئے ایک مشہور فلاسفر نے کچھ یوں کہا تھا ”کوٹ(کپڑا ) چاہے، پُرانے پہن لو مگر کتاب ہمیشہ نئی خریدو“۔آج یہ حالت ہے کہ لوگ کتاب خریدنے کی بجائے مانگ کر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔پاکستان میں اکثر کتابیں پرنٹنگ کے بعد کثیر تعداد میں دُکانوں پر پڑی گاہکوں کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ نئی ٹیکنالوجی نے مطالعہ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہر گھر میں صبح کا آغاز اخبار کے مطالعہ سے ہوتا تھا۔ ماہانہ رسالے اور میگزین ہر گھر کی ز ینت اور اہل خانہ کی ضرورت اور شوق ھوتااُور اسی باعث اُن دنوں لوگوں میں اچھی سوچیں پروان چڑھتی تھیں۔سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ اُور درد کو سانجھا سمجھتے تھے۔پیار و محبت،امن وسکون اور بھائی چارے کاماحول تھا۔ گھروں میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی اُور اسی تربیت کے سبب چھوٹے اپنے بڑوں کی عزت کرتے تھے۔معاشرے کے افراد مطالعہ کی عادت سے اچھے اخلاق کے مالک بن گئے۔اُنھوں نے دوسرے انسانوں کے جذبات کی قدر کرنی سیکھی۔کُتب کے مطالعہ سے وہ زندگی کی تلخیوں کو سہنا اور اُن پر ردعمل دینا سیکھتے اُور یوں اپنے کردارو گفتار کو ایک مہذب شکل میں ڈھالتے اُورصرف مطالعہ کتب کے اس ایک عمل سے دنیا رہنے کے لیے ایک جنت بن گئی۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کے ا س تلخ و شیریں سفر میں کتاب ایک اچھا اور بہترین ہمسفر ہے جو نامساعد حالات میں قاری کواپنی بے پناہ وسعت میں لے کر زندگی کے روشن پہلو دکھاتا ہے ُاور اس کی آگے بڑھنے کی تمنا مسلسل بیدار رکھتا ہے۔کتابیں انسان کو زندگی کے اسرار سمجھنے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ اُس کی شخصیت میں نکھارا ور سوچ میں وسعت پیدا کرتی ہیں۔دراصل کتاب سے دوستی”انسان سے دوستی“ کی طرف پہلا قدم ہے۔اس بات میں پوری سچائی ہے کہ جن اقوام نے اپنے اسلاف اُور علماء کے اذکار اُور تحریروں کی حفاظت کی اُور اپنا تعلق کتاب سے جوڑے رکھا،وہ آج ترقی کی منازل طے کر کے دنیا میں مادی اور انسانی بنیادوں پر اُونچے مقام پر کھڑی ہیں۔ پُرانے وقتوں میں ایک دوسرے کو دستخط شدہ کتابیں تحفے میں دی جاتی تھیں، خصوصی طور پر بچوں کو اچھی کارکردگی پر سکولوں سے یا اساتذہ کی جانب سے اور گھر والوں کی طرف سے کتابیں انعام کے طور پر دی جاتی تھیں اور اس طرح اُن میں کتاب سے تعلق اُور محبت کا جذبہ پیدا کیا جاتا تھا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتاب ایک ایسی دنیا ہے کہ جس کے باسی صدیوں لمبی عمر پاتے ہیں۔آدم ؑکی غلطی ہویا اماں حواکی پیدائش،نمرود کی آگ ہو یا حضرت ابراہیم کا معجزہ،فرعون کا دربار ہویا حضرت موسی کا عصاء،حضرت یوسف کا حسن ہویا زلیخا کی محبت،حضرت مریم کا معجزہ ہو یا حضرت عیسیٰ کی تبلیغ،حضرت محمدﷺ کی سچائی ہویا ابوجہل کی دروغ گوئی۔یہ سب آج صرف اس لیے زندہ ہیں کہ”کتاب محفوظ“ میں ان کا ذکر موجود ہے۔کتاب کی اہمیت کا ندازہ اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قدرت نے بھی انسان کو سمجھانے اور سکھانے کے لیے ایک کتاب یعنی قرآن کاہی سہارا لیا۔مسلمانوں نے جب تک اپنا تعلق کتابوں سے جوڑے رکھا، وہ شان و شوکت سے اس دنیا پر حکمران رہے اور اس دوران تہذیب و تمدن کے نئے رنگ سے اس دھرتی کو روشناس کرایا۔مگر جب اُن کی دلچسپی کُتب خانوں سے طاؤ س و رُباب اور زنان خانوں کی جانب ہوئی تو پھر ایسے زوال پذیر ہوئے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اُن کے لیے موجودہ وقت میں اپنے ماضی پرفخرکرنے کے علاوہ کوئی نئی بات یا کام نہیں۔مطالعہ کُتب کے حوالے سے، دنیا کے کامیاب اور اہل علم افراد کے چند فرمودات حاضر خدمت ہیں۔ الفارابی فرماتے ہیں ”تیل کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں اکثررات کو چوکیداروں کی قندیلوں کی روشنی میں کھڑے کھڑے کتاب کا مطالعہ کرتا تھا“۔انگریز شاعر شیلے کہتا ہے”مطالعہ ذہن کو جلا دینے اور اُس کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے“۔امریکی صدر ابراہیم لنکن کہتے ہیں ”کتابوں کا مطالعہ ذہن کو روشن کرتا ہے“۔والٹیئر کا قول ہے” وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں“۔یہ تو دنیا کے نامورلوگوں کاکتاب کی اہمیت اور مطالعہ سے محبت کے بارے میں اظہار رائے ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے”جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں،وہاں کے ہسپتال ویران ہوجاتے ہیں اور اسی طرح جس ملک میں کُتب خانے آباد ہوں،وہاں جیل خانے ویران ہو جاتے ہیں“۔اچھے اور بہترکُتب خانے لوگوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنے کا بڑا سبب ہوتے ہیں۔اچھے اساتذہ بھی ہمیشہ بچوں کو کُتب بینی کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔مگر افسوس کہ اب والدین اور اساتذہ کی جانب سے بچوں کو مطالعہ کُتب کی طرف راغب کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ ہم اگر اپنے ملک کے موجودہ حالات کو دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کہ یہاں نہ تو نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان موجود ہیں اور نہ ہی علم کے گھر یعنی کُتب خانے یا لائیبریریاں۔کُتب بینی کے کم ہوتے رجحان کو بڑھانے اُور کُتب خانے کی تعدادمیں اضافہ کرنے کی طرٖ ف تو ماضی میں کسی بھی حکومت نے کبھی توجہ نہیں دی۔نوجوان نسل، جو ہر معاشرے کی اُمید اور رُوشن کل کی امین ہوتی ہے چنانچہ ُاس کی تعلیم و تربیت پر ہر معاشرے میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مگر پاکستان کی نوجوان نسل شتر بے مہارکی مانند اپنی مذہبی اساس سے لاعلم، کردار کی پختگی اور تربیت سے نابلد اور اخلاقیات سے عاری ایک غیر منظم گروہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس نوجوان نسل کو اگر درست سمت نہ دکھائی گئی اور ان کی رہنمائی نہ کی گئی تو یہ ملک و قوم کیلئے مشرقی پاکستان سے بھی بڑا سانحہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تعلیمی درس گاہوں میں اب استاد باپ نہیں دوست نظر آتے ہیں۔ طالب علموں کے ہاتھوں میں کتاب کی جگہ موبائل فون نظر آتے ہیں۔ ملی نغموں اور نعتوں کی جگہ فلمی گانے ہونٹوں کی زینت ہیں۔ باکردار اور بلند اخلاق طالب علموں کی جگہ بھانڈ، میراثی، جگت باز، اداکار اور گلوکار طالب علموں کی کھیپ تیار ہورہی ہے۔بد قسمتی سے اس صورتحال میں ہمارے تعلیمی اداروں کی عزت و حرمت کا جنازہ جلد پڑھا جانے والا ہے۔جب نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع نہیں ملیں گے تو وہ بچارے ناچ گانے،فیشن، بناؤ سنگھار اور دیگر غیر صحت مند سرگرمیوں میں مشغول ہو کر اپنا قیمتیوقت اُورصلاحیتوں کو ضائع کریں گے۔زمانے کی الجھنوں سے فرار کا راستہ تلاش کرتے ہوئے وہ کبھی نشہ کی لعنت کا شکار ہو گا،کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ دار بنے گا،کبھی دہشت گردوں کو اپنا ہمدرد سمجھ کر ملک کی سلامتی سے کھیلے گااور یوں جو صلاحیت ملک کی فلاح کے کام آنا تھی، وہ ضائع ہوکر خلفشار اُور ذہنی تناؤ کا باعث بن جائے گی۔ دنیا میں سرخرو ہونے اور روزگار کے حصول کے لیے ہم نے اُن قدروں کو اپنا لیا ہے جن کی بدولت ہم”،ہم نہ رہے،”نہ تین میں نہ تیرہ میں“اُور”آدھا تیتر،آدھا بٹیر“ کی عملی تصویر بن گئے۔ جو ہم بننا چاہتے تھے وہ آج تک نہ بن سکے۔چنانچہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ کتاب سے دوستی ہی ہمارے موجودہ زوال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔لیکن سردست یہ کام قومی سطح پر کسی مشترکہ کوشش کے امکان سے خالی نظر آتا ہے۔حکومت بھی اپنے دیگر سیاسی اور خانگی معاملات میں الجھی ہوئی ہے اور اُس کی ترجیحات میں ”کتاب اُور کُتب خانہ کی اہمیت“ دور دور تک کہیں نظر نہیں آتی۔اب انفرادی طورپرہمیں ارادہ کرنا ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کی طرف سفر تب شروع ہوگا جب اس کام کا آغاز اور انتظام ہر گھر کی سطح پر کیا جائے گا۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھروں میں کتاب پڑھنے کا کلچر دوبارہ زندہ کریں اور خصوصی طور پر اپنے بچوں میں کتاب سے محبت کواُبھاریں اور اُن کا کتاب سے تعلق مزید مضبوط بنائیں۔یہ نئی نسل ہی ہمارے روشن کل کی نوید اور اُمید ہے،آج ان پر کی گئی محنت کا ثمر کل کی نسلیں کھائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت وقت سے بھی گذارش ہے کہ نئی نسل میں کتاب سے رغبت پیدا کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی بنائی جائے۔پرنٹرز اُور پبلشرز کو سہولیات فراہم کی جائیں،اس کے ساتھ ساتھ لکھنے والوں کو بھی معقول معاوضہ ادا کیا جائے۔اگر نئی کُتب کی اشاعت میں پرنٹر، مصنف اور پبلشر کو مالی سہولتیں ملیں تو یقیناً اچھی اور معیاری کتابوں کی اشاعت ممکن ہو سکے گی۔دنیا کے دیگر ممالک،انفاریشن ٹیکنالوجی کے بڑھتے ھوئے اثرات کااندازہ کرتے ہوئے اپنے لوکل پبلشرز اُور مصنفین کو سہولیات فراہم کرتی ہیں تاکہ مارکیٹ میں تسلسل کے ساتھ نئی کتابیں آتی رہیں ُاوریوں لوگوں کا مطالعہ کُتب کا رجحان کم نہ ہونے پائے۔ مزید برآں حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر کُتب خانوں میں اضافہ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم بحثیت ایک قوم کے اپنیزوال سے عروج کا سفر جلد شروع کر سکیں۔اگراس سلسلے میں حکومت جلد اچھا فیصلہ کرتی ہے تو یقین جانیئے وہ دن دُور نہیں جب ہمارے وطن سے جہالت،لا علمی اورکوتاہ اندیشی کی یہ تاریک رات ایک رُوشن اور اُجلی صبح کی نوید سُنائے گی۔وقت قریب ہے بس ارادہ کرنا باقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com